BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 May, 2007, 19:35 GMT 00:35 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’پولیس قاتل بچانے کے لیے وہاں تھی؟‘
 

 
 
حماد رضا کی میت
حماد رضا جسٹس افتخار کے دور میں بلوچستان سے اسلام آباد آئے تھے
سپریم کورٹ کے مقتول ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے والد سید امجد حسین نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کے گھر سے پیسے یا قیمتی سامان لوٹنا تو دور کی بات ہے قاتلوں نے تو رقم کے بارے میں پوچھا تک نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید امجد حسین نے کہا کہ قاتلوں نے حماد کے ماتھے پر گولی ماری تھی اور جب حمادگرگئے تو حملہ آور چلے گئے۔ ان کے بقول وہ صرف حماد کو قتل کرنے کے لیے آئے تھے۔

حماد رضا کی رسم قل منگل کو لاہور میں ادا کی گئی جس میں سیاست دانوں، وکلاء رہنمائوں اور سرکاری حکام سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

ستر سالہ سید امجد حسین زمیندار ہیں اور ان کا تعلق لاہور کے نواحی علاقے شرقپور کے قصبہ مترد ہ سے ہے۔ حماد کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ مقتول علاقے کے پہلے شخص تھے جنہوں نے سول سروس میں کامیابی حاصل کی اور ڈسٹرکٹ مینجمینٹ گروپ میں گئے۔

حماد کے والد کا کہنا تھا کہ جب ان کے بیٹے کا قتل ہوا تو پولیس کی ایک گاڑی گھر کے باہر کھڑی تھی اس گاڑی میں پانچ مسلح اہلکار تھے جن میں سے تین گاڑی کے باہر کھڑے تھے۔

ان کے بقول ان کے بیٹے کے قاتل گھر سے باہر کھڑی پولیس کی موجودگی میں فرار ہوئے لیکن پولیس کچھ نہ کرسکی ۔’وہ کیسے پولیس والے تھے جن کے سامنے قاتل فرار ہوگئے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں وہ پولیس کے بیان کردہ موقف پر کس طرح مطمئن ہوسکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پولیس والوں کے پاس اسلحہ تھا اور وہ فائرنگ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا حالانکہ پولیس اہلکار تعاقب کرکے ان کو (قاتلوں کو) گرفتار کرسکتے تھے۔ مقتول کے والد نے سوالیہ انداز میں کہا کہ پولیس ڈیوٹی دے رہی تھی یا پھر قاتلوں کو بچانے کے لیے وہاں موجود تھے۔

ان کے بقول جب حملہ آور نےگولی چلائی تو حماد کا ایک ہمسایہ دیوار پھلانگ کر داخل ہوا اور اس نے پولیس والوں کو اندر آنے کو کہا لیکن پولیس والے اپنی جگہ کھڑے رہے۔


سید امجد حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تمام جج تعزیت کے لیے آئے تھے اور انہوں نے میری تمام بات سنی ہے۔ سپریم کورٹ قاتلوں کی گرفتاری کے لئے کوشش کررہے ہے اور مجھے سپریم کورٹ پر اعتماد ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس رانا بھگوان داس نے ان کو پیش کش کی تھی کہ حماد جس سرکاری اقامت گاہ میں رہتے تھے ان کے گھر والے اس رہائش گاہ کو استعمال کرسکتے ہیں۔

حماد رضا کے والد نے کہا کہ ان کے بیٹے نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جس سے یہ معلوم ہو کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔ حماد ہمیشہ حوصلہ کی باتیں کرتا تھا۔

پاکستان بار کونسل کی فری لیگل ایڈ کمیٹی کے سربراہ رمضان چودھری کے بقول انسانی حقوق کے معاملات پر چیف جسٹس پاکستان کے احکامات کی روشنی میں حماد رضا ہی کمیٹی سے رابطہ کرتے تھے۔

حماد رضا اپنے والدین کے اکلوتے صاحبزادے تھے اور اہلِ خانہ کے مطابق بڑی منتوں مرادوں کے بعد شادی کے آٹھ برس بعد پیدا ہوئے تھے۔

 
 
اسی بارے میں
فل کورٹ میں سماعت آج سے
14 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد