BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 10 September, 2007, 09:39 GMT 14:39 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بارہ مئی: ’سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ‘
 

 
 
عدالت کے باہر مجمع
مجمع نے عدالت کے احاطے میں الطاف حسین کے حق میں نعرے بھی لگائے
کراچی میں پیر کو سندھ ہائی کورٹ میں بارہ مئی کے واقعات کے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینکڑوں کارکن اور ہمدرد عدالت کے اندر اور باہر جمع ہوگئے جس کے بعد عدالت نے سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کردی۔ سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔

پیر کی صبح سے ہی ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی سمیت سینکڑوں کارکن سندھ ہائی کورٹ کے اندر اور باہر جمع ہوگئے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ اس موقع پر عدالت کا احاطہ اور مرکزی دروازہ گھیراؤ کا منظر پیش کر رہا تھا۔

مجمع نے عدالت کے احاطے میں الطاف حسین کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔

 بعض افراد نے کمرہ عدالت کے دروازے پر قبضہ کرلیا جو آنے والے لوگوں کو شناخت کر کے اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے
 

بعض افراد نے کمرہ عدالت کے دروازے پر قبضہ کرلیا جو آنے والے لوگوں کو شناخت کر کے اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے۔ ایک صحافی نے بتایا کہ جب وہ سماعت کی رپورٹنگ کے لیے عدالت میں داخل ہو رہے تھے تو انہیں ان افراد نے روکا اور ان کی شناخت معلوم کی جس پر وہ یہ کہہ کر کہ وہ عدالت میں ہی ملازمت کرتے ہیں کمرہ عدالت میں داخل ہوسکے۔

اس صورتحال کے بعد بارہ مئی کے واقعات سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ میں شامل ججز کمرہ عدالت میں نہیں آئے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے فریقین کے وکلاء کو اپنے چیمبر میں بلایا اور درخواستوں کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ وہ دباؤ کے حالات میں سماعت کرنے سے قاصر ہے۔

سات رکنی بینچ نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس صبیح الدین کو عدالت کی سکیورٹی کے سلسلے میں انتظامی حکم جاری کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

کمرہ عدالت کے باہر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی کنور خالد یونس نے کہا کہ ’ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ عام آدمی کو ہائی کورٹ میں عدالت میں آنے سے روکا جائے اور ہم عام آدمی ہیں عام ورکر کے طور پر آئے ہیں تو اس پر کوئی قانونی قدغن نہیں ہے۔‘

بارہ مئی کو کراچی میں پرتشدد واقعات میں کئی افراد ہلاک ہو گئے تھے

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی مثالیں موجود ہیں کہ جب ججز ملاؤوں اور مذہبی جماعتوں کے خلاف فیصلے کرتے تھے تو مذہبی جماعتیں مدرسوں سے لوگ بلوا لیتے تھے جو باقاعدہ عدالتوں کا گھیراؤ کرلیتے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایسی کسی مثال ہی کی پیروی کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا گھیراؤ کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کوئی گھیراؤ نہیں کیا عام آدمی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ آئے اور کارروائی سنے۔ میرے خیال میں آپ کے الفاظ اس بات کو تقویت دے رہے ہیں کہ عدالت کچھ خاص لوگوں کے لئے ہے ایسا نہیں ہے عام آدمی یہاں آسکتا ہے۔‘

اس سوال پر کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں عام لوگوں کو عدالت میں جمع کرنے کا مقصد عدالتی کارروائی پر اثر ڈالنا ہے، تو انہوں نے کہا ’نہیں، ماضی میں ملاؤوں نے البتہ باقاعدہ عدالتوں پر دباؤ ڈالا ہے اور ان کو ایک طرف کیا ہے۔‘

ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ خود کو ان انتہا پسندوں سے ملارہے ہیں تو انہوں نے کہا ’نہیں، وہ بھی شہری ہیں اور ہم بھی شہری ہیں۔‘

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے امور داخلہ وسیم اختر کے وکیل اقتدار ہاشمی نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں جو لوگ جمع ہوئے وہ کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے اور عدالت کے حکم میں بھی کسی ایک جماعت کا نام نہیں ہے۔

پیر کی شام متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پیر کو کراچی کے ہزاروں شہری بارہ مئی کے مقدمے میں فریق بننے کے لیے تحریری حلف نامہ داخل کرنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ پہنچے تھے۔

 ہائی کورٹ میں جمع ہونے والے شہری اپنے ساتھ تحریری حلف نامے لائے تھے جسے وہ عدالت میں پیش کرنا چاہتے تھے لیکن عدالت نے کمرہ عدالت کی بجائے اپنے چیمبر میں اس مقدمے کی مختصر سماعت کی اور آئندہ سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی
 
متحدہ قومی موومنٹ

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’یہ شہری سماعت کے موقع پر عدالت سے استدعا کرنا چاہتے تھے کہ وہ بھی سانحہ بارہ مئی کے چشم دید گواہ ہیں اور سانحہ بارہ مئی کو انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ان دہشتگردوں کو دیکھا ہے جنہوں نے پرامن ریلی پر دہشتگردی کرکے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں‘۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ ’ہائی کورٹ میں جمع ہونے والے شہری اپنے ساتھ تحریری حلف نامے لائے تھے جسے وہ عدالت میں پیش کرنا چاہتے تھے لیکن عدالت نے کمرہ عدالت کی بجائے اپنے چیمبر میں اس مقدمے کی مختصر سماعت کی اور آئندہ سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی‘۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سماعت کے موقع پر ایم کیو ایم کے وکلاء اور قانونی ماہرین بھی موجود تھے۔

 
 
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
 
 
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
 
 
اسی بارے میں
12مئی، عدالتی ہدایت پرمقدمہ
09 September, 2007 | پاکستان
کس کے کتنے ہلاک ہوئے؟
12 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد