BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 July, 2007, 06:13 GMT 11:13 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عبدالرشیدغازی ہلاک، آپریشن جاری
 

 
 
 عبدالرشید غازی

بچی کو کیا جواب دوں؟
 میرے بچے مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ ابو یہ اتنی فائرنگ اور دھماکے کی آوازیں اور یہ مرنے والے کون ہیں۔ اب میں انہیں کیا بتاؤں کہ مرنے والوں نے کیا مطالبات کیے ہیں اور مارنے والوں نے بش بھائی کی خدمت کا بیڑا کیوں اٹھایا ہوا ہے۔ فی الحال میں جمعہ سے دفتر نہیں جا سکا ہوں اور اس وقت میرے اپنے گھر میں کھانے کی چیزیں بالکل ختم ہونے کے قریب ہیں۔
 
مظفر حسین، اسلام آباد
وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ منگل کی صبح شدت پسندوں کے خلاف شروع ہونے والے فوجی آپریشن میں لال مسجد کے نائب مہتمم غازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے ہیں۔ گزشتہ پندرہ گھنٹے سے جاری اس آپریشن میں حکام کے مطابق اب تک ایک کپتان سمیت آٹھ فوجی جوانوں اور پچاس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اکاون شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ آپریشن کے دوران 29 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکی کہ کتنے سویلین اس کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں اگرچہ ان کی تعداد پچاس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔


کرائسس مینجمنٹ سیل کے سربراہ برگیڈیئر چیمہ نے بتایا کہ جب فوجی جوان لال مسجد میں واقع تہہ خانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں تھے تو ایک مقام سے ان پر فائرنگ کی گئی۔ برگیڈیر چیمہ کے مطابق فوج نے جوابی کارروائی کی جس میں عبدالرشید غازی ہلاک ہوگئے۔ فوجی ذرائع کے مطابق کہ جامعہ حفصہ میں آپریشن کے دوران عبدالرشید غازی کی والدہ بھی دم گھنٹے کے باعث ہلاک ہو گئیں۔

اس سے قبل پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ لال مسجد میں کتنے غیر ملکی شدت پسند تھے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے یہ آپریشن پاکستان سے باہر کسی کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا۔

اپنی پہلی بریفنگ میں انہوں نے بتایا تھا کہ آپریشن کے شروع ہونے کے بعد سے ستائیس بچے باہر آ چکے ہیں۔ جامعہ حفصہ سے باہر آنے والی ستائیس خواتین جنہوں نے خود کو حُکام کے حوالے کیا ہے اُن میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی سربراہ اُم حسان بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا ابھی مزید بچے اور خواتین تہہ خانوں میں موجود ہیں جس کی بنا پر سیکیورٹی فورسز کو انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھنے کو کہا گیا ہے۔

آخری اطلاعات آنے تک پاک فوج

آپریشن کے دوران کمک بھی طلب کی گئی

حکام کا کہنا تھا کہ کمانڈوز کے خصوصی دستے مسجد اور جامعہ حفصہ کے تہہ خانوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دونوں اطراف سے فائرنگ جاری تھی اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ مسجد اور مدرسے میں مورچہ بند شدت پسندوں کے پاس راکٹ لانچروں اور دستی بموں سمیت ہر قسم کے ہتھیار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ میں پچہتر کمرے اور تہہ خانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کمرے، برامدے اور تہہ خانے سے مزاحمت ہو رہی ہے۔

مسجداور مدرسے کے خلاف آپریشن کو سرکاری طور پر ’آپریشن سائلنس‘ کا نام دیا گیا تھا جس کے دوران وفاقی دارالحکومت شدید فائرنگ اوردھماکوں کی آوازوں سے گونجتا رہا۔

اس فوجی آپریشن کے دوران لال مسجد اور چار منزلوں پر مشتمل جامعہ حفصہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ہر کوئی جلدی میں ہے۔۔۔۔
 آوازيں گوليوں کی آ رھی ھيں۔ بعض اوقات زور دار دھماکوں کی آوازيں آتی ھيں۔ ايمبولينسوں کی آوازيں آرھی ھيں۔ پوليس کی گاڑياں، آرمی کی گاڑياں فراٹے مارتی گزر رھي ھيں۔ ھر جوان لگتا ھے جلدی ميں ھے۔ اسلام آباد کا امن سکون ختم ھو گيا ھے۔
 
راجہ صبور، اسلام آباد

عبدالرشید غازی کا رابطہ آخری مرتبہ ایک پرائیویٹ چینل سےہوا تھا جس میں انہوں نے اپنی معصومیت کا دعویٰ کیا تھا۔

صبح چار بجے شروع کیئے جانے والے اس آپریشن میں جو آخری اطلاعات آنے تک جاری ہے زخمی ہونے والوں کی حتمی تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

ادھر حکام نے صحافیوں کے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ تاہم بڑی تعداد میں ایمبولینسوں کے ذریعے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ دونوں شہروں کے تمام ہپستالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسلام آباد کے ہپستالوں میں عام مریضوں کو بھی آنےنہیں دیا جا رہا۔

ہسپتال جانے والے صحافیوں کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ اگر میڈیا کے کسی شخص کو ہسپتال میں دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے علاقے میں بدستور کرفیو نافذ ہے اور منگل کی صبح کرفیو میں نرمی کے وقفے کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔

آپریش شروع ہونے کے بعد مسجد اور مدرسے کے احاطے سے بیس کے قریب بچے نکل کر بھاگے تھے جنہیں سکیورٹی فورسز نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا۔

اسلام آباد کے ہپستالوں میں عام مریضوں کو آنےنہیں دیا جا رہا

لال مسجد اور حکومت کے درمیان گزشتہ رات اس وقت مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل نکلنے کی امید پیدا ہو گئی تھی جب سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کی قیادت میں ایک وفد نے علماء کے ذریعے مسجد اور مدرسے کے مہتمم عبدالرشید غازی سے بات چیت شروع کی تھی۔

سوموار کو رات گئے حکومتی وفد نے عبدالرشید غازی سے بات چیت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی تھی۔ تاہم رات کسی وقت مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد منگل کی صبح چار بجے کے قریب فوجی آپریشن کا فیصلہ کن دور شروع ہوگیا۔

(ہارون رشید، نیئر شہزاد، محمداشتیاق، اعجاز مہر)

 
 
چودھری شجاعتآخری بات
گزشتہ رات مذاکرات ختم ہو گئے تھے
 
 
’گولی ماردیں‘
ہسپتالوں میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی
 
 
آپریشن سائلنس
سکیورٹی فورسز کی کارروائی لمحہ بہ لمحہ
 
 
زخمیلال مسجد آپریشن
فوجی کارروائی کئی گھنٹوں سے جاری
 
 
لال مسجد آپریشن کے زخمیزخمیوں میں اضافہ
لال مسجد آپریشن کے زخمی: تصاویر میں
 
 
لال مسجد طالب(فائل فوٹو)’وہ تو صحافی تھا‘
’میرا بیٹا نہ دہشتگرد تھا نہ سپریم کمانڈر‘
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد