BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 11:20 GMT 16:20 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ریفرنس کالعدم، جسٹس افتخار بحال
 

 
 
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی پر وکلاء اور عوام کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل کورٹ بنچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ان کے عہدے پر متفقہ طور پر بحال کرتے ہوئے ریفرنس کو اکثریتی فیصلے کے تحت کالعدم قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتح یا شکست کے دعوے کرنے کا وقت نہیں ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ہفتے کی شام پہلا حکم جاری کرتے ہوئے ایڈشنل رجسٹرار محمد علی کی جگہ ڈاکٹر فقیر محمد کھوکھر کو تعینات کیا ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر فقیر محمد کھوکھر نو مارچ کو چیف جسٹس کی معطلی سے پہلے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے عہدے پر فائز تھے۔

جسٹس خلیل الرحمنٰ رمدے کی سربراہی میں کام کرنے والے فل بنچ نے شام چار بج کر سترہ منٹ پر فیصلہ سنایا۔ جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کا فیصلہ تو تیرہ رکنی بنچ نے متفقہ طور پر کیا لیکن صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دینے کے مسئلے پر جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس سید اشہد نے بنچ کے باقی ارکان سے اختلافی نوٹ لکھا ہے۔

مریض کو راحت
 اداروں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا کردار ایک ڈاکٹر کی طرح ہوتا ہے جو مریض کو راحت فراہم کرتا ہے
 
جسٹس رمدے

سپریم کورٹ نے نو مارچ کو صدر جنرل پرویز مشرف اور سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو کام سے روکنے کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے صدارتی حکم کو آئین سے متصادم قانون قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا حکم جاری کیا اور اسی قانون کے تحت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جبری رخصت پر بھیجنے کا نوٹیفیکشن بھی کالعدم قرار پایا۔

تیرہ رکنی فل کورٹ نے نو مارچ کو قائم مقام چیف جسٹس کی تعیناتی کو غیر آئینی اقدام قرار دیا لیکن اس دوران ہونے والے تمام فیصلوں کو جائز قرار دیا۔اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور سید سعید اشہد کے مطابق صدر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور ریفرنس دائر ہونے کی صورت میں عدالت چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔

فیصلہ سنتے ہی سپریم کورٹ کے اندر اور باہر موجود سینکڑوں وکلاء نے زبردست نعرے بازی کی اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اعتزاز احسن نے فل بنچ کے مختصر فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جسٹس افتخار چودھری کو مکمل طور پر ان کے عہدے پر بحال کر دیا گیا ہے۔

جمعہ کو مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے جوابی دلائل مکمل کیے۔ دلائل کے دوران اعتزاز احسن نے حکومتی وکیل سید شریف الدین پیرزاد کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بینچ میں شامل ججوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ چیف جسٹس کو غیر فعال بنائے جانے پر انہوں نے کیا کیا تھا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ شاید سید شریف الدین پیرزادہ نے ٹھیک ہی کہا تھا، اگر اور کچھ نہیں تو چار دن جج بینچ پر نہ بیٹھتے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے۔

اس بات پر تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے برہم ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم کوئی ٹریڈ یونین نہیں کہ احتجاج کرتے پھریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بینچ میں نہ بیٹھے ہوتے تو اس مقدمے کی سماعت بھی نہ ہو رہی ہوتی۔

جسٹس رمدے نے اعتزاز احسن کے بیان کہ بینچ کے فیصلے سے فتح اور شکست کا تعین ہو گا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی فرد کی فتح یا شکست نہیں بلکہ پورے ملک کی فتح یا شکست ہو گی۔

جسٹس افتخار کی بحالی صدر مشرف کے لیے دھچکا قرار دی جا رہی ہے

فل کورٹ کے سربراہ نے نام لیے بغیر حکمراں جماعت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اس بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جس میں انہوں نے عدالتی بحران کو عدلیہ اور فوج کی لڑائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اداروں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا کردار ایک ڈاکٹر کی طرح ہوتا ہے جو مریض کو راحت فراہم کرتا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا اور انہیں کام کرنےسے روک دیا تھا۔ پندرہ مارچ کو صدر نے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجنے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا۔

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک درجن سے زیادہ مرتبہ پیش ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جس کی سماعت کے لیے پہلے پانچ رکنی اور بعد میں حکومتی اعتراض پر تیرہ رکنی فل کورٹ تشکیل دی گئی۔

بدنیتی پر مبنی
 چیف جسٹس نے اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کےخلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا ہے، چنانچہ عدالت اسے ختم کر دے
 

چیف جسٹس نے اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کےخلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا ہے، چنانچہ عدالت اسے ختم کر دے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کا موقف تھا کہ چیف جسٹس کی ملک میں موجودگی کی صورت میں قائم مقام چیف جسٹس تعینات نہیں کیا جا سکتا۔

فل کورٹ نے چودہ مئی سے مقدمے کی سماعت شروع کی جو مسلسل بیالیس روز تک جاری رہی۔ چیف جسٹس کی طرف سے بیرسٹر اعتزاز احسن نے دلائل دیئے جبکہ وفاقی حکومت نے تیرہ وکلاء کی خدمات حاصل کیں۔

صدر پرویز مشرف کی طرف سے سینئر وکیل سید شریف الدین پیرزادہ فل کورٹ کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو فریقین کی فہرست سے خارج کیا جائے۔

عدالت نے چیف جسٹس کے وکلاء اور تئیس دوسرے درخواست گزاروں کی پیٹشن کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل سننے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی باقاعدہ سماعت کرے گی جبکہ باقی درخواستوں کا فیصلہ چیف جسٹس کی درخواست کے فیصلے کی روشنی میں کر دیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ارکان جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین چودھری سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ صدر مشرف نے انہیں نو مارچ کو راولپنڈی میں واقع چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس میں بلا کر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا اور جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو انہیں پانچ گھنٹوں کے لیے ’آرمی ہاؤس‘ میں نظر بند رکھا گیا۔

فریق نہ بنایا جائے
 صدر پرویز مشرف کی طرف سے سینئر وکیل سید شریف الدین پیرزادہ فل کورٹ کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو فریقین کی فہرست سے خارج کیا جائے
 

چیف جسٹس پہلی مرتبہ تیرہ مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوئے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے جب چیف جسٹس نے پیدل سپریم کورٹ پہنچنا چاہا تو اسلام آباد پولیس نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی اور اسی دوران چیف جسٹس کے ساتھ بد سلوکی کا واقعہ پیش آیا۔

چیف جسٹس کے خلاف کارروائی پر وکلاء اور عوام کے شدید رد عمل کے بعد مختلف ٹی وی انٹرویوز صدر مشرف نے موقف اختیار کیا کہ ان کے چیف جسٹس کے ساتھ خوشگوار مراسم تھے اور ان کے خلاف ریفرنس وزیر اعظم شوکت عزیز کے مشورے پر دائر کیا گیا ہے، کیونکہ وہ آئینی طور پر وزیراعظم کا مشورہ ماننے کے پابند ہیں۔

سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی فل کورٹ جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس شاکر اللہ جان، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس سعید اشہد، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض احمد، جسٹس چودھری اعجاز احمد، جسٹس سید جمشید علی، جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل تھا۔

چیف جسٹس اور جنرل مشرف
جنرل مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو آرمی ہاؤں بلایا تھا۔

 
 
جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
اٹھارہ اپریل سے بیس جولائی تک کب کیا ہوا
 
 
’جج بنا دوں گا۔۔۔‘
عدالت میں دلچسپ اقوال سننے کو ملے
 
 
چیف جسٹسبڑے کردار
چیف جسٹس کیس کی اہم شخصیات کے خاکے
 
 
جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
’مقدمہ اگلےدو ہفتوں میں اختتام پذیرہوسکتا ہے‘
 
 
جسٹس افتخار محمد چودھری حکومتی بیاناتِ حلفی
چیف جسٹس پر خفیہ اداروں کے الزامات
 
 
   کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
 
 
موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد