BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 14 September, 2007, 10:27 GMT 15:27 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
1857 کی جنگ میں سندھ کا کردار
 

 
 
جنگ آزادی کی فائل فوٹو
بہادر شاہ ظفر نے تالپور حکمران میر شیر محمد کو خط لکھ کر بغاوت میں مدد فراہم کرنے کا کہا تھا۔
پاکستان اور بھارت آزادی کا ساٹھواں سال منا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی برصغیر میں انگریز سرکار کے خلاف پہلی جنگ آزادی یا غدر کو بھی ڈیڑھ سو سال ہورہے ہیں، بھارت میں تو اس جنگ اور اس کے ہیروز یا سورماؤں کو یاد کرنے کے لیے تقریبات بھی منعقد کی گئیں مگر پاکستان میں کسی کو یہ بات یاد نہیں رہی۔

1857 کی یہ جنگ برصغیر میں انگریز سامراج کے قبضے کے خلاف مسلح کارروائیوں کا آغاز تھی، جس میں سندھ نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے مگر اس بارے میں کم ہی لوگوں جانتے ہیں۔

جنوری سن 1857 کے اوائل میں مختلف چھاؤنیوں میں مسلح جھگڑوں کے اکا دکا واقعات ہونا شروع ہوئِے جنہوں نے مئی میں ایک بھرپور شکل اختیار کرلی جو انیس سو سینتالیس میں برصغیر میں انگریز حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی۔

1843 میں نیپیئر کی سربراہی میں سندھ بھی مفتوح ہوچکا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ پہلی جنگ آزادی میں سندھ نے حصہ لیا تھا۔

مورخ بھی کراچی سے جیکب آباد تک مختلف شہروں میں سابق حکمران تالپور خاندان کے افراد اور مقامی سرداروں کی مزاحمت کا ذکر کرتے ہیں۔

سندھ مغل سلطنت کے مرکز سے باہر کی ریاست تھی۔ تاریخ دان پروفیسر لائق زرداری کے مطابق تخت چھن جانے کے بعد آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے تالپور حکمران میر شیر محمد تالپور کو ایک خط لکھ کر بغاوت میں مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ میر شیر محمد نے اپنے سپاہیوں کو اسلحہ اور رقوم دے کر بادشاہ کی خدمت میں روانہ بھی کیاتھا۔ تاہم تالپور خاندان ہی کے ایک فرد کی انگریزوں کو مخبری کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔

ان دنوں سندھ میں بمبئی نیوانفٹری کی چار رجمنٹوں کے علاوہ سیکنڈ یورپین انفٹری، ہارس آرٹلری کی چوتھی بٹالین کی دو کمپنیاں اور دیگر فوج تعینات تھی۔

سندھ میں جنگ آزادی کی ابتدا ستمبر ااٹھارہ سو ستاون میں کراچی کی بندرگاہ پرایشیا نامی جہاز کے لنگر انداز ہونے سے ہوئی۔ اس جہاز پر حملہ کیا گیا مگر اس بغاوت کو جلد ہی کچل دیا گیا تھا۔

جہاز کے کپتان نے اپنی اور جہاز کی حفاظت اور بے چینی کو روکنے کے لیے باغی رہنما کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس پر احتجاجا باقی عملے نے کام کرنے سے انکار کردیا۔

مقامی سپاہیوں نے اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور پورے سندھ میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی۔ اس بے چینی کے اہم مراکز کراچی، حیدرآباد، شکارپور، جیکب آباد، سکھر اور میرپورخاص تھے۔

سندھ کی تاریخ پر ڈاکٹریٹ کرنے والے پروفیسر لائق زرداری کے مطابق ایک برطانوی اہلکار نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ چودہ ستمبر اٹھارہ سو ستاون کی رات کو گیارہ بجے دو ہندوستانی افسران نے کراچی کے کمانڈنگ آفیسر کو مطلع کیا کہ اکیسویں رجمنٹ کے سپاہی مشورہ کر رہے ہیں اور آدھی رات کو بمبئی نیٹیو انفنٹری بغاوت کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمانڈر نے فوری طور پر شہری انتظامیہ کو مطلع کیا۔

باغی رہنماؤں کو توپ دم کیا گیا
باغی رہنماؤں کو توپ دم کیا گیا تھا

انگریز خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ جب کہ سیکنڈ یورپین انفنٹری نے اکیسویں رجمنٹ کے رہائشی علاقے کا محاصرہ کر کے سپاہیوں کو پیش ہونے کاحکم دیا۔ سپاہیوں کو غیر مسلح کرنے کے بعد چھپائے گئے اسلحہ کی کھوج لگائی گئی۔

جب کہ بمبئی انفنٹری کے تیس سپاہی جن کو باغیوں نے جنرل کمانڈنگ آفیسر، کمشنر اور دیگر اہلکاروں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا وہ پہاڑیوں کی طرف فرار ہو گئے جنہیں بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کا کورٹ مارشل کر کے تین کو توپ سے اڑا دیا گیا اور باقی گیارہ کو پھانسی اور کچھ کو جلاوطن کردیا گیا۔

کراچی کی تاریخ پر دسترس رکھنے والے آرکیٹیٹ عارف حسن کا کہنا ہے کہ اس بغاوت کا سرغنہ بریلی سے تعلق رکھنے والا صوبیدار رامے پانڈے تھا جس کے ساتھ تین ’باغیوں‘ کو توپ دم کیا گیا یعنی توپ کے دہانے سے باندھ کر اڑایا گیا تھا۔

کراچی سے اس وقت سندھی میں شایع ہونے والے اخبار القاصدنےاٹھارہ ستمبر اٹھارہ سو ستاون کی اشاعت میں واقع کا ذکر کچھ اس طرح سے کرتا ہے’ّّ دس کی تعداد میں قیدیوں کو لکڑی کے بنے ہوئے ایک چبوترے پر یورپی پہریداروں کی نگرانی میں ان کی کور کے سامنے لایا گیا۔ بریگیڈ کے میجر بلیک نے زوردار آواز میں الزامات اور فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کی میجر گولڈ سمتھ نے وضاحت کی۔ سات افراد کو سزائے موت سنائی گئی اور تین کو توپ سے اڑا دیا گیا‘۔

باغیوں نے انگریز فوج کو نشانہ بنایا
باغیوں نے انگریز فوج کو نشانہ بنایا

ان سزائے موت پر عمل کی چشم دید تفصیلات کچھ یوں دی ہیں سات قیدیوں کو فوری طور پر سیڑھیوں کے ذریعے تختے پر پہنچایا گیا ’ ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، ان کی آنکھوں پر پٹی باندھے بغیر ان کی گردنوں میں رسی کس دی گئی اور مقامی جلادوں کو اشارہ کیا گیا کہ وہ ان کے پیروں تلے تختہ کھینچ لیں‘ بعد ازاں اپنے ساتھیوں کا انجام دیکھنے والے تین قیدیوں کو کھلے میدان میں کھڑا کیا گیا جہاں یورپی اور دیسی سپاہیوں نے پوزیشن اختیار کی ہوئی تھی۔

تین توپیں تیار کی گئیں پشت کی سمت بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ باغیوں کو ان کے سامنے کھڑا کیا گیا۔ میجر بلیک نے ہاتھ لہرا کر اشارہ دیا۔ توپچیوں نے توپیں چلا دیں اور ان کے اعضا اڑ کر دور دور تک جاگرے، جنہیں فوری طور پر خاکروبوں نے جمع کیا اور ایک ریڑھے میں ڈال کر لے گئے۔

’ اس کے بعد پھانسی پانے والوں کی رسیاں کاٹ دی گئیں اور انہیں بھی اسی طرح لے جایا گیا‘۔

عارف حسن کا کہنا تھا کہ کراچی کا مشہور تاجر ناؤ مل ہوتچند انگریزوں کا جاسوس تھاجس نے اس بغاوت کی مخبری کی تھی، سندھ کے بعض دیگر محقیق بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔

ان واقعات کو اس سال اٹھارہ ستمبر میں ڈیڑہ سو سال ہو رہے ہیں لیکن کراچی کے لوگ اپنے ان سورماؤں سے انجان ہیں۔ عارف حسن کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے نام سے یہاں ضرور کوئی یاددگار یا سڑک ہونی چاہیے، تاکہ آنے والی نسلیں ان سے باخبر رہیں۔

پروفیسر لائق زرداری کا کہنا ہے کہ تمام ریکارڈ اور شواہد انگریز اپنے ساتھ لے گئے، اس لیے لوگوں کو پتہ نہیں ہے کہ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ میں ان کے سورما کون تھے۔

بھارت میں سورماؤں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا
بھارت میں سورماؤں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا

یہ تو ظاہر ہے کہ پاکستان تو کیا سندھ کے نصاب کی کتابوں میں بھی جنگ میں شریک لوگوں کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے حالانکہ انیس سو ستاون کی جنگ کے تین اہم شہروں میں سے کراچی بھی ایک تھا۔

برطانوی فوج میں شامل ہندو اور مسلمان سپاہیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف اس بنا پر بغاوت کی تھی کہ ان کی بندوقوں کی گولیوں پر گائے اور سؤر
کی چربی چڑھی ہوئی تھی جسے چھونا ان کے مذہب میں منع تھا۔

اس جنگ کی ابتدا میرٹھ سے ہوئی تھی جو پورے ہندوستان میں پھل گئی، منگل پانڈے بھی اس جنگ کا ایک سورما ہے۔

 
 
لکھنؤ میں نمائش
1857 کی نایاب دستاویزات اور تصاویر
 
 
  1857 کی جنگ میں انڈین سپاہیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا 1857 کی جنگ
’جنگ آزادی‘ کی یاد میں لال قلعہ پر تقریب
 
 
1857 کی جنگآزادی کی پہلی جنگ
جب باغیوں نے انگریز کے خلاف تلوار اٹھا لی
 
 
خونی دروازہخونی دروازہ
بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں کو یہاں قتل کیا گیا
 
 
1857 کی نقل مکانی
جب مہاراشٹر مسلمانوں سے آباد ہوا
 
 
1857 کی جنگ
کچھ اہم تاریخی تصاویر اور پینٹنگنز
 
 
برطانوی فوج میں ہندوستانی سپاہیمیرٹھ سے دِلّی تک
1857 کی ایک سو پچاسویں برسی پر ریلی
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد