BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 June, 2007, 01:48 GMT 06:48 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
لال مسجد: طلباء نے چینی اغوا کر لیے
 

 
 
لال مسجد کے طلباء(فائل فوٹو)
کچھ عرصہ قبل دو پولیس اہلکاروں کو بھی مسجد میں رکھاگیا تھا
وفاقی دارالحکومت میں لال مسجد اور اس سے منسلک مدرسوں کے طلبہ اور طالبات نے سنیچر کی رات ایک چینی بیوٹی اور مساج سینٹر پر چھاپہ مار کر وہاں موجود نو افراد کو جن میں چھ غیرملکی لڑکیاں بتائی جاتی ہیں اغوا کر لیا ہے۔

لال مسجد کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ جب شہر کی انتظامیہ انہیں یہ یقین دہانی کرا دے گی کہ مساج سینٹروں میں خواتین مردوں کی مالش نہیں کریں گی تو وہ ان چھ چینی لڑکیوں کو رھا کر دیں گے۔

لال مسجد کے نائب مہتتم عبدالرشید غازی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان اور چین کی دوستی کا بھی لحاظ ہے لہذا وہ ان افراد کو ایک آدھ روز میں رہا کر دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ کئی روز سے اس سینٹر پر نظر رکھے ہوئے تھے جس کی بعد یہ کارروائی کی گئی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ مرکز میں صحت سے متعلق خدمات فراہم کی جاتی تھیں لیکن ایک ہزار روپے میں مالش کے علاوہ اضافی پانچ سو روپے میں غیراخلاقی کام بھی ہوتے تھے۔ ’شراب نوشی کی الگ رقم لی جاتی تھی۔‘

انہوں نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ کلینک پر چھاپے کے دوران چینی لڑکیوں نے ان کی طالبات کے خلاف جوڈو کراٹے کا استعمال بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی جھڑپ کے بعد سے ان لڑکیوں کو بہت آرام سے مدرسے میں رکھا گیا ہے۔

یرغمال پاکستانی مردوں کے بارے میں مزید شناخت تو نہیں کرائی تاہم انہوں نے ان کا موقف بتاتے ہوئے کہا وہ علاج کی غرض سے آئے تھے۔ تاہم ان کا سوال تھا کہ آدھی رات کو کون علاج کراتا ہے۔

عبدالرشید غازی کا کہنا تھا کہ انہیں اس واقع کی اطلاع کل رات ساڑھے تین بجے ہوئی اور وہ اپنے موقف کی وضاحت آج سہہ پہر ایک اخباری کانفرنس میں کریں گے۔

بیوٹی پارلر
وہ پارلر جہاں سے نو افراد کو اغوا کیاگیا تھا

ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی خلاف انہوں نے ابھی کوئی رپورٹ درج نہیں کی ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو پینسٹھ کے تحت ہوگی یعنی یہ اغوا کا مقدمہ ہے۔

اس سے قبل مسجد و مدرسے کے طلبہ اور طالبات کی جانب سے جاری کیئے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا تھا کہ نو افراد کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ مساج سینٹر میں موجود چھ غیرملکی لڑکیوں اور تین مردوں کو سمجھانے کے لیے لے کر آئے ہیں۔

طلبہ کے چار سطور کے اس بیان میں الزام لگایا کہ اس سینٹر میں غیرملکی لڑکیاں نامحرم مردوں کو مساج کی آڑ میں گناہ کراتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل فحاشی و عریانی کے خلاف ان کا فطری ردعمل ہے۔

پولیس کے مطابق چینی خواتین نے ایف ایٹ کے اس مکان میں آکوپنکچر اینڈ ہیلتھ سینٹر کھول رکھا تھا۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ چوہدری افتخار کا کہنا ہے کہ وہ پہلے تو ان افراد کی رہائی کی اپیل کرتے ہیں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ قانون کی عمل داری کے لیے کارروائی پر مجبور ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی اقدام ہے جس کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر میں واقعے اس بیوٹی سینٹر کے خلاف یہ کارروائی عینی شاہدین کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے کے بعد ہوئی۔ لاٹھیوں سے مسلح تیس طلبہ اور طالبات تین گاڑیوں میں وہاں پہنچے اور اس سینٹر میں گھس کر انہوں نے ان افراد کو یرغمال بنا لیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق طلبہ نے ان افراد کو مارا پیٹا بھی۔

طلبہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں دلچسپ بات یہ تھی کہ جامعہ فریدیہ، مدرسہ حفصہ کے علاوہ اس کارروائی میں ایک معروف پرائیویٹ انگریزی میڈیم سکول بیکن ہاوس کے طلباء بھی شریک تھے۔

حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان اس سال کے آغاز سے کشیدگی چل رہی ہیں۔ اس کشیدگی کا آغاز مسجد کے طلبہ کی جانب سے چند مساجد کو گرائے جانے کے سرکاری اقدام کے خلاف احتجاج سے ہوا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد