BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 01 June, 2007, 00:01 GMT 05:01 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’میرا بیٹا چیف جسٹس کے قریب تھا‘
 

 
 
حماد رضا کے والد سید امجد حسین
’مجھے یقین ہے کہ یہ ڈکیتی کی واردات نہیں ہے بلکہ وہ میرے بیٹے کو قتل کرنے آئے تھے‘
سپریم کورٹ کے مقتول ڈپٹی رجسٹرار حماد رضا کے والد سید امجد حسین نے پولیس کے اس دعوے پر شک کااظہار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کے قاتل پکڑے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’پتہ نہیں کہ وہ اصلی ملزم ہیں یا نہیں البتہ یہ واضح ہے کہ میرے بیٹے کے قاتل ڈاکو نہیں تھے بلکہ وہ صرف اسے قتل کرنے آئے تھے‘۔

حکام نے حماد رضا کے قتل کے ملزموں کے پکڑےجانے کا دعوی کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پیشہ ور ڈاکو ہیں۔


چودہ مئی کو اسلام آباد میں قتل ہونے والے حماد رضا کے والد کا اصرار تھا کہ حملہ آور صرف ان کے بیٹے کو مارنے آئے تھے اوران کی نیت ڈکیتی کی نہیں تھی۔

مقتول کے والد سید امجد حسین نے کہا کہ ’ملزموں کی گرفتاری کی اطلاع انہیں اخبار سے ملی۔ پولیس نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیاالبتہ دوروز پہلے پولیس والے بیس پچیس تصویرں پر مبنی ایک البم لائے تھے۔

’یہ تصویریں وہ مجھے اور حماد کی بیوہ کو دکھا کر ملزمان کی شناخت کرانے کی کوشش کراتے رہے لیکن ہم نے بتادیا کہ ان میں سے کوئی نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا حملہ آور دبلے پتلے تھے اور ان کی داڑھیاں نہیں تھیں اور وہ پنجاب کے شہری علاقوں کے لوگوں کی طرح پنجابی اور اردو بولتے تھے۔امجد حسین اپنے بیٹے کے قتل کے چشم دید گواہ بھی ہیں انہیں اس بات پر شک تھا کہ حملہ آور کشمیری ہیں۔

 چیف جسٹس افتخار میرے بیٹے پر بہت اعتماد کرتے تھے اور وہ ان کے بہت قریب تھے اور اسی لیے میرے بیٹے کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا ہے
 
حماد رضا کے والد

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پولیس کا یہ دعوی درست ہے کہ ملزموں سے دس ہزار روپے اور ان کی گھڑی برآمد ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ پولیس کے دعوی کے بارے میں انہیں کچھ معلوم نہیں ہے لیکن یہ درست ہے کہ ملزمان نے ان کی جیب سے دس ہزار روپے نکالے تھے ،ان کے ہاتھ پشت پر باندھتے ہوئے ان کی کلائی سے گھڑی بھی اتار لی تھی جبکہ ان کی بیوی کے طلائی کڑے اور ہار بھی اتار لیا تھا۔

سید امجد حسین نے کہا کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ گھڑی کسی سے برآمد ہوئی اور برآمدگی کسی دوسرے کے حصہ میں ڈال دی گئی۔

ان سے پوچھا گیا کہ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈکیتی نہیں دوسری طرف ملزمان نے ان سے دس ہزار روپے اورگھڑی بھی لوٹی ہے ۔

مقتول کے والد نے کہا کہ حملہ آوروں نے صرف وہ چند ایک چیزیں لے لیں جو سامنے نظر آئیں حالانکہ گھر میں بہت کچھ لوٹے جانے کے لیے تھا جس کی ان کے بقول وہ بار بار پیشکش بھی کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے حملہ آوروں کوکئی بار کہا کہ جو چاہیے لے لو لیکن ملزمان نے گھر میں کسی چیز کی تلاشی نہیں لی تھی‘۔

حماد رضا
حماد کے گھر والے ڈکیتی کو قتل کا سبب نہیں مانتے

انہوں نے کہا کہ’ ملزم بس یہی کہتے رہے کہ ہمیں اوپر لے جاؤ میں انہیں کہتا رہا کہ اوپر کوئی نہیں ہے جو لوٹنا ہے لوٹ لو اور چلے جاؤ لیکن انہیں کچھ لوٹنے سےدلچسپی ہی نہیں تھی‘۔

مقتول کے والد نے کہا کہ ’حتٰی کہ تجوری کی چابیاں تکیے کے نیچے تھیں جو وہ ایک بار بھی مانگتے تو ہم دے دیتے لیکن ملزمان نے نہیں مانگیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ملزمان نے حماد کے بیڈ روم کا دروازہ کھلوانے کے بعد کمرے میں داخل ہونا بھی گوارا نہیں کیا بس ایک ملزم نے اپنا ہاتھ سیدھا کیا اور حمادکے سر کے قریب فائر کیا اور چلے گئے۔‘

اس موقع پر حملہ آورو نے دیکھا کہ حماد کی بیوی طلائی زیوارت پہنے ہے لیکن وہ نہیں اتروائے۔

سید امجد حسین اپنے مقتول بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے کئی بار آبدیدہ ہوئے۔انہوں نےکہا ’حکومت اور پولیس جو چاہے کہےلیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ڈکیتی کی واردات نہیں ہے بلکہ وہ میرے بیٹے کو قتل کرنے آئے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس افتخار میرے بیٹے پر بہت اعتماد کرتے تھے اور وہ ان کے بہت قریب تھے اور اسی لیے میرے بیٹے کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا ہے‘۔

شبانہ احمد
حماد کی بیوہ اور بچوں نے لاہورمیں رہنے کا فیصلے کیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیٹے کی بلوچستان سے سپریم کورٹ میں تبادلے کے لیے چیف جسٹس افتخار چودھری کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف انہی کوششوں کی وجہ سے حکمرانوں کواندازہ تھا کہ دونوں میں کتنی قربت تھی۔

مقتول کے والد نے بتایا کہ حماد کی بیوہ اور بچوں نے لاہورمیں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایچی سن کالج کی انتظامیہ نے ازخود ان سے رابطہ کرکے حماد کے دونوں بیٹوں کو داخلہ دیدیا ہے جو اپنی اپنی عمر کے مطابق سکول جانا شروع کردیں گے۔

سید امجد حسین کا کہنا ہے کہ حماد کے بچوں کے سوا اب دنیا میں ان کا کوئی نہیں ہے اور اپنی باقی زندگی وہ ان کے ساتھ بسر کریں گے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد