BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 May, 2007, 11:59 GMT 16:59 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
لال مسجد: دو پولیس اہلکار رہا
 

 
 
 فائل فوٹو
طالب علموں نے جمعہ کو چار پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں واقع لال مسجد کے لٹھ بردار طالبعلموں نے یرغمال بنائے گئے اسلام آباد پولیس کے چار اہلکاروں میں سے دو کو سنیچر کے روز رہا کردیا۔ طالبعلموں نے ان کو چھوڑنے کے بدلے میں حکومت سے زیرحراست اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

لال مسجد کے مہتمم مولانا عبد الرشید غازی نے بتایا کہ پولیس کے دو اہلکاروں کو ان کے ’کچھ مسائل‘ کی وجہ سے ان کے طالبعلموں نے چھوڑ دیا۔ تاہم پولیس کے دو اہلکاروں کی رہائی اس وقت ہوئی جب سنیچر کے روز عدالت نے زیرحراست تین طالبعلموں کی ضمانت منظور کرلی۔

مولانا عبدالرشید غازی نے بتایا کہ مزید دو طالبعلموں کو پیر کے روز عدالت سے ضمانت ملنے کی امید ہے اور اسی دن یرغمال بنائے جانے والے پولیس کے باقی دو اہلکاروں کو بھی رہا کردیا جائےگا۔

اسلام آباد پولیس کے چار اہلکار جمعہ کے روز لال مسجد کے قریب سے گزر رہے تھے کہ درجنوں ڈنڈہ بردار طالبعلموں نے ان کو گھیر لیا اور ان کو لال مسجد کے احاطے میں لے گئے۔

مولانا عبد الرشید غازی نے بتایا کہ گرفتار طالبعلموں میں سے تین کو سنیچر کو ضمانت مل گئی
لال مسجد کے ایک ترجمان عبد القیوم نے سنیچر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اغوا کاروں کے اس مطالبے کو دہرایا تھا کہ مغوی پولیس اہلکاروں کی رہائی کے بدلے مدرسے کے گرفتار طالب علموں کو رہا کیا جائے۔

جمعہ کے روز پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد پولیس کی بھاری کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی تھی لیکن لال مسجد کی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد پولیس کو وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چودھری محمد علی نے بتایا کہ جمعہ کی رات ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پولیس اہلکاروں کو اغواء کرنے کی صورتحال پر تفصیلی غور کرنے کے بعد لال مسجد کے خلاف آپریشن نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مولانا عبد الرشید غازی نےجمعہ کی رات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ ان کا ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے مطابق سنیچر کو وہ عدالت میں گرفتار طالبعلموں کی ضمانت کے لیے درخواست دیں گے اور پولیس اس ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گی۔

لائبریری پر قبضہ
 لال مسجد کے ساتھ منسلک جامعہ حفصہ کی طالبات کئی ماہ سے بچوں کی لائبریری پر قابض ہیں۔ لائبریری کا قبضہ چھوڑنے کے بدلے ان کا مطالبہ ہے کہ ملک میں شریعت نفاذ کی جائے
 
لال مسحد کے طالبعلموں کی طرف اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو اغواء کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اور اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آئے ہیں۔ اٹھائیس مارچ کو لال مسجد کے طالبعلموں نے پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کو گاڑی سمیت اغواء کر کے مسجد کے احاطے میں بند کر دیا تھا اور انتظامیہ کے ساتھ بارہ گھنٹے کے مذاکرات کے بعد ان کو رہا کیا گیا تھا۔

لال مسجد کے ساتھ منسلک جامعہ حفصہ کی طالبات کئی ماہ سے بچوں کی لائبریری پر قابض ہیں۔ لائبریری کا قبضہ چھوڑنے کے بدلے ان کا مطالبہ ہے کہ ملک میں شریعت نفاذ کی جائے۔

 
 
لال مسجدنفاذِ شریعت
لال مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے کا متن
 
 
جامعہ حفصہاورمذاکرات نہیں
لال مسجد:حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم
 
 
اسلام آباد کے طالبان
آئی ایس آئی کے اہلکار اور لال مسجد میں نماز
 
 
گولڈن ٹمپل اسلام آباد
لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر: وسعت اللہ
 
 
جامعہ حفصہ
کئی شہروں میں خواتین کے مظاہرے
 
 
لال مسجدتصویروں میں
لال مسجد سے اسلام شریعت کا اعلان
 
 
اسی بارے میں
لال مسجد :مذاکرات ختم
16 May, 2007 | پاکستان
جامعہ حفصہ کے خلاف مظاہرہ
23 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد