BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 05 November, 2007, 14:31 GMT 19:31 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سندھ: وکلاء کا احتجاج ،گرفتاریاں
 

 
 
حلف نہ اٹھانے والے دو جج سرمد جلال اور انور ظہیر
حلف نہ لینے والے دو ججوں نے ہائی کورٹ پہنچنے کی کوشش کی لیکن انہیں روک دیا گیا

ایمرجنسی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججوں کی برطرفی کے خلاف کراچی میں وکلاء نے سخت احتجاج کیا ہے۔ وکلاء نےاندرون سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے مگر پولیس نےجلوس نکالنے کی تمام کوششیں ناکام کردیں ۔

حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں مطلوبہ ججوں کی تعداد موجود نہ ہونے کی وجہ سے بینچ تشکیل نہیں دیے گئے ۔ سندھ کے اکثر اضلاع کی بار ایسو سی ایشینز کے عہدیدار پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔

سکھر سے پولیس نے سپریم کورٹ بار کے قائم مقام صدر امداد اعوان اور شبیر شر کے بیٹے سمیت درجن بھر وکلاء اور سیاسی کارکنوں کوگرفتار کیا ہے۔

اس طرح لاڑکانہ میں ڈسٹرکٹ بار کے صدر ایاز سومرو کوجو پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ہیں پولیس نےگرفتار کرلیا ، اس کے علاوہ جناح باغ میں احتجاج کے لیے اکٹھا ہونے والے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو پولیس نے منشتر کرکے کچھ کو حراست میں لے لیا۔

نوابشاہ میں بار کے سکریٹری جنرل اور پی پی پی کے تحصیل صدر ضیاالحسن لنجار کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اس دوران پولیس نے لاٹھی چارج کرکے کئی درجن وکلاء کو گرفتار کرلیا ہے۔ جن میں سندھ کے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین بھی شامل ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے اطراف میں صبح سویر سے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی اور داخلی دروازوں پر سادہ کپڑے میں اہلکار موجود تھے جو صرف ہائی کورٹ کے ملازمین اور وکلاء کو شناخت کے بعد جانے دے رہے تھے۔ انہوں نے وکلاء میں سے کئی کو واپس بھی کیا۔

دور دراز سے اپنے مقدمات کی شنوائی کے لیے آنے والے لوگوں کو دروازے سے ہی یہ کہہ کر واپس کیا گیا کہ آج مقدمات نہیں چل رہے ہیں۔

صبح سے وکلاء آہستہ آہستہ جمع ہونے شروع ہوئے اور انہوں نے ہائی کورٹ
کے ججز گیٹ پردھرنا دیا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں
کی آمد کا راستہ بلاک کردیا۔

وکلاء کے احتجاج کے بعد پولیس نے عام داخلی دروازے سے مزید وکلاء کو اندر جانے سے روک لیا۔ اس اطلاع پر وکلاء کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی اور دروازے کو زبردستی کھول دیا اور تمام وکلاء اندر چلے گئے۔

وکلاء نے حکومت کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے اس دوران پولیس کی ان سے جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے بے دریغ لاٹھایاں برسانے شروع کردیں ۔

پولیس اہلکاروں نے کئی وکلا کو دبوچ کرگرفتار کرلیا جس پر وکلاء مزید مشتعل ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر وکیل اور پولیس گتھم گتھا ہوگئی۔

 پولیس گاڑیاں ہائی کورٹ کے اندر جاکر گرفتاریاں کرتی رہیں اس دوران خواتین وکلاء پر بھی تشدد کیا گیا۔ سادہ کپڑے میں اہلکاروں نے ہائی کورٹ بار کے دفتر پر آویزاں کالا جھنڈہ بھی اتارلیا
 

پولیس وین اور موبائل سمیت ہائی کورٹ کے احاطے اندر پہنچ گئی اور
وکلاء کو گرفتار کرنا شروع کردیا جس دوران سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس گاڑیاں ہائی کورٹ کے اندر جاکر گرفتاریاں کرتی رہیں اس دوران خواتین وکلاء پر بھی تشدد کیا گیا۔ سادہ کپڑے میں اہلکاروں نے ہائی کورٹ بار کے دفتر پر آویزاں کالا جھنڈہ بھی اتارلیا۔

ہائی کورٹ بار کے دفتر میں جنرل باڈی کا اجلاس ہوا، جس کو وکلاء رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کی اور آئندہ تین روز تک عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

اس جنرل باڈی کے اجلاس کے بعد پولیس نے وکلاء رہنما رشید اے رضوی، عصمت مہدی، امین لاکھانی اور یاسن آزاد کو بھی گرفتار کرلیا۔

گرفتاری سے قبل رشید اے رضوی نے گرفتاریوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان کے ایک سو سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے مگر وکلاء کی تحریک رک نہیں سکتی۔

 انہوں نے کہا کہ ’وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، ایک ڈکٹیٹر بیٹھا ہوا ہے جس نے لوگوں کی زندگی عذاب کردی ہے
 
جسٹس رٹائرڈ ابوالانعام

جسٹس رشید اے رضوی نے گرفتاری سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہائی کورٹ کی حدود میں پورا ملٹری آپریشن کیا گیا ہے، اور سو سے زیادہ گرفتاریاں کی گئی ہیں انصاف تک رسائی کی جو بات کی جارہی تھی آج اس کا مزید مذاق اڑایا گیا ہے۔ پولیس ہائی کورٹ کے اندر ایسے کیسے کارروائی کرسکتی ہے‘۔

جسٹس رٹائرڈ ابوالانعام کا کہنا ہے کہ جو وکلاء صبح کو عدالت کے اندر چلے گئے تھے ان پر لاٹھی چارج کرکے تشدد کیا گیا ہے اور گرفتار کرکے ساتھ لے گئے ہیں’ان ہتھکنڈوں سے وکلاء مرعوب ہونے والے نہیں ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، ایک ڈکٹیٹر بیٹھا ہوا ہے جس نے لوگوں کی زندگی عذاب کردی ہے‘۔

سابق چیف جسٹس صبیح الدین نے اپنے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر باہر تعینات اہلکاروں نے انہیں واپس کردیا، رکاوٹوں کے بعد بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے چار جج صاحبان جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس اطہر سعید ہائی کورٹ کے داخلی دروازے پر پہنچ گئے اور پولیس نے انہیں واپس جانے پر مجبور کردیا ۔

کراچی بار کے دفتر اور سٹی کورٹس کا بھی پولیس نے گھیراؤ کرلیا ہے۔ جس وجہ سے نہ ہائی کورٹ اور نہ ہی سٹی کورٹس میں مقدمات چلے سکے ہیں۔

ادھر ہائی کورٹ کے رجسٹرار ظہیر الدین لغاری نے ایس پی صدر کو طلب کرکے وضاحت طلب کی کہ ہائی کورٹ کے احاطے میں سے کس کے حکم پر یہ گرفتاریاں کی گئی ہیں انہوں نے حکم جاری کیا کہ وکلاء کو فوری رہا کیا جائے مگر اس حکم پر عمل نہیں ہوا اور مزید گرفتاریاں کی گئیں ۔

 
 
ایمرجنسی پر احتجاجایمرجنسی پر احتجاج
ہنگامی حالت کے نفاذ پر احتجاج اور گرفتاریاں
 
 
کراچی میں گرفتار ہونے والے وکیلوکلاء کا احتجاج
ملک بھر سے احتجاج اور ہڑتال کی جھلکیاں
 
 
احتجاجایمرجنسی کے بعد
پنجاب میں وکلاء کا احتجاج، گرفتاریاں
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد