BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 05 November, 2007, 15:15 GMT 20:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’سب جدو جہد جاری رکھیں‘
 

 
 
جسٹس افتخار چودھری نے کہا آئینی حکم نامے کا اجرا اخلاقی یا قانونی جواز سے عاری ہے۔
نئے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار احمد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ عدلیہ پر حملہ ہے۔

پیر کے روز سپریم کورٹ بار کے سربراہ اعتزاز احسن کے نائب گوہر علی ایڈوکیٹ کے ذریعے اخبارات کو جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے ایمرجنسی کے حکمنامے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اپنے بیان میں چیف جسٹس نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ اور عبوری آئینی حکم نامے کا اجرا غیر ضروری، غیر آئینی، غیر قانونی اور کسی اخلاقی یا قانونی جواز سے عاری ہے۔ یہ آئین، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ پر ایک کھلا اور رقیق حملہ ہے۔

جسٹس افتخار نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز سے جو کچھ ہو رہا ہے اسکا کوئی جواز نہیں بنتا۔ معزز جج صاحبان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ اخلاقیات اور تمیز کے دائر ے سے باہر اور غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ’میں، اور میرے وہ ساتھی جج صاحبان جنہوں نے عبوری آئینی کمنامے کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا ہے، سب کے سب عملی طور پر زیر حراست ہیں اور میرے گھر کے باہر کے دروازے کو تالا لگا دیا گیا ہے۔’

جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ میں عدلیہ کی جانب سے دہشت گردی کی، چاہے وہ کسی بھی شکل میں کی جارہی ہو، مذمت کرتا ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عدلیہ ہمیشہ سے اس طرح کے اقدامات کی مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام شہریوں، خصوصاً وکلا کا فرض ہے کہ وہ آئین کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کے لئے جدوجہد جاری رکھیں۔

جسٹس افتخار کے مطابق انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے معزز ججوں نے کبھی آئین اور قانون میں درج حدود سے تجاوز نہیں کیا۔ برے طرز حکمرانی نے لوگوں کو ان مقدمات کے سلسلے میں عدالت عظمی سے رابطہ کرنے پر مجبور کر رکھا تھا۔ اس صورت میں عدالت ان لوگوں کے لئے نہ تو اپنے دروازے بند کرسکتی تھی اور نہ ہی آنکھیں۔ سپریم کورٹ کے معزز جج مستقبل میں بھی یہی طرز عمل اپنانے کے عزم پر قائم ہیں‘۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد