BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 October, 2007, 08:31 GMT 13:31 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
صدارتی انتخاب: ’ملک و قوم کا وسیع تر مفاد‘
 

 
 
یہ دنیا کے ضیاء اور مشرف ہی ہیں جنہوں نے انتہا پسندی کو ہوا دی ہے: بینظیر بھٹو
صدارتی انتخاب میں جنرل پرویز مشرف کے فاتح کے طور پر سامنے آنے کے حوالے سے غالباً کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ ان کے مد مقابل امیدواروں میں سے مخدوم امین فہیم اور فریال تالپور کی جماعت کے ساتھ ’قومی مصالحت‘ ہو چکی ہے جبکہ جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ یہ انتخاب جیتنے کے لیے نہیں لڑ رہے۔

صدارتی حلقۂ انتخاب یعنی الیکٹورل کالج کی ساکھ مولانا فضل الرحمٰان نے سرحد اسمبلی تحلیل نہ کروا کے متاثر ہونے سے بچا لی ہے۔ باقی رہی بات ’عدالتی تلوار‘ کی تو اس کے لٹکنے میں دلِ خوش فہم کو حکمت نظر آتی ہے۔

دو عہدوں کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران جنرل مشرف کے وکلاء نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ دوبارہ صدر منتخب ہونے پر ان کے مؤکل چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑ دینگے۔

جنرل مشرف نے آئین میں سترھویں ترمیم متعارف کراتے وقت متحدہ مجلس عمل کے ساتھ بھی ایسا ہی وعدہ کیا تھا جو وہ بعد میں ’ملک و قوم کے وسیع تر مفاد‘ میں وفا نہ کر پائے تھے۔ نتیجتاً مجلس عمل کے پاس سوائے احتجاج اور روڈ مارچ کرنے کے اور کوئی راستہ نہ تھا۔

ظاہر ہے جج (بغیر معطل ہوئے) یہ تو نہیں کر سکتے، چنانچہ صدارتی انتخاب کا نتیجہ جنرل مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کے فیصلے سے مشروط ہے۔

مذہبی جماعتیں جنرل ضیاء کا دست و بازو رہیں تو جنرل مشرف کی ’دوستانہ حزب مخالف‘ بھی

لیکن اس دفعہ جنرل مشرف نے اعتماد سازی کے لیے کچھ عملی اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں سر فہرست اپنے جانشین کا اعلان ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو وائس چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا گیا ہے، جو جنرل مشرف کے سویلین ہو جانے کے بعد فوج کی قیادت سنبھالیں گے۔

جنرل کیانی کی نامزدگی سے پہلے ہی ان کے بارے میں امریکی ذرائع ابلاغ میں موافقانہ مضامین اور تجزیے شائع ہونا شروع ہوگئے تھے۔

ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مغربی طرزِ زندگی رکھنے والے چین سموکر ہیں (سگریٹ سے سگریٹ سلگا کر پینے والے) اور گولف کے شوقین ہیں اور یہ کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو معطل کیے جانے میں ان کی رائے شامل نہ تھی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ملٹری انٹیلجنس اور انٹیلجنس بیورو کے سربراہوں نے تو بیانات حلفی جمع کرائے لیکن آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر ایسا نہ کیا۔

آرمی چیف بننے پر جنرل مشرف کے بارے میں بھی کچھ ایسی ہی تفصیلات سامنے آئی تھیں کہ وہ ایک پیشہ ور فوجی ہیں، سیاست سے کوئی تعلق نہیں، برج کھیلنے کا شوق ہے اور سیکولر مصطفیٰ کمال پاشا (اتا ترک) کو پسند کرتے ہیں۔

بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ مسلسل سگریٹ نوشی کے منظر کو بھلا کون بھُلا سکتا ہے

نواز حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد انہوں نے ’پوڈلز‘ کے ساتھ تصویر کھنچوا کر مغربی طرز زندگی اور لبرل اقدار کی ایک جھلک دکھانے کی کامیاب کوشش بھی کی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ نائن الیون کے بعد بش انتظامیہ کے ساتھ ان کے تعلقات کچھ اس نہج پر چلے گئے کہ گزشتہ برس برطانوی اخبار گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے انہیں کہنا پڑا کہ ’میں کسی کا پوڈل نہیں ہوں‘۔

لیکن کیا ستم ظریفی ہے کہ اقتدار میں لبرل جنرل پرویز مشرف کے طور طریقے راسخ العقیدہ مذہبی خیالات رکھنے والے جنرل ضیاء سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ ریفرنڈم انُہوں نے بھی کرایا اور انہوں نے بھی، وہ امریکہ کے ساتھ مل کر سوویت یونین کے خلاف جہاد کرتے رہے اور یہ امریکہ ہی کہ ساتھ مل کر جہادی عناصر کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ کہہ مکرنیاں اُن کی بھی مشہور تھیں اور اِن کی بھی۔

مذہبی جماعتیں جنرل ضیاء کا دست و بازو رہیں تو یہی کردار انہوں نے جنرل مشرف کے لیے ’دوستانہ حزب مخالف‘ کے طور پر خوش اسلوبی سے نبھایا۔ جنرل مشرف سے ’قومی مصالحت‘ کرنے والی بے نظیر بھٹو کا ہی کہنا ہے کہ ’یہ دنیا کے ضیاء اور مشرف ہی ہیں جنہوں نے انتہا پسندی کو ہوا دی ہے‘۔

اور جہاں تک رہی بات چین سموکنگ کی تو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاءالحق کی اپنی پہلی نشری تقریر میں بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ مسلسل سگریٹ نوشی کے منظر کو بھلا کون بھُلا سکتا ہے۔

 
 
مولانا فضل الرحمان’لاٹھی اور سانپ‘
’مرحلہ وار استعفوں کی بات مضحکہ خیز‘
 
 
’افواہوں کا قتل‘
بینظیر کو مبارکباد سے’نو ڈیل‘ کی افواہوں کا قتل
 
 
’زیرو سم گیم‘
فوج سے شراکتِ اقتدار کی کڑوی گولی
 
 
عدلیہججوں کے اثاثے
ججوں اور جرنیلوں کے اثاثوں پر اٹھتے سوالات
 
 
فوجی ہیڈ کوارٹر میں
چارسو بنگلے،چودہ ہزار لگژی اپارٹمنٹ زیر تعمیر
 
 
ضیاءالحق ڈکٹیٹر تھے
ضیاءالحق ڈکٹیٹر تھے، حمید گل کا اعتراف
 
 
  قومی اسمبلی اے کی گل اے؟
پنجاب کے ایم این ایز کی جرنیلوں پر تنقید
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد