BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 June, 2007, 22:17 GMT 03:17 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
2002 الیکشن، دو کروڑ ’بوگس‘ ووٹر
 

 
 
خواتین ووٹر
پاکستان میں دو کروڑ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو اڑتیس خواتین ووٹر ہیں
پاکستان الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات اور صدارتی ریفرنڈم کے لیے وقت تیار کردہ ووٹر فہرست میں شامل تیس فیصد ووٹرز ’بوگس‘ تھے۔

منگل کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات کے لیے نادرا نے جو ووٹر لسٹیں تیار کی تھیں انہیں سنہ 1998 کی مردم شماری فارمز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا اور ان فہرستوں میں قریباً دو کروڑ ایسے افراد کے نام شامل تھے جن کا شناختی کارڈ نمبر موجود نہیں تھا۔

پاکستان کے الیکٹرول ایکٹ کے تحت کسی ایسے شخص کا نام انتخابی فہرست میں نہیں ہو سکتا جس کے پاس قومی شناختی کارڈ نہ ہو۔کنور محمد دلشاد کا کہنا تھا کہ آنےوالے انتخابات کے لیے پہلی بار پاکستان میں اس سال کمپیوٹرائزڈ ووٹر فہرستیں تیار ہوئی ہیں جس میں ایک ووٹ بھی غلط نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب ان فہرستوں کی تیاری کے سلسلے میں نادرا حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس قومی شناختی کارڈ کے حامل قریباً پانچ کروڑ اکیس لاکھ ایسے افراد کا اندارج ہے اور اسی وجہ سے نئی کمپیوٹرائزڈ فہرست میں صرف انہی افراد کے نام شامل کیے گئے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ گھر گھر جا کر جو نئی ووٹر فہرستیں مرتب کی ہیں ان میں کل ووٹرز کی تعداد پانچ کروڑ اکیس لاکھ دو ہزار چار سو اٹھائیس ہے جن میں سے دو کروڑ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو اڑتیس خواتین ووٹر ہیں۔ جبکہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے صدارتی ریفرنڈم اور عام انتخابات میں کل ووٹرز کی تعداد سات کروڑ انیس لاکھ کے قریب تھی۔

پاکستان میں آبادی کی شرح میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی اگر تجزیہ کیا جائے تو نئی ووٹر فہرست میں ووٹرز کی تعداد پہلے سے زیادہ ہونی چاہیے لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق آنے والے انتخابات میں ہر وہ پاکستانی شہری ووٹ دینے کا اہل ہے جس کی عمر یکم جنوری 2007 کو اٹھارہ برس یا اس سے زائد ہے اور اسی حوالے سے ملک بھر میں قائم کردہ پینتالیس ہزار سے زائد ڈسپلے سینٹرز پر نئی ووٹر فہرستیں آویزاں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ افراد جن کا نام لسٹ میں نہیں ہے لیکن وہ ووٹ ڈالنے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور ان کے پاس شناختی کارڈ ہے تو وہ مجاز افسران کے پاس اپنا اعتراض جمع کرائیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تیرہ جون سے تین جولائی تک اعتراضات داخل کیے جاسکتے ہیں جبکہ مجاز افسران ان پر چار سے تیرہ جولائی تک کارروائی نمٹائیں گے۔ الیکشن کمیشن متعلقہ افسران سے سولہ سے تئیس جولائی تک فہرستیں واپس لے کر اپ ڈیٹ کرے گا اور چھبیس جولائی کو حتمی ووٹر فہرست شایع کی جائے گی۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد