BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 July, 2007, 22:25 GMT 03:25 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
لال مسجد: سوالوں کے جواب ندارد
 

 
 
لال مسجد کے اندر کا منظر
کوئی کمرہ کوئی دیوار محفوظ نہیں رہی
لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں کوئی زیر زمین سرنگ نہیں، غیرملکیوں کی موجودگی کی بھی ابھی تصدیق نہیں ہوسکی، ابو زر جیسے شدت پسند کیا ہوئے، یرغمالیوں کی تعداد آیا صرف چھاسی تھی یہ بھی واضح نہیں، وہ کہاں تھے اور کہاں چلے گئے؟

مسجد اور مدرسے کے دورے کے بعد بھی ان سوالات کے جواب نہیں مل سکے۔

مسجد و مدرسہ میں صرف رینجرز اور گولیوں سے چھلنی در و دیوار تھے۔ جن دیواروں پر آیات یا نظمیں لکھی تھیں وہاں اب گولیوں نے عجیب و غریب نقوش چھوڑے تھے۔

مسجد کا مرکزی ہال تو محفوظ رہا تاہم اس کے برآمدے کی ٹین کی چھت بےشمار سوراخوں اور در و دیوار آگ سے سیاہ ہوچکے تھے۔ دو میناروں کو بھی گولیوں سے نہیں بلکہ بظاہر راکٹوں سے نقصان پہنچا ہے۔

رینجرز بوٹوں میں جب مسجد میں گھومتے دیکھے گئے تو چند صحافیوں کی شکایت پر فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ مسجد نہیں رہی۔ مسجد کے احاطے میں سکیورٹی فورسز نے خاردار تار لگا کر صحافیوں کی تقل وحرکت محدود رکھی گئی تھی۔

مدرسے کے فرش ٹوٹے ہوئے شیشیوں، طالبات کے جوتوں، پتھروں، پلاسٹک کے برتنوں اور ملبے سے بھرے پڑے تھے۔ مدرسے کی حالت سے صاف ظاہر تھا کہ میدان جنگ مسجد سے زیادہ یہ چار منزلہ عمارت رہی۔ کوئی کمرہ کوئی دیوار محفوظ نہیں رہی۔

 انیس افراد کی جلی ہوئی لاشیں ملیں ہیں جن کی شناخت ممکن نہیں دو افراد کی کم گہری قبروں سے لاشیں بھی ملی ہیں تاہم کوئی اجتماعی قبر نہیں ملی
 
میجر جنرل وحید ارشد

تہہ خانے پہنچے تو وہ اس قسم کا نہیں جو ذہن میں آتا ہے۔ زیر زمین بڑے بڑے کمرے ضرور ہیں تاہم ان میں جنوب کی جانب باقاعدہ بڑی بڑی کھڑکیاں ہیں جوکہ قریب سے گزر رہے ایک نالے کی جانب کھلتی ہیں۔ اسی جانب سے داغے گئے راکٹوں سے دیواروں میں بڑے بڑے سوراخ بھی تھے۔

مسجد و مدرسے میں اتنے زور دار دھماکے ہوئے کہ پنکھوں کے پر ان کی شدت سے آسمان کی جانب مڑ گئے تھے۔ صحن میں اونچے چبوترے جن پر شاید مدرسے کی سیاہ برقعوں میں ملبوس طالبات بیٹھا کرتی تھیں ویران پڑے تھے۔

مدرسے کے ہی ایک کمرے میں صحافیوں کو دکھانے کے لیے قبضے میں لیا گیا اسلحہ سجایا گیا تھا۔ اس میں پستول سے لے کر مشین گنز، دستی اور پیٹرول بم، استعمال شدہ اور غیراستعمال شدہ گولیوں کے ڈھیر اور راکٹ لانچر شامل تھےالبتہ ان پندرہ خودکش حملہ آوروں کی بیلٹس نظر نہیں آئیں جن کی ذرائع ابلاغ میں سرکاری ذرائع کے مطابق بات کی گئی تھی۔

لال مسجد
اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکار کام آئے

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک شخص نے سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے کی ناکام کوشش کی تھی۔

نقصانات کے بارے میں تازہ ترین اعدادوشمار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں پچھتر لاشیں ملیں ہیں جن کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکار کام آئے جن میں ایک رینجرز کا ایک اہلکار شامل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ انیس افراد کی جلی ہوئی لاشیں ملیں ہیں جن کی شناخت ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو افراد کی کم گہری قبروں سے لاشیں بھی ملی ہیں تاہم کوئی اجتماعی قبر نہیں ملی۔

مسجد و مدرسے کے باہر کئی مقامات پر دیوراوں میں شگاف ڈالے گئے تھے اور مدرسے کا آہنی دروازہ بھی گرا ہوا تھا۔ ایک جلی ہوئی گاڑی بھی باہر کھڑی تھی۔ اندر کئی کنکریٹ پلر بھی دھماکوں سے ٹوٹ چکے تھے۔

مسجد و مدرسے کے درمیان واقع بچوں کی لائبریری بھی جس پر طالبات نے جنوری میں قبضہ کر لیا تھا بھی لڑائی سے متاثر ہوئی۔ جبکہ قریب میں عبدالرشید غازی اور ان کے بھائی کی رہائش گاہ اور چند کواٹروں کا بھی ہال باقی عمارتوں سے مختلف نہیں تھا۔

مدرسے کی ایک سمت عمارت میں آگ لگی تھی جس سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس سے مختلف چیزوں کے جلنے سے درمیانے دھماکے بھی سننے گئے۔

اس تمام لڑائی میں مثبت بات کمروں میں ہزاروں کی تعداد میں موجود دینی کتب محفوظ دکھائی دے رہی تھی۔کہیں کہیں خون کے دھبے موجود ہیں۔ بظاہر سکیورٹی فورسز نے صحافیوں کو لانے سے قبل کافی صفائی بھی کی ہوگی۔

لال مسجد
کل کا ہنگامہ آج کی خاموشی

میجر جنرل وحید ارشد سے جب دریافت کیا کہ اتنے بڑے جانی نقصان کے بعد کیا وہ اس آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہیں تو وہ غصے میں بولے کہ ’اس کا جواب آپ حکومت سے پوچھیں حکومت نے فوج کو ایک مشن دیا تھا وہ ہم نے حاصل کیا۔ اور یہی ہماری کامیابی ہے‘۔

ایک صحافی مسعود عاصم کا کہنا تھا کہ حکومت اس دورے سے پہلے جو باتیں کر رہی تھی اور اب جو یہاں بتا رہی ہے اس میں فرق نظر آ رہا ہے۔ ’پہلے حکومت کا موقف تھا کہ یہاں انتہائی مطلوب افراد ہیں اور ابو منصور انہیں لیڈ کر رہا ہے اور دوسرا زیر زمین غار ہیں۔ مجھے لگتا ہے انہیں غلط معلومات ملی تھیں‘۔

لال مسجد و مدرسہ جہاں نو روز پہلے تک لاٹھیوں اور بندوقوں سے مسلح طلبہ بات بات پر غصے میں سڑکوں پر آجاتے تھے وہاں آج عجیب خاموشی تھی۔ اس مقام پر گزشتہ دو روز کی کارروائی میں کیا ہوا شاید ہی کسی کو کبھی معلوم ہوسکے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد