BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 July, 2007, 16:17 GMT 21:17 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
لال مسجد: اتوار کو کیا کیا ہوا؟
 
لال مسجد کے طلباء
مسجد سے باہر آنے والے طلباء کو کڑے پہرے میں سپورٹس کمپلیکس منتقل کر دیا گیا۔

٭شام ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شروع ہونے والی فائرنگ ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے کے بعد رک گئی اور پریس کلب کو سر بمہر کر دیا گیا۔

٭ساڑھے آٹھ بجے کے قریب لال مسجد کے ارد گرد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی حکام نے جی سِکس کے علاقے میں واقع پریس کلب کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور وہاں موجود صحافیوں کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا جو براہ راست صورتحال پیش کر رہے تھے۔ پولی کلینک جہاں زیادہ تر صحافیوں کو لے جایا جاتا تھا وہاں سے بھی صحافیوں کو جانے کے لیے کہا گیا۔

٭حکمران اتحادی جماعت متحدہ قومی مومنٹ نے ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید پر دباؤ ڈالیں کہ وہ خود کو بچانے کے لئے لوگوں کو انسانی ڈھال نہ بنائیں۔

٭اسلام آباد کے لال مسجد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے لیفٹیننٹ کرنل ہارون الاسلام کی میت لاہور میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کے سرد خانے میں رکھ دی گئی۔ ان کے ورثاء کے مطابق ان کی دوبہنوں کے بیرون ملک سے واپسی کا انتظار ہے اس لیے تدفین میں ایک دو روز لگ سکتے ہیں۔

٭سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ لال مسجد میں جنگ بندی کی جائے۔ انہوں نے مسجد کے اندر موجود مسلح افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ انہیں اور انکی اہلیہ کو مسجد کے اندر آ کر بچوں اور خواتین کو باہر لانے کی اجازت دیں۔

٭دیوبند مکتبہ فکر کے مدارس کی تنظیم وفاق المدارس العربیہ نے حکمران مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے دوران مطالبہ کیا کہ لال مسجد کے خلاف جاری آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے اور اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جائے۔

٭لال مسجد کے سامنے سیکیورٹی حکام نے میگا فون پر مسجد کے اندر موجود افراد سے کہا کہ وہ زخمیوں اور لاشوں کو باہر بھیجنے کا بندوبست کریں، جن کو لینے کے لئے ایمبولینس مسجد کے نزدیک بھیجی جا رہی ہیں۔ اس اعلان کے بعد ایدھی ایمبولینس کی دو گاڑیاں لال مسجد کی جانب گئیں۔

٭وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ حکومت لال مسجد میں ایمبولینس بھیجنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے عبدالرشید غازی کے اس دعوے کی تردید کی کہ گزشتہ روز سیکیورٹی ایجنسیوں کی فائرنگ سے مدرسے کی چھت گر گئی ہے جس سے تین سو سے زائد طالبات ہلاک ہو گئی ہیں۔

٭وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے اخباری کانفرنس میں مسجد انتظامیہ سے ’یرغمال’ افراد کو رہا کرنے کی اپیل کی اور اپنے آپ کو بھی حکومت کے حوالے کرنے کے لیئے کہا۔

٭وزیر داخلہ کے مطابق آج پانچ مزید افراد مسجد سے نکلنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے تین طالبات کے اس کوشش میں زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی۔

٭مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اب سے کچھ دیر قبل وزیر اعظم سے ملاقات کی اور وفاق المدارس کے وفد کے مطالبات ان تک پہنچائے۔

٭مسجد سے نکلنے والے مردان کے پچیس سالہ نور حیات اور گلگت کے اسی سالہ شاہ اکبر کو حکام نے حراست میں لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی۔ تاہم انہیں بھی میڈیا سے دور رکھا گیا۔

٭وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لال مسجد کے اندر ہلاکتوں اور وہاں موجود مسلح افراد کے بارے میں مسلسل غلط بیانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لال مسجد میں دو سے پانچ دہشت گرد موجود ہیں جو مختلف سنگین مقدمات میں حکومت کو مطلوب ہیں۔

٭مسجد کے احاطے میں محصور نائب خطیب عبدالرشید غازی نے ملکی و غیر ملکی میڈیا کو آج لال مسجد میں اپنی پریس کانفرنس میں آنے کی دعوت دی تاہم لال مسجد کے گرد سیکیورٹی اقدامات کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

٭کرفیو زدہ علاقے میں صحافیوں کی آمد ورفت میں سہولت کے لئے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے میڈیا کے لئے خصوصی پاس جاری کئے اور لال مسجد سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک عارضی میڈیا سنٹر بھی قائم کیا جا رہا ہے جہاں میڈیا کے نمائندوں کے کھانے اور بارش اور دھوپ سے بچ کر بیٹھنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

٭جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود نے لال مسجد کے خلاف آپریشن پر غم و غصے کا اظہار کیا اور حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اسے اس کا اسے خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

٭اسلام آباد کے سپورٹس کمپلیکس میں جامعہ حفصہ اور فریدیہ کے محصور اور گرفتار طلباء و طالبات کے والدین کے لئے قائم عارضی ریلیف کیمپ میں پریشان حال والدین سرکاری اہلکاروں کی تیار کردہ فہرستوں میں اپنے بچوں کے نام تلاش کرتے رہے۔

٭متعدد بسیں اڈیالہ جیل میں نظر بند طلباء کو لے کر سپورٹس کمپلیکس گئیں جہاں انہیں کڑے پہرے میں کمپلیکس کے رہائشی کمروں میں منتقل کر دیا گیا۔ بچوں اور ان کے والدین بہت خوش نظر آ رہے تھے۔ انتظامیہ نے کہا کہ ڈیڑھ سو طلبا کو آج رہا کر دیا جائے گا۔

 
 
اسی بارے میں
لال مسجد: ایک کمانڈو ہلاک
07 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد