BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 October, 2007, 10:34 GMT 15:34 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مہنگا ترین صدارتی الیکشن
 

 
 
صدر مشرف کے پوسٹر
حکومت پاکستان کی اشتہاری مہم کو سات موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے
پاکستان میں چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کا شمار ملکی تاریخ کے مہنگے ترین صدارتی انتخابات میں ہوگا۔
جہاں پچھلے دو ہفتے جنرل مشرف کے سیاسی مشیروں کی پس پردہ سرتوڑ کوششوں نے چھ اکتوبر کے انتخاب میں ان کی کامیابی کوتقریباً یقینی بنا لیا ہے وہاں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ایک دھواں دار تشہیری مہم جاری ہے جو صدر مشرف کے مبینہ کارناموں کا پرچار کر رہی ہے۔

کہنے کو تو پاکستان کے چار صوبے ہیں لیکن صدارتی انتخاب کی اشتہاری مہم بنیادی طور پر وفاق اور پنجاب کی حکومتیں چلا رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس مہم کو خوشحال پاکستان کا نام دیا گیا ہے جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے یہ مہم خوشحال پنجاب کے نام سے چل رہی ہے۔

یہ دونوں تحریکیں ملکی اخبارات کے ساتھ ساتھ مقامی ٹیلی وژن چینلز پر بھی چل رہی ہیں۔

حکومت پاکستان کی اشتہاری مہم کو سات موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں مختلف دورانیے کی اشتہاری فلمیں ہیں جن میں بنیادی سہولیات (تئیس سیکنڈ) ، پانی کی فراہمی (انیس سیکنڈ)، بجلی کی فراہمی (بائیس سیکنڈ)، سوئی گیس (پچیس سیکنڈ)، سڑکیں (پچیس سیکنڈ)، صحت (ستائیس سیکنڈ)، اور اسی طرح کے دیگر موضوعات شامل ہیں۔ ان سات مختلف اشتہاری فلموں کا کل دورانیہ لگ بھگ تین منٹ بنتا ہے۔

  پندرہ چینلز، چھ منٹ روزانہ، پندرہ دن اور ستر ہزار روپے فی منٹ کے حساب سے چینلز پر کُل خرچہ ساڑھے نو کروڑ۔ واضح رہے کہ یہ ایک انتہائی محتات اندازہ ہے
 

اس وقت ملک بھر میں تیس سے زائد نجی ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں اور ان میں سے کم سے کم آدھے چینلز باقاعدہ یہ مہم نشر کر رہے ہیں۔

نجی چینلز کے اشتہاری شعبوں سے بات چیت کے بعد جو تصویر سامنے آتی ہے اس کے مطابق اس مہم کے لیے اوسط ریٹ تقریباً ایک لاکھ روپے فی منٹ طے کیا گیا ہے۔ پندرہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر نجی چینلز زیادہ سے زیادہ رعایت تیس فیصد دیتے ہیں۔ اس حساب سے اگر جنرل سیلز ٹیکس نہ شامل کیا جائے تو اس اشتہاری مہم کا اوسط ریٹ تقریباً ستر ہزار روپے فی منٹ بنتا ہے۔

نجی چینلز کے افسران کے مطابق حکومت پاکستان نے اپنی اشتہاری مہم کا آغاز اٹھارہ ستمبر سے کیا ہے۔

ہر نجی چینل پر یہ اشتہاری مہم کم سے کم دن میں دو مرتبہ چلتی ہے یعنی وفاق اور پنجاب کی حکومتیں کم سے کم پندرہ ٹیلیوژن چینلز پر روزانہ کم از کم چھ منٹ کے وقت کا خرچہ اٹھا رہے ہیں۔

باقی حساب سیدھا سادہ ہے۔ پندرہ چینلز، چھ منٹ روزانہ، پندرہ دن اور ستر ہزار روپے فی منٹ کے حساب سے کل خرچہ ساڑھے نو کروڑ۔ واضح رہے کہ یہ ایک انتہائی محتات اندازہ ہے۔

اخبارات میں مشرف کے اشتہار
اخباراوں میں اشتہاری مہم پر کروڑوں روپےخرچ ہوئے

اخبارات میں اگرچہ اردو روزناموں کی تعداد سینکڑوں میں ہے لیکن قومی روزناموں کی تعداد آٹھ کے قریب ہے۔ اسی طرح ملک میں پانچ بڑے انگریزی روزنامے ہیں۔

بڑے بڑے اردو اخبارات سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق صفحہ اول پر ایک چوتھائی صفحے کے رنگین اشتہار کی قیمت تقریباً پانچ لاکھ روپے بنتی ہے اور یہ خصوصی اشتہاری نرخ صرف حکومت کو دیے جاتے ہیں۔ ان اخبارات میں پچھلے پندرہ دنوں سے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کی جانب سے صدارتی انتخاب کی اشتہاری مہم جاری ہے۔

حساب ایک بار پھر سیدھا ہے دس اشتہار، پانچ لاکھ روپے فی اشتہار اور آٹھ قومی روزنامے، کل لاگت چھ کروڑ روپے۔

انگریزی کے قومی روزناموں میں صفحہ اوّل پر ایک چوتھائی صفحے کے رنگین اشتہار کے حکومتی نرخ تقریباً پونے تین لاکھ روپے بنتی ہے۔ انگریزی روزناموں میں بھی اگر روزانہ ایک اشتہار کی اوسط لیں تو حساب کچھ اس طرح بنتا ہے۔ پانچ اشتہارات، پونے تین لاکھ روپے اور پانچ قومی روزنامے۔ کل خرچہ تقریبا دو کروڑ روپے۔

 انگریزی روزناموں میں اشتہارات کا خرچہ پانچ اشتہارات، پونے تین لاکھ روپے اور پانچ قومی روزنامے۔ کل خرچہ تقریبا دو کروڑ روپے
 

اس نہایت ہی محتاط اندازے کے مطابق اٹھارہ ستمبر سے پانچ اکتوبر تک پندرہ دنوں میں حکومت پاکستان ساڑھے سترہ کروڑ روپے کے اشتہارات چلا چکی ہے۔

یہ تخمینہ پوری تصویر بالکل نہیں ہے بلکہ شاید اس کا ایک معمولی حصہ ہو۔ بڑے مقامی چینلز اور اخبارات کے علاوہ ملک بھر کے ہر طرح کے چھوٹے بڑے اخبارات، رسائل اور ٹیلیوژن چینلز کے علاوہ درجنوں ایف ایم ریڈیو سٹیشنز پر بھی یہ اشتہاری مہم پورے زورو شور سے جاری ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ محلے کی سطح پر کام کرنے والے کیبل آپریٹر کو بھی اس اشتہاری مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ کیبل آپریٹر غیر قانونی طور پر نئی ہندوستانی فلمیں نشر کرتے ہیں اور انہیں فلموں کے بیچ صدارتی انتخاب کی اشتہاری مہم بھی چل رہی ہے۔

شاید اسی لیے اشتہاری دنیا میں کہا جا رہا ہے کہ اس اشتہاری مہم کا کل حجم اربوں روپے کا ہے۔ اور یہ سارا خرچہ حکمران مسلم لیگ کے بجٹ سے نہیں بلکہ قومی خزانے سے ہو رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں صدارتی انتخابی مہم پر اتنا پیسہ خرچہ گیا ہو۔

 
 
پرویز مشرف’آئے گا پھر دوبارہ‘
جنرل مشرف کی صدارتی مہم کا آغاز
 
 
اسی بارے میں
قومی مصالحتی آرڈیننس جاری
05 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد