BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 10:11 GMT 15:11 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ایمرجنسی پر ڈھکی چھپی تنقید
 

 
 
اخبار
’ جس قدم کی کچھ روز سے افواہیں تھیں وہ سچ ثابت ہوا‘
پاکستان کے اخبارات نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی خبر کو غیر معمولی جگہ دی ہے اور ان اخباروں میں سے کچھ نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اس فیصلے کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا ہے۔

تمام اردو اور انگریزی اخبارات نے ایمرجنسی کی خبر کو آٹھ کالمی شہ سرخی میں جگہ دی ہے۔

ایمرجنسی صدر پرویز مشرف کی تقریر اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی نظر بندی سے قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کی پریس کانفرنس کی خبر صفحہ اول پر موجود ہے۔

صدر پرویز مشرف کے رات گئے قوم سے خطاب تک اخبارات کے ادارتی صفحے چھپنے کو جا چکے تھے مگر کچھ اخبارات نے اس صورتحال پر اداریے لکھے ہیں۔دی نیوز نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ تین نومبر کو پاکستان کے آئین اور سیاسی حوالے سے یومِ سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائےگا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بہتری کے آثار نہیں ہیں اور سول سوسائٹی کا شدید رد عمل سامنے آسکتا ہے۔

روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ صدر کے پاس پہلے سے ہی تمام ہی وہ اختیارات موجود ہیں جس کی کسی حکمران کو خواہش ہوتی ہے۔وہ فوجی سربراہ کے ساتھ صدر ہیں اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں اب مزید انہیں کون سے اختیارات مطلوب ہیں۔

 ایک جنرل جسے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے کیا وہ عوام کو ساتھ لے کر چل سکتا ہے اور دہشت گردی سے تنہا نمٹ سکتا ہے؟
 
روزنامہ ڈان کا اداریہ

اداریے کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف جنرل مشرف نے فوج، پیرا ملٹری فورس، رینجرز اور خفیہ اداروں کو استعمال کیا ان میں سے کس کی نااہلی تھی اب اس میں کوئی شک نہیں رہا ہے۔ اخبار زور دے کر کہتا ہے کہ سپریم کورٹ میں صدارتی انتخاب کے کسی ممکنہ فیصلے سے بچنے کے لیے صدر مشرف نے ایمرجنسی کا نفاذ کیا، اسے کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے نہ پاکستان کے عوام اور نہ ہی امداد دینے والے چاہے مشرف کچھ بھی کہیں۔ اخبار نے سوال کیا ہے کہ ایک جنرل جسے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے کیا وہ عوام کو ساتھ لے کر چل سکتا ہے اور دہشت گردی سے تنہا نمٹ سکتا ہے؟

دی نیشن کا کہنا ہے جس قدم کی کچھ روز سے افواہیں تھیں وہ سچ ثابت ہوا۔ مگر یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا ہے جب صدارتی انتخاب کے امیدواروں کی درخواستوں کا فیصلہ آنا تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ نے جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان مفاہمت کو بھی خدشات میں ڈال دیا ہے۔

جنگ اور روزنامہ ایکسپریس میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے اداریے موجود نہیں ہیں تاہم جنگ میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی جانب سے پشاور کے ایک نجی میڈیکل کالج میں داخلوں کے مسئلے پر لیے گئے از خود نوٹس کی تعریف کی گئی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد