BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 May, 2007, 04:08 GMT 09:08 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
حماد رضا کا قتل: پولیس کی پیشی
 

 
 
حماد رضا کی میت
حماد رضا جسٹس افتخار کے دور میں بلوچستان سے اسلام آباد آئے تھے
اسلام آباد پولیس کے اہلکار آج دستیاب ریکارڈ کے ساتھ عدالتِ عظمیٰ میں پیش ہوں گے اور سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے قتل کے بارے میں تفتیش سے عدالت کو آگاہ کریں گے۔

گزشتہ روز حماد رضا کے قتل کے بعد عدالتِ عظمیٰ کے جج جسٹس جاوید اقبال نے اسلام آباد پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ منگل کو عدالت میں پیش ہوں۔

نامعلوم مسلح افراد نے پیر کو علی الصبح حماد رضا کو اسلام آباد میں ان کے گھر پرگولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق سید حماد رضا کو سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ اے ایف پی نے اسلام آباد پولیس کے افسر محمد اسلم کے حوالے سے بتایا کہ’نامعلوم مسلح افراد حماد رضا کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں گولی مار کر قتل کر دیا‘ ۔


سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کے قتل کے محرک کا فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا ہے اور پولیس اس قتل کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حماد رضا جسٹس افتخار محمد چودھری کے ایک انتہائی اہم گواہ تھے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل نے کہا کہ ان کو پتہ تھا کہ سرکاری ادارے حماد رضا پر دباؤ ڈال رہے تھےاور ان سے حکومت کے مقدمے کے حق میں کچھ کہلوانا چاہتے تھے جو شاید وہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔

حماد کی بیوہ نے کہا کہ حملہ آووروں کا مقصد چوری نہیں تھا

طارق محمود نے کہا کہ نو مارچ 2007 کے بعد خفیہ اداروں کے اہلکار کئی بار حماد رضا کو اٹھا کر لےگئے اور ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے ہیں۔ طارق محمود نے کہا کہ پچھلے دو مہینے حماد رضا کے لیے انتہائی تکلیف تھے اور اب کو قتل کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حماد رضا سپریم کورٹ کے اہلکاروں میں شامل تھے جن سے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد حکومتی اداروں نے پوچھ گچھ کی تھی۔

حماد رضا ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے اور بلوچستان حکومت میں کام کرتے تھے اور جب جسٹس افتخار محمد چودھری نے پاکستان کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا تو انہیں ڈیپیوٹیشن پر اسلام آباد لایا گیا تھا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کو پیر کی شب لاہور کے ایک قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔

مرحوم کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی گئی جس میں سرکاری حکام اور وکلاء رہنماؤں سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نے شرکت کی۔

حماد رضا کی میت پیر کی شب موٹر وے کے راستے اسلام آباد سے لاہور لائی گئی تھی۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد