BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 26 October, 2007, 10:04 GMT 15:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
تحقیقات: غیرملکی ماہرین پر تنازعہ
 

 
 
بینظیر کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات میں غیرملکی ماہرین کو شامل کیا جائے
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے اٹھارہ اکتوبر کے خیرمقدمی جلوس پر بم حملوں میں انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کی نامزدگی اور تحقیقات میں غیرملکی ماہرین کی شمولیت کے سوال پر حکومت اور پیپلز پارٹی میں بظاہر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے۔

جمعرات کی شب صدر جنرل پرویز مشرف نے حکومتی اتحاد کے اراکین پارلیمان سے خطاب میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اعجاز شاہ قابل افسر ہیں اور انہیں ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی اٹھارہ اکتوبر کے دھماکوں کی تحقیقات میں غیرملکیوں سے مدد لی جائے گی۔

بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کے بارے میں صدر مشرف نے یہ بھی بتایا کہ وہ ان کے پاس چائے پی کر گئے ہیں اور آج کھانے پر بھی آرہے ہیں۔

جس شخص کو بینظیر بھٹو اپنے قتل کا منصوبہ ساز قرار دے کر مقدمے میں نامزد کرنا چاہتی ہیں، صدر جنرل پرویز مشرف ان کے اعزاز میں عشائیہ دے رہے ہیں۔ اس عمل کو کئی تجزیہ کار جنرل مشرف اور بینظیر میں ہونے والی مفاہمت میں ایک بڑی دراڑ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

پاکستان میں حزب مخالف کے رہنما انٹیلیجنس ایجنسیوں پر تو تنقید کرتے رہتے ہیں لیکن صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی کی جانب سے انٹیلیجنس بیورو کے اہلکاروں کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں بم نصب کر تے وقت رنگے ہاتھوں پکڑنے کے دعوے کے بعد بینظیر بھٹو کی جانب سے اس ادارے کے سربراہ کو اٹھارہ اکتوبر کے حملے میں ملوث قرار دینا دوسرا بڑا اور ٹھوس الزام ہے۔

دوسرا بڑا اور ٹھوس الزام
 صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی کی جانب سے انٹیلیجنس بیورو کے اہلکاروں کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں بم نصب کر تے وقت رنگے ہاتھوں پکڑنے کے دعوے کے بعد بینظیر بھٹو کی جانب سے اس ادارے کے سربراہ کو اٹھارہ اکتوبر کے حملے میں ملوث قرار دینا دوسرا بڑا اور ٹھوس الزام ہے۔
 
بینظیر بھٹو کی جانب سے اعجاز شاہ کو ملزم نامزد کرنے اور تفتیش میں غیرملکی مدد حاصل کرنے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما امین فہیم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت اور ان کے درمیان واضح اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔

اٹھارہ اکتوبر کے حملوں میں غیرملکی تفتیش کاروں کو شامل نہ کرنے کے بارے میں حکومت یہ بھی عذر پیش کرتی رہی ہے کہ پاکستانی تفتیش کار قابل ہیں اور غیرملکیوں سے مدد لینا اپنے افسران اور نظامِ تفتیش پر عدم اعتماد ظاہر کرنے کے مترادف ہے۔

اس بارے میں پیپلز پارٹی کے رہنما کہہ رہے ہیں کہ فوج اور دیگر اداروں کے لیے غیرملکی امداد، اسلحہ، آلات اور ٹیکنالوجی حاصل کرتے وقت پاکستان حکومت کو یہ خیال کیوں نہیں آتا جو عذر اب اٹھارہ اکتوبر کے دھماکوں کی تفتیش کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

اس سے بڑھ کر بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا یہ کہنا ہے کہ متاثرہ فریق کو مشتبہ شخص کو مقدمے میں نامزدگی کا حق ہے اور اگر متعلقہ ملزم معصوم ہے تو حکومت اُسے نامزد کرنے سے کیوں ہچکچا رہی ہے۔

فرحت اللہ بابر اور ان کی جماعت کے دیگر رہنما یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی پاکستانی تفتیش کار ابھی یہ طے نہیں کرپائے کہ بم حملہ، خود کش تھا، کار بم یا گرینیڈ سے کیا گیا تھا۔ ایسے میں ان کے مطابق غیرملکی فورینزک اور فنی ماہرین کی خدمات حاصل کرنا لازم بنتا ہے۔

دھماکوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں ان گنت خود کش اور ریموٹ کنٹرول بم حملوں میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوگئے لیکن صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے حملوں کے علاوہ کسی بھی واقعے کی تہہ تک پاکستان کے ’قابل تفتیشی افسران‘ نہیں پہنچ سکے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی مبینہ مشکوک حالات میں واقع ہونے والی موت ہو یا پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولی مارکر قتل کردینا، فوجی صدر ضیاءالحق کا سینیئر فوجی جرنیلوں سمیت فضا میں طیارہ پھٹنے سے ہونے والی ہلاکت ہو یا مرتضی بھٹو کا قتل، تفتیش کے لیے بننے والی کمیٹیاں ہوں یا عدالتی کمیشن، آج تک قوم کو کچھ نہیں معلوم کہ قاتل کون تھے۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر حملوں کی بھی تحقیقات شاید اس لیے منطقی انجام تک پہنچی کہ وہ زندہ بچ گئے اور ان کے پاس صدر اور آرمی چیف کے اہم عہدے بھی ہیں۔ ان پر حملوں میں ملوث کاالعدم جماعت کے امجد فاروقی سمیت کچھ ملزمان کو مقابلے میں مار دیا گیا تو کچھ کا ٹرائل کر کے سزائیں دی گئیں۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے لے کر امریکہ، برطانیہ، بھارت اور افغانستان سمیت دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جس نے بینظیر بھٹو سے اظہار ہمدردی نہ کیا ہو۔ ایسے میں وہ بظاہر ملزم سے مظلوم بن گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے اٹھارہ اکتوبر کے حملوں کی غیرجانبدار تحقیقات کرانے کے متعلق قرار داد پاس کرنے کو کئی مقامی صحافی حکومت پر ایک بڑا دباؤ قرار دے رہے ہیں اور کچھ کا دعویٰ ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

 
 
’عادت بدلنا ہوگی‘
جلوس اور قواعد و ضوابط کی اہمیت
 
 
قاتلانہ حملے
پاکستان میں سیاسی حملوں کی تاریخ
 
 
لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
 
 
’کارساز‘ تحقیقات
بینظیر’خود کش‘ حملے بھی موٹی فائل میں بند؟
 
 
اے پی سی کی تجویز
’سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی ضرورت ہے‘
 
 
بینظیر’ویلکم بینظیر ویلکم‘
بینظیر کو مشرف کے پاکستان میں خوش آمدید
 
 
جیالوں کے قافلے
کراچی میں جیالوں کی آمد کا سلسلہ جاری
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد