BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 May, 2007, 15:18 GMT 20:18 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
حماد قتل کیس: چار افراد گرفتار
 

 
 
سید حماد رضا کو اس ماہ کی چودہ تاریخ کو اسلام آباد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا
پاکستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار سید حماد رضا کے قتل میں ملوث چھ میں سے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے مطابق اس گینگ کا تعلق مظفرآباد سے تھا اور ان کی تحویل سے قتل کے لیے استعمال ہونے والا پستول اور چھینی گئی گھڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ تاہم ان کا یہ کہنا کہ ان افراد کو جدید ٹیکنالوجی اور ان کے لب ولہجے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا، صحافیوں کو مطمئن نہیں کر سکا۔

سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار سید حماد رضا کو اس ماہ کی چودہ تاریخ کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ میں گھس کر چار نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ یہ قتل ایک ایسے وقت ہوا جب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا مقدمہ زیر سماعت تھا اور ان کے وکلاء کے بقول مرحوم ان کے ایک اہم گواہ تھے۔

’تحقیقات سائنسی طریقے سے‘
 وفاقی وزیر کے مطابق اس کیس کی تحقیقات ایس پی انویسٹیگیشن اسلام آباد کی سربراہی میں چھ رکنی تفتیشی ٹیم نے انتہائی سائنسی طریقے سے کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گروہ کو ان کے لب و لہجے، ماضی کےجرائم کے ریکارڈ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پکڑا گیا۔ تاہم انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مزید تفصیل صحافیوں کے پرزور اصرار کے باوجود بتانے سے گریز کیا۔
 

حماد رضا کے اہل خانہ کا بھی موقف تھا کہ یہ ڈکیتی نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ تھی لیکن حکومت اور پولیس اس دن سے لے کر آج تک اسے ایک چوری کی واردات قرار دیتی رہی ہے۔

صحافیوں کی گرفتاریوں کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بتایا کہ اس قتل کی وجہ ابھی واضع نہیں ہے تاہم مزید تفتیش اور پوچھ گچھ سے بات واضح ہوسکے گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق اس کیس کی تحقیقات ایس پی انویسٹیگیشن اسلام آباد کی سربراہی میں چھ رکنی تفتیشی ٹیم نے انتہائی سائنسی طریقے سے کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گروہ کو ان کے لب و لہجے، ماضی کےجرائم کے ریکارڈ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پکڑا گیا۔ تاہم انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مزید تفصیل صحافیوں کے پرزور اصرار کے باوجود بتانے سے گریز کیا۔

ایک اور بات جس پر بریفنگ میں موجود صحافیوں کی تسلی نہیں ہوسکی وہ راتوں رات ان چار ملزمان کی مظفرآباد سے گرفتاری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ تفتیشی ٹیم کو کل کشمیر روانہ کیا گیا جہاں انہوں نے نہ صرف ان افراد کو گرفتار کیا بلکہ عدالت سے انہیں اسلام آباد لانے کی اجازت بھی حاصل کی۔ انہیں چہرے ڈھانپ کر اسلام آباد لایا گیا اور آج یہاں عدالت سے ان کے ریمانڈ بھی حاصل کر لیے گئے۔

ملزمان سے قتل میں استعمال ہونے والی پستول کہاں سے برآمد ہوئی اس بارے میں بھی وفاقی وزیر کچھ زیادہ پراعتماد دکھائی نہیں دیے۔ ’ان کی نشاندہی پر تلاشی کے بعد پستول برآمد ہوئی، پہاڑ میں کھلی جگہ سے۔‘

پستول کے علاوہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی اور مرحوم کے والد سے چھینی گئی گھڑی بھی برآمد ہوئی ہے۔ ملزمان میں سے دو وادئ نیلم کے سید شریف الدین گیلانی اور بشیر الدین گیلانی جبکہ میر افضل اور بشارت کے بارے میں صرف اتنا بتایا گیا کہ ان کا تعلق کشمیر سے ہے۔

حماد رضا کے قتل کی تحقیقات پنجاب ہائی کورٹ کے جج عبدالشکور پراچہ کی نگرانی میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہو رہی ہے۔ جسٹس پراچہ کو اپنی رپورٹ پندرہ دن میں سپریم کورٹ کو پیش کرنی ہے۔

 
 
ڈکیتی یا قتل
حکومت کےمطابق ڈ کیتی کے شواہد ملے ہیں
 
 
’ٹارگٹ کلنگ ہے‘
حماد کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے: اہلیہ
 
 
حماد رضا قتل
تحقیقات ہائی کورٹ کے حوالے: سپریم کورٹ
 
 
    جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
 
 
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
 
 
لال مسجداسلام آباد ڈائری
عدالتی بحران، لال مسجد، تاش کا کھیل اورخفیہ ہاتھ
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد