BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
حماد رضا قتل، تحقیقات شروع
 

 
 
حماد رضا کی میت
حماد رضا جسٹس افتخار کے دور میں بلوچستان سے اسلام آباد آئے تھے
اسلام آباد کے ڈسٹرک اینڈ سیشن جج مرزا رفیع الزمان نے سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد امجد رضا کے قتل کی عدالتی تحقیقات شروع کردی ہے۔

ڈسٹرکٹ جج نے جمعرات کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں واقع مقتول کی رہائش گاہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور جمعہ کو بعض متعلقہ پولیس اہلکاروں کے بیان قلمبند کیے جائیں گے۔


حماد رضا کے ساتھیوں نے ہائی کورٹ کے جج سے جانچ کا مطالبہ کیا تھا لیکن وزیراعظم کی ہدایت پر بدھ کو حکومت نے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو عدالتی تحقیقات کے لیے نامزد کیا تھا۔

حماد رضا کو چودہ مئی کی فجر کے وقت نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر قتل کردیا تھا۔ مقتول کے اہلیہ اور والد نے کہا تھا کہ یہ ایک ’ٹارگٹ کلنگ‘ ہے جبکہ پولیس نے واقعہ کے فوری بعد کہا تھا کہ ان کا قتل ڈکیتی کی واردارت کے دوران ہوا ہے۔

مقتول کے اہل خانہ نے پولیس کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ڈکیتی ہوتی تو قاتل گھر سے کوئی چیز لوٹے بنا کیسے چلے گئے۔

 واضح رہے کہ حماد رضا بلوچستان میں تعینات تھے اور انہیں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ مں تعینات کیا تھا۔ چیف جسٹس جب اپنے سٹاف افسر کے قتل کے فوری بعد ان کے گھر پہنچے تھے تو حماد رضا کی اہلیہ نے کہا تھا کہ ان کے شوہر کو چیف جسٹس کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔
 
حماد رضا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے سٹاف افسر تھے اور چیف جسٹس کے وکلاء نے کہا تھا کہ مقتول چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ایک اہم گواہ تھے۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے بھی’ٹارگٹ کلنگ‘ کے متعلق مقتول کے اہل خانہ کا موقف رد کرتے ہوئے ڈکیتی کے دوران قتل کے پولیس کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول کے گھر سے زیوارت اور نقدی بھی لوٹی گئی ہے۔ جبکہ اہل خانہ نقدی اور زیوارت کے لوٹنے کی سختی سے تردید کرچکے ہیں۔

اس بارے میں جب قتل کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے سربراہ ایس پی اشفاق احمد سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ تفتیش مکمل ہونے تک کچھ نہیں کہہ سکتے۔

حکومت، پولیس اور مقتول کے اہل خانہ کے متضاد موقف سے حماد رضا کے قتل کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

تین بچوں کے والد حماد امجد رضا کا تعلق ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ یعنی ڈی ایم جی سے تھا اور اس گروپ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی تنظیم نے ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اسلام آباد میں ڈی ایم جی ایسو سی ایشن کے بدھ کو منعقد کردہ اجلاس میں ٹاپ گریڈ کے کچھ حاضر سروس افسران کے ساتھ ساتھ مختلف گریڈوں کے سینیئر افسران شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دن دیہاڑے ایک ایماندار افسر کے قتل سے ان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور اگر ان کے قاتلوں کو سزا نہیں ملی تو بیورو کریسی کے لیے فرائض سرانجام دینا مشکل ہوگا۔

 اسلام آباد میں ڈی ایم جی ایسو سی ایشن کے بدھ کو منعقد کردہ اجلاس میں ٹاپ گریڈ کے کچھ حاضر سروس افسران کے ساتھ ساتھ مختلف گریڈوں کے سینیئر افسران شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دن دیہاڑے ایک ایماندار افسر کے قتل سے ان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور اگر ان کے قاتلوں کو سزا نہیں ملی تو بیورو کریسی کے لیے فرائض سرانجام دینا مشکل ہوگا۔
 
وفاقی سیکریٹریٹ کے افسران نے حماد رضا کے قتل کی تفتیش کو مانیٹر کرنے کے لیے جہاں کمیٹی بنائی ہے وہاں یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ ہر پیر کے روز سیاہ پٹیاں بنادہ کر دفتر آئیں گے۔

ادھرصوبہ پنجاب کے صدر مقام لاہور میں بھی ڈی ایم جی ایسو سی ایشن کا اجلاس ہوا تھا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری سمیت متعدد سینئر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ کے سیکریٹری نے مقتول کے اہل خانہ کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے پچیس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈی سی کالونی گجرانوالہ میں میں مقتول کے اہل خانہ ایک کنال کا پلاٹ دینے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

لاہور میں ایسو سی ایشن کے اجلاس میں یہ وضاحت بھی کی گئی تھی کہ مقتول حماد رضا کو اپنی قابلیت کی بنا پر سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار مقرر کیا گیا تھا کسی شخصیت کی ایما پر نہیں۔

واضح رہے کہ حماد رضا بلوچستان میں تعینات تھے اور انہیں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ مں تعینات کیا تھا۔ چیف جسٹس جب اپنے سٹاف افسر کے قتل کے فوری بعد ان کے گھر پہنچے تھے تو حماد رضا کی اہلیہ نے کہا تھا کہ ان کے شوہر کو چیف جسٹس کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوانداس نے عدالت اعظمیٰ کے دو سینئر ججوں کو حماد رضا کے قتل کی ہونے والی پولیس تحقیقات کو مانیٹر کرنے پر مامور کیا ہے۔ متعلقہ ججوں نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بجے دوپہر تک پیش رفت کے بارے تحریری طور پر انہیں مطلع کریں۔

 
 
حماد رضا (فایل فوٹو)حماد رضا کا قتل
’پولیس قاتل کو بچانے کے لیے وہاں تھی؟‘
 
 
ڈکیتی یا قتل
حکومت کےمطابق ڈ کیتی کے شواہد ملے ہیں
 
 
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
 
 
ایم کیو ایم یہ حکم کس کا تھا
کراچی پولیس پلان کس نے منظور کیا
 
 
کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
 
 
اسی بارے میں
فل کورٹ میں سماعت آج سے
14 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد