BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 08:33 GMT 13:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
وکلاء کےگھروں پر چھاپے، کئی گرفتار
 

 
 
وکلاء برادری(فائل فوٹو)
وکلاء برادری نے چیف جسٹس کی بحالی کے لیے ملک بھر میں مؤثر تحریک چلائی تھی
چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے آئین معطل کرنے کے بعد ملک بھر سے وکلاء کے نمائندوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کےصدر اعتزاز احسن، پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین علی احمد کرد، سپریم کورٹ کے سابق صدر طارق محمود ، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور پولیس وکلاء کے متحرک نمائندوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن کو پولیس نے اتوار کے روز کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں واقع اُن کے گھر سے گرفتار کر لیا ہے۔

ابرار حسن کی بہو مسز حماد نے اُن کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یہ اُن کے گھر پر پولیس کا تیسرا چھاپہ تھا۔

خانہ جنگی کا خطرہ
 مجھے خوف ہے کہ ملک کےموجودہ حالات خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں فوج اور عوام کے درمیان براہ راست تصادم کا خدشہ ہے۔
 
قاضی انور

ابرار حسن کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ پولیس نے انہیں سینٹرل جیل منتقل کردیا ہے اور بتایا کہ ابرار حسن کو 90 دن جیل میں گزارنے ہوں گے۔

واضع رہے کہ پولیس نے رات گئے سے اب تک وکلاء کی گرفتاریوں کے لئے درجنوں مقامات پر چھاپے مارے اور وکلاء کے نہ ملنے پر اُن کے عزیزواقارب کو حراست میں لے لیا۔

ادھر وکلاء پیر کے روز آئین کی معطلی کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا۔
پاکستان بار کونسل کے سابق صدر اور وکلاء تحریک کے متحرک رہنما قاضی انور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء پیر کے روز عدالتوں کا بائیکاٹ کریں اور آئین کی معطلی کے خلاف احتجاج کریں گے۔

قاضی انور کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وکلاء برادری جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نافذ کردہ ایمرجنسی کو مارشل لاء سمجھتی ہے جس نے آئین کو معطل کرکے ایک عبوری آئین نافذ کردیا ہے۔

انکے بقول وکلاء پیر کو اس حکومتی اقدام کے خلاف پورے ملک میں یوم سیاہ مناتے ہوئے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے اور اس سلسلے میں عدالتوں کی عمارتوں کے اندر احتجاجی جلسے منعقد کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت ہی عجیب اور انوکھی بات ہے کہ جس شخص نے ایمرجنسی نافذ کی ہے انہوں نے آٹھ سال قبل بھی ایمرجنسی کے تحت ہی اقتدار حاصل کیا تھا۔

قاضی انور نے کہا :’مجھے خوف ہے کہ ملک کےموجودہ حالات خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں فوج اور عوام کے درمیان براہ راست تصادم کا خدشہ ہے۔

کراچی پولیس کے سربراہ نے گرفتاریوں کے بارے میں معلوم کرنے پر کہا کہ میں صرف کراچی کے موسم کی صورتحال پر رائے دے سکتا ہوں۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی گرفتاریوں کے لیے کراچی پولیس سرگرم ہوگئی ۔

پولیس موقف
 ’میں صرف کراچی کے موسم کی صورتحال پر بات کرسکتا ہوں کہ آج کراچی میں گرمی ہے یا دھوپ ہے
 
کیپیٹل سٹی پولیس چیف اظہر علی فاروقی
حکومت کے ممکنہ ردعمل کے پیشِ نظر بیشتر وکلاء پہلے ہی زیرِ زمین چلے گئے تھے جس کے باعث پولیس اُنہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب وکلاء تنظیموں نے سپریم کورٹ کی جانب سے ایمرجنسی اور پی سی او کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد پیر کو عدالتوں میں جمع ہونے اور ججوں کے ساتھ احتجاجی تحریک شروع کرنے کے فیصلے پر ثابت قدمی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار میں جنرل باڈی اجلاس پیر کو صبح ساڑھے دس بجے منعقد ہوگا۔

کراچی میں وکلاء کے گھروں پر چھاپوں کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے جب کیپیٹل سٹی پولیس چیف اظہر علی فاروقی سے بی بی سی نے رابطہ کیا تو اُنہوں نے کہا ’میں صرف کراچی کے موسم کی صورتحال پر بات کرسکتا ہوں کہ آج کراچی میں گرمی ہے یا دھوپ ہے‘۔

حکومت کے ممکنہ ردعمل کے پیشِ نظر بیشتر وکلاء پہلے ہی زیرِ زمین چلے گئے تھے جس کے باعث پولیس اُنہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

قبل ازیں سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر نے اپنے گھر پر پولیس کی چڑھائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس نے پہلا چھاپہ اتوار کو علی الصبح مارا اور دھمکی دی کہ گھر میں موجود تمام مرد باہر آجائیں ورنہ پولیس دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہوجائے گی، جس پر ابرار حسن کے داماد باہر آگئے جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا اور کئی گھنٹوں کے بعد اس شرط پر رہا کیا کہ صبح نو بجے تک اگر ابرار حسن نے گرفتاری نہیں دی تو اُنہیں دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا: ’اتوار کی صبح پولیس نے میرے گھر پر دوسرا چھاپہ مارا اور ایک بار پھر میرے داماد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کر لیا‘۔ اُن کا کہنا تھا یہی صورتحال دیگر وکلاء کے گھروں کی ہے جبکہ بیشتر کے گھروں پر پولیس نے محاصرہ کر رکھا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
’نظریں عدالت کے فیصلے پر‘
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد