BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 26 October, 2007, 01:36 GMT 06:36 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’مفاہمتی آرڈیننس امتیازی ہے‘
 

 
 
جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے صدر مشرف کے خلاف صدارتی انتخاب لڑا تھا
صدارتی امیدوار جسٹس(ریٹائرڈ) وجیہہ الدین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا کام مکھی پر مکھی بٹھانا نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ کسی قانون کی تشریح کرتے وقت ماضی کی فیصلوں کی مکمل جانچ پڑتال اور ان کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر ان فیصلوں پر انحصار نہیں کرسکتی اور نہ سپریم کورٹ کا یہ کہنا مناسب ہے کہ فلاں فیصلے میں یہ قرار دیا گیا ہے۔

جمعرات کی شب جسٹس (ر) وجییہ الدین سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں معروف قانون دان حامد خان کی قیادت میں قائم پروفیشنل گروپ کےصدارتی امیدوار بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت گروپ کے دیگر امیدواروں کے اعزاز میں ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئین میں کی گئی سترہ ویں ترمیم کے ذریعے آئین کی دفعہ تریسٹھ کی ذیلی شق ون ڈی کا اطلاق صدر پر ہوتا ہے ۔ان کے بقول اگر آئین کی کسی ایک دفعہ کی ذیلی شق کا اطلاق صدر پر ہوتا ہے تو پھر اس آئینی دفعہ کی دیگر ذیلی شقوں کا اطلاق بھی صدر پر ہوگا۔

انہوں نے سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں پر زور دیا کہ بار کے عہدیدار منتخب ہونے کے بعد کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہونے کے باوجود اپنی سیاسی جماعت کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے بجائے اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

تقریب سے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان، پاکستان بارکونسل کے سابق وائس چیئرمین علی احمد کرد اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدارتی امیدوار بیرسٹر اعتزاز احسن نے بھی خطاب کیا۔

قبل ازیں جسٹس(ر) وجیہہ الدین نے ایک دوسری تقریب میں خطاب میں کہا کہ مفاہمتی آرڈیننس ایک امتیازی قانون ہے جس سے شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کی ضمانت کی نفی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں سیاسی وابستگی کے بجائے اہل اور ایماندار امیدواروں کو ووٹ دیں یا پھر اپنے میں سے با صلاحیت رکھنے والوں کوآزار امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں کامیاب کراکر اسمبلیوں میں بھجوائیں۔
ان کا کہناتھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو آئندہ اسمبلیاں بھی موجودہ اسمبلیوں کی طرح کی ہونگی ۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عدلیہ مستقبل کے حالات کو مدنظر رکھنے کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرےگی

انہوں نے کہا کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے بنچ کے ایک رکن جج نے کہا کہ اگر ہم پی سی اور کے تحت حلف نہ اٹھاتے تو آج وکلا یہاں دلائل نہ دے رہے ہوتے۔جسٹس(ر) وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ پی او سی کے حلف اٹھانے کے بعد آئین کے تحت اٹھائے جانے والے حلف کو بھی نہ بھولیں اور قوم کو وہ فیصلہ دیں جو آئین اور قانون کے مطابق ہو۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد