BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 August, 2007, 11:09 GMT 16:09 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’نواز، شہباز شریف وطن واپس آسکتے ہیں‘
 

 
 
سابق وزیر اعظم نواز شریف

پاکستان کے سپریم کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی آئینی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں وطن واپس آنے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سنایا۔


اس سے قبل سماعت کے دوران وفاق کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف خاندان رضاکارانہ طور پر اپنی مرضی سے ملک سے باہر گئے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صدر مشرف کی کتاب ان دا لائن آف فائر کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں لکھا گیا ہے کہ سابق وزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف ملک سے نہیں جانا چاہتے تھے۔ عدالت نے صدر مشرف کی کتاب احمد رضا قصوری کے حوالے کی اور انہیں متعلقہ صفحات پڑھنے کو کہا اور ان کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔

عدالت کے استفسار پر احمد رضا قصوری نے بتایا کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی واپسی سے متعلق کوئی منفی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی منفی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے تو وہ وطن واپس آ سکتے ہیں۔

وفاق کے دوسرے وکیل راجہ ابراہیم ستی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے سے ملک میں ایمرجنسی لاگو ہے۔ اس پر عدالت نے ابراہیم ستی سے کہا کہ وہ ذرا سوچ کر بیان دیں کیونکہ ان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے دوررس نتائج ہو سکتے ہیں۔

کوئی ایمرجنسی نہیں
 عدالت کے پوچھنے پر اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے ایمرجنسی سے متعلق بیان کی وضاحت کے لیے بیس منٹ کی مہلت مانگی جس پر عدالت کی کارروائی بیس منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اپنی عدالت میں واپسی پر اٹانی جنرل نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق بحال ہیں اور کوئی ایمرجنسی نہیں
 

عدالت کے پوچھنے پر اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے ایمرجنسی سے متعلق بیان کی وضاحت کے لیے بیس منٹ کی مہلت مانگی جس پر عدالت کی کارروائی بیس منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اپنی عدالت میں واپسی پر اٹانی جنرل نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق بحال ہیں اور کوئی ایمرجنسی نہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ عدالت اس آئینی پٹیشن کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ چند روز بعد لارجر بینچ کے کچھ جج صاحبان تعطیلات کی وجہ سے دستیاب نہ ہوں۔

صبح کی کارروائی کے دوران سات رکنی بینچ نے کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے عدالت میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات معاہدہ کی ذیل میں نہیں آتیں اور انہیں صرف عہد نامہ کہا جا سکتا ہے۔

سماعت کے آغاز میں نواز شریف خاندان کے وکیل جسٹس فخرالدین جی ابراہیم نے پٹیشنوں کی حمایت میں دلائل دیئے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل پندرہ کے تحت ملک کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے بلا کسی روک ٹوک کے وطن واپس آ سکتا ہے۔


پٹیشنوں کے خلاف دلائل دیتے ہوئے وفاق کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف خاندان کی طرف سے دائر کی جانے والی پٹیشنیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ عدالت کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایک دوست ملک سے شریف خاندان کے معاہدوں کی اصل کاپیاں حاصل کر لی ہیں۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس محمد رضا خان نے کہا کہ ان دستاویزات کو معاہدے نہ کہا جائے کیونکہ ان پر صرف ایک فریق کے دستخط موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات کو زیادہ سے زیادہ عہد نامے کہا جا سکتا ہے۔

شریف خاندان کی جلاوطنی سے متعلق پٹیشنوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے سربراہی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کر رہے تھے جبکہ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس ناصرالملک اور جسٹس راجہ فیاض احمد بینچ کے دیگر ارکان میں شامل تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور کارکن آج کی سماعت میں بہت دلچسپی لے رہے تھے۔ پارٹی کی ایک مرکزی رہنماء تہمینہ دولتانہ اور حمزہ شریف عدالت کے اندر موجود تھے جبکہ مسلم لیگ کی قیادت کے کئی ارکان رہا ہونے والے لیگی رہنماء مخدوم جاوید ہاشمی سے انکے بھائی کے انتقال پر تعزیت کے لیے ملتان میں ہیں۔

اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کے علاوہ وفاق کی نمائندگی احمد رضا قصوری اور راجہ ابراہیم ستی کر رہے تھے جبکہ جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم شریف خاندان کے وکیل ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف نے دو مختلف آئینی درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملک میں رہنا اور اگلے انتخابات میں حصہ لینا شریف برادران کا بنیادی حق ہے اور حکومت ان کی ملک واپسی میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔

 
 
معاہدے میں کیا ہے؟
جلاوطنی کے معاہدے کے متن کی تلخیص
 
 
جلاوطنی کے معاہدے کا عکستصاویر میں
نواز شریف اور حکومت کے معاہدے کا عکس
 
 
شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
 
 
معافی، پھرمقدمہ کیسا
نیب کیس نہیں کھُل سکتے: ماہرین قانون
 
 
شہباز شریفمعاہدہ سے انکار نہیں
’بندوق کے زور پر کروائی گئی چیز کی کیا حیثیت‘
 
 
بینظیر کی ’ڈیل‘
نواز شریف نے بینظیر پر شدید تنقید کی ہے
 
 
اسی بارے میں
واپسی کی سماعت 16 اگست کو
09 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد