BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 02 July, 2007, 06:36 GMT 11:36 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سپریم کورٹ میں حکومت کی معافی
 

 
 
عدالت میں سماعت کئی ہفتوں سے جاری ہے

سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس میں وفاقی حکومت کی طرف سے ’ہتک آمیز دستاویزات عدالت کے سامنے رکھنے کی بنیاد پر وفاقی سیکرٹری قانون کو شو کاز نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔


عدالت نے انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ اور تمام ججوں کے دفاتر کا معائنہ کرنے کے بعد حلفیہ بیان عدالت میں جمع کرایں کہ وہاں جاسوسی آلات نصب نہیں ہیں۔

عدالت نےسپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے رجسٹراروں کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاروں کے مانگنے پر ججوں سے متعلق کوئی دستاویز ان کے حوالے نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے دستاویزات جمع کرانے والے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چودھری اختر علی کا لائسنس معطل کرتے ہوئے انہیں شو کاز نوٹس جاری کیا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین ِعدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔عدالت نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کا خلاف تادیبی کے لیے ان کا مقدمہ پاکستان بار کونسل کے حوالے کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔

تاہم عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کی درخواست کو مانتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک لاکھ بطور اخراجات جمع کرانے کی صورت میں ریکارڈ واپس لینے کی منظوری دے دی ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے وصول ہونے والے ایک لاکھ روپے سیلاب زدگان کے فنڈ میں جمع کرانے کا حکم جاری کیا۔

پیر کے روز جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کی توجہ ایک ایسے پیمفلٹ کی طرف دلائی جس میں ججوں سے متعلق انتہائی نازیبا کلمات اور گالیاں درج تھیں۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے عدالت کی توجہ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن کے ایک مقدمے پر ’خفیہ نوٹ‘ کی طرف بھی دلائی جس میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے پر تبصرہ کیا گیا تھا اور اسے صدر کو پڑھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

’انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کارستانی‘
 خفیہ ایجنسیوں نے چیف جسٹس کے گھر میں گھس کر تصاویر بنائی جن کو عدالت کے ریکارڈ پر رکھا گیا۔ سب کچھ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کارستانی ہے اور یہ ان کے موقف کی تائید کرتا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
 
چیف جسٹس کے وکیل، اعتزاز احسن

بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اس فیصلے میں صرف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہی شامل نہیں تھے بلکہ چھ اور جج بھی شامل تھے جن کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں نے چیف جسٹس کے گھر میں گھس کر تصاویر بنائی جن کو عدالت کے ریکارڈ پر رکھا گیا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سب کچھ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کارستانی ہے اور یہ ان کے موقف کی تائید کرتا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

عدالت کے استفسار پر وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ انہوں نے تو ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کیے جانے والے ریکارڈ کو عدالت کے سامنے رکھنے کے لیے کہا تھا لیکن ان کو نہیں پتہ کہ یہ ساری دستاویزات کہاں سے آئیں ہیں۔

ملک قیوم نے عدالت سے غیر مشروط مانگی اور کہا کہ وہ اس درخواست کو واپس لیتے ہیں۔ اس پر عدالت نے صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے یہ دستاویزات دائر کرنے سے پہلے دیکھی تھیں۔

سپریم کورٹ میں سماعت
 گھٹیا سے گھٹیا مدعی بھی اس طرح کا ریکارڈ پیش نہیں کرتا جو صدر کی طرف سے سرکاری اہلکاروں نے عدالت میں پیش کیا ہے۔
 
جسٹس خلیل الرحمان رمدے

سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ وہ ان دستاویزات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ان کو ان دستاویزات کا علم کمرہ عدالت میں ہوا۔

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے عدالت کے پوچھنے پر بتایا کہ انہوں نے ان دستاویزات کو نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی وہ اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔

عدالت نے ایک گھنٹے تک کارروائی کو معطل کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چودھری اختر علی کو عدالت میں طلب کیا جائے۔

عدالت نے یہ حکم جاری کیا کہ وقفے کے بعد سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے متعلق اس ’خفیہ نوٹ‘ کے بارے عدالت کو بتایا جائے کہ اسے کس نے تحریر کیا جس کی بنیاد پر صدر نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

عدالت نے حکومت کے وکیل کو حکم دیا کہ وہ چیف جسٹس کے گھر سے بنائی جانے والی تصاویر سے متعلق بھی عدالت کو بتائیں کہ کس فوٹو گرافر نے کس کے کہنے یہ تصاویر بنائی ہیں۔

وقفے کے بعد جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چودھری اختر علی نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے تمام دستاویزات حکومت کے وکیل ملک قیوم اور سیکریٹری قانون جسٹس (ریٹائرڈ) منصور احمد کے کہنے پر عدالت کے سامنے رکھی تھیں۔

چودھری اختر علی نے عدالت سے کہا کہ سارے کا سارا ریکارڈ وزارت قانون سے تیار ہو کر آیا تھا اور انہوں نے تو صرف ایک درخواست لکھی تھی۔

سرکاری وکیل ملک قیوم نے قابل اعتراض دستاویزات سے لاعملی کا اظہار کیا

ایڈوکیٹ چودھری اختر علی نے کہا وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے انہیں ہدایت کی تھی کہ سیکریٹری قانون جو بھی دستاویز فراہم کریں انہیں فوراً عدالت میں جمع کر دیا جائے کیونکہ وہ ان دستاویز کے بغیر بحث نہیں کر پائیں گے۔

ایڈوکیٹ اختر علی نے کہا کہ سیکریٹری قانون جسٹس (ریٹائرڈ) منصور احمد نے کم از کم آٹھ بار ان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور زور دیا کہ ان دستاویزات کو فوراً عدالت میں جمع کروا دیا جائے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کو کہا جائے کہ وہ ان سے اتنی رقم لے لیں اور جج کو گالیاں دیں تو کیا وہ جج کو گالیاں دیں گے؟

ایڈوکیٹ چودھری اختر علی نے کہا کہ وزارت قانون کے متعدد ٹیلفون رابطوں کے علاوہ وزارت قانون کا ایک ایڈیشنل سیکرٹری ، ڈپٹی سیکریٹری اور سیکریٹری قانون کے پرائیوٹ سیکریٹری خود تمام دستاویزات لے کر آئے اور ان کے پاس وقت ہی کم تھا کہ اتنے کم عرصے میں تمام ریکارڈ کامطالعہ کرتے۔

ایڈوکیٹ آن ریکارڈ بحث کرنے والے وکلاء کی نسبت معمولی معاوضہ لے کر مقدمے کے تمام کاغذات کو مناسب ترتیب میں عدالت کے سامنے رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے وکیل سے پوچھا کہ کیا انہیں پتہ ہے کہ وفاقی حکومت میں صدر اور وزیر اعظم دونوں آتے ہیں۔

تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے سرکاری ریکارڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ گھٹیا سے گھٹیا مدعی بھی اس طرح کا ریکارڈ پیش نہیں کرتا جو اس بیچارے (صدر پاکستان) کے نام پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کو(صدر پاکستان) کو پتہ بھی نہیں گا اور وہ کہیں سویا پڑا ہوگا۔‘

’خفیہ نوٹ‘
 عدالت نے حکم دیا کہ وقفے کے بعد سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے متعلق اس ’خفیہ نوٹ‘ کے بارے عدالت کو بتایا جائے کہ اسے کس نے تحریر کیا جس کی بنیاد پر صدر نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا
 

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ یہ مقدمہ کسی محمد دین کا نہیں بلکہ اس کے فریقین میں چیف جسٹس اور صدر پاکستان شامل ہیں۔

تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ججوں کے خلاف سنگین نوعیت کی دستاویزات اور تصاویر پیش کر کے صدر مملکت کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ملک قیوم نے عدالت سے کہا کہ عدالت نے خود ہی سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ طلب کیا تھا اور انہوں نے صرف وہی ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھا جو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ہیں۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ صرف ایک نوٹس دیکھنے کے لیے طلب کیا تھا اور وہ دیکھنے کے بعد اسے واپس کر دیا گیا تھا۔ ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ اس ریکارڈ کی بنیاد پر صدر نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے وفاقی حکومت کے وکیل کو بتایا کہ اس ریکارڈ میں ایک ایسی دستاویز بھی ہے جو سولہ اپریل کو تیار کی گئی لیکن وفاقی حکومت کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ صدر نے نو مارچ کو چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے پہلے ان دستاویزات کو دیکھ کر اپنا ذہن بنایا تھا۔

ملک قیوم نے کہا کہ وہ درخواست کو واپس لیتے ہیں اور عدالت سے غیر مشروط معافی کے طلب گار ہیں۔

ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر صدر پرویز مشرف کے مطالعے کے لیے خفیہ نوٹ وزارت قانون میں بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فوٹو گرافر کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ہے اور وفاقی سیکریٹری قانون جسٹس ریٹائرڈ منصور احمد نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کل تک تصاویر کے بارے میں عدالت کو معلومات مہیا کرنے کی کوشش کریں گے۔

چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس
 اس ریکارڈ میں ایک ایسی دستاویز بھی ہے جو سولہ اپریل کو تیار کی گئی لیکن وفاقی حکومت کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ صدر نے نو مارچ کو چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے پہلے ان دستاویزات کو دیکھ کر اپنا ذہن بنایا تھا
 
جسٹس خلیل الرحمن رمدے

عدالت نے کہا کہ سینئر وکیل اعتزاز احسن پچھلے دو مہینوں سے عدالت کو بتا رہے تھے کہ خفیہ ایجنسیاں عدالت سے ریکارڈ چوری کر کے ججوں کے خلاف مواد اکٹھا کر رہی ہیں اور ججوں کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ وہ بیرسٹر اعتزاز احسن کی باتوں پر دھیان نہیں دیتی تھی لیکن حکومت کی طرف سے دستاویزات عدالت کے ریکارڈ پر آنے کے بعد عدالت مجبوراً انٹیلجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں داخلے پر پابندی لگا رہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ عدالتوں کا کوئی اہلکار انٹیلیجنس ایجنسوں کے اہلکاروں کے مانگنے پر کوئی دستاویز ان کے حوالے نہ کرے۔ تیرہ رکنی فل کورٹ نے حکم جاری کیا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے رجسٹرار عدالت کے حکم کی تعمیل کے پابند ہوں گے اور اگر اس کی خلاف وزری کی گئی تو وہ ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔

عدالت نے کہا کہ وکلاء کو صرف عدالتی ریکارڈ تک رسائی ہوگی۔

پیر کے روز عدالت کی تمام کارروائی حکومت کی طرف سے متنازعہ ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنے سے متعلق ہوئی۔

مقدمے کی کاررائی منگل کے روز بھی جاری رہے گی۔

 
 
اسی بارے میں
’عدلیہ ہی ذمہ دار نہیں‘
27 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد