BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 June, 2007, 13:59 GMT 18:59 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
غیرقانونی زمین پرمساجد کی تعمیر؟
 

 
 
فائل فوٹو
’قبضہ کی گئی زمین پر مساجد بنانے والوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے‘
اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ لال
مسجد تنازعہ کے پس منظر میں انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ غیر قانونی اور قابض جگہ پر تعمیر کردہ مساجد بھی غیر قانونی ہوتی ہیں اور ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو اسلام آْباد میں کونسل کی تین سالہ کارکردگی کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی تین سالہ مدت کے اختتام پر ڈاکٹر خالد مسعود کا کہنا تھا کہ اس دوران انہوں نے مروجہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے 17 رپورٹس حکومت کو ارسال کیں جن میں سے بعض پر عمل درآمد ہو چکا ہے جبکہ کچھ ابھی زیر بحث ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر زیادہ مؤثر انداز میں غور کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بنائی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر جنرل ضیاءالحق کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دور میں کونسل کی سب سے زیادہ سفارشات پر عمل ہوا۔

ڈاکٹر خالد مسعود کے مطابق ’دو ہی ادوار ایسے ہیں جن میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کی شرح زیادہ رہی۔ ایک ضیاء الحق اور دوسرا جنرل پرویز مشرف کا دور۔ اس دوران کونسل کی پچاس فیصد تجاویز پر قانون سازی ہوئی جبکہ دیگر ادوار میں یہ شرح بیس سے تیس فیصد رہی ہے‘۔

ڈاکٹر خالد مسعود نے لال مسجد تنازعہ کے پس منظر میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کونسل نے تین ماہ پہلے حکومت کو بتا دیا تھا کہ غیر قانونی اور قبضہ کی گئی زمین پر قائم مساجد کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوتی۔

 خواتین کے تحفظ کے لیے حدود قوانین میں ترامیم اور حسبہ بل پر اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات میرے دور میں ہونے والی چند اہم سفارشات میں شامل ہیں جن میں سے ایک پر عمل ہوا اور ایک پر نہیں
 
ڈاکٹر خالد مسعود

انہوں نے کہا کہ لال مسجد کا تنازعہ سامنے آنے کے فوراً بعد کونسل نے اپنے طور پر بھی یہ کہا تھا اور بعد میں حکومت کے استفسار پر اپنا یہ مؤقف دہرایا تھا کہ غیر قانونی اور قبضہ کی گئی زمین پر مساجد بنانے والے افراد اور اداروں کی حوصلہ شکنی کرنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے حدود قوانین میں ترامیم اور حسبہ بل پر ان کے ادارے کی سفارشات ان کے دور میں ہونے والی چند اہم سفارشات میں شامل ہیں جن میں سے ایک پر عمل ہوا اور ایک پر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں کونسل نے سرکاری اثرو رسوخ سے آزاد ہو کر اسلامی قوانین کی بالا دستی کے لیے کام کیا اور اس دوران بعض اوقات مشکل وقت بھی آیا تاہم کونسل نے اپنا کام دیانتداری سے انجام دیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد کی اسمبلی میں پیش کردہ حسبہ بل پر اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی تفصیلی سفارشات صوبائی حکومت کو بھیجی تھیں لیکن ان پر غور نہیں کیا گیا۔

 
 
لال مسجد تنازعہ
حکومت کی ناکامی یا محتاط رویہ؟
 
 
لال مسجد (فائل فوٹو) ’اسلامی انقلاب‘
’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘
 
 
جامعہ حفصہاورمذاکرات نہیں
لال مسجد:حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم
 
 
اسی بارے میں
لال مسجد: خواتین کا مظاہرہ
27 August, 2004 | پاکستان
لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد