BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’برقعےمیں گرفتاری باعثِ شرم ہے‘
 

 
 
مولانا فضل الرحمٰن
علماء لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز سے برہم ہیں
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز کی برقعہ میں گرفتاری تمام دینی علماء کے لیے ایک باعث شرم عمل ہے۔

بی بی سی بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز کے برقعہ میں گرفتاری پر پاکستان کے تمام علماء اور ان سے ہمدردی رکھنے والے افراد انتہائی برہم ہیں اور وہ انکے اس عمل پر شرمندہ ہوئے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے تمام علماء نے مولانا عبدالعزیز اور انکے بھائی عبدالرشید غازی کو قائل کرنے کو شش کی تھی کہ وہ ہتھیار پھینک کر باعزت طریقے سے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کردیں۔انکے مطابق اسلام آباد کے تمام علماء نے ایک اجلاس کے دوران تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ حکومت آپریشن کا حتمی فیصلہ کرچکی ہے اور اس سلسلے میں سکیورٹی فورسز نے لال مسجد کا مکمل محاصرہ کرلیا ہے لہذا بڑے پیمانے پر پہنچنے والےنقصانات سے بچنے کے لیے واحد راستہ دونوں بھائیوں کو اس بات پر راضی کرنا ہے کہ وہ گرفتاری پیش کردیں۔

طریقہ ٹھیک نہیں
 لال مسجد کی صورتحال سے یہ بات بھی سامنےآئی ہے کہ متحدہ مجلس عمل کا آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی نظام کے نفاذ کا طریقہ کار بالکل درست ہے جبکہ آئین سے ماوراء طاقت کے ذریعے شرعی نظام کے نفاذ کا طریقہ اپنانے کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں
 
مولانا فضل الرحمٰن

مولانا کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ گرفتاری کے بعد دونوں بھائیوں کو باعزت طریقے سے رکھا جائے گا۔انکے بقول مذاکرات کے دوران علماء نے مولانا عبد العزیز اور عبدالرشید غازی کے سامنے تجاویز رکھی کہ یا تو وہ گرفتاری پیش کریں یا پھر لال مسجد اور ملحقہ مدرسہ خالی کر کے اسےعلماء کے حوالے کر دیا جائے جو بعد میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد انہیں واپس کر دیا جائے گا۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ انکے مدرسے پر اسلام آباد کا کوئی اور دینی عالم قبضہ نہیں کرے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ دونوں بھائیوں نے بعض معاملات پر لچک پیدا کرنے کا عندیہ تو دیا تاہم گرفتاری پیش کرنے سے بالکل انکار کر دیا۔انکے مطابق مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی نے ان تجاویز پر غور کرنے کے لیے کچھ دیر تک کے لیے مہلت مانگی اور ہم اب جواب کا انتظار کر ہی رہے تھے کہ بیس منٹ کے بعد یہ خبر آئی کہ مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا جس پر بقول انکے تمام علماء شرمندہ ہوگئے۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ لال مسجد کی صورتحال سے یہ بات بھی سامنےآئی ہے کہ متحدہ مجلس عمل کا آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی نظام کے نفاذ کا طریقہ کار بالکل درست ہے جبکہ آئین سے ماوراء طاقت کے ذریعے شرعی نظام کے نفاذ کا طریقہ اپنانے کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔

 
 
لال مسجد طلبا برآمد
مہلت بڑھانے سے بہت سے طلبا باہر آ گئے
 
 
عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)عبدالرشید سے مولانا
وہ حافظ کے لفظ سے احتراز کرتے رہے
 
 
کیمرہ مین ’کٹ تھروٹ‘ مقابلہ
’جان سے بہتر کوئی سٹوری نہیں‘
 
 
طالبہ جامعہ حفصہ
’اسلحے کی کمی کا شدت سے احساس ہوا‘
 
 
تصاویر میںتصاویر میں
لال مسجد: دن بھر کیا کیا ہوا؟
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد