BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 November, 2007, 00:32 GMT 05:32 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
جو کچھ کیا اس پر فخر ہے:خلیل رمدے
 

 
 
جسٹس رمدے
برطرف کیے جانے والے جج جسٹس رمدے نے کہا ہے کہ وہ اب بھی سپریم کورٹ کے جج ہیں
سپریم کورٹ کے برطرف ہونے والے جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا ہے کہ جن معاشروں میں عدالتوں کو کام نہیں کرنے دیا جاتا وہاں نتیجہ انقلاب کی صورت میں نکلتا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کے پیارے ملک کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔یہ بات انہوں نے بی بی سی اردو سروس سے ٹیلی فون پر خصوصی گفتگو میں کہی۔

خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ ’عدالتیں سٹیم والو ہوتی ہیں، بالکل پریشر ککر میں لگے سٹیم والو کی طرح جو سٹیم نکلنے دیتا ہے لیکن اگر وہ نہ نکلے تو سب پھٹ جاتا ہے۔‘

خلیل الرحمان رمدے اس بنچ میں شامل تھے جس نے چیف جسٹس کی بحالی کا فیصلہ دیا تھا اور اب وہ سپریم کورٹ کے اس بنچ میں بھی شامل تھے جو صدر مشرف کے دو عہدوں کے بارے میں دائر کردہ آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔

اگر سٹیم نہ نکلےتوککرپھٹ جاتا ہے
 عدالتیں سٹیم والو ہوتی ہیں، بالکل پریشر ککر میں لگے سٹیم والو کی طرح جو سٹیم نکلنے دیتا ہے لیکن اگر وہ نہ نکلے تو سب پھٹ جاتا ہے
 
جسٹس خلیل ارحمان رمدے

خلیل الرحمان رمدے سنیچر کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر تھے جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی اور اعلی عدلیہ کے ججوں کو برطرف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رات کو ایک میجر صاحب آئے اور انہوں نے ان کی رہائش گاہ پر خاکی وردی والے تعینات کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب نہ انہیں یا گھر کے کسی فرد کو باہر جانے کی اجازت ہے نہ کوئی انہیں ملنے آسکتا ہے۔خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ وہ خوش ہیں اور انجوائے کررہے جیسے کسی پروگرام میں کمرشل بریک آتا ہے ایسے انہیں فیملی بریک ملی ہے اور وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ کچھ وقت گزار سکتے ہیں۔

خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا اس پر انہیں فخر ہے اور ان کی آنے والی نسلوں کا سر بھی فخر سے بلند رہے گا اور وہ کہا کریں گے کہ ان کے بزرگ دیانتداری، جرات مندی سے فیصلے کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی سپریم کورٹ کے جج ہیں، قانون کے مطابق انہیں ڈھائی برس کے بعد ریٹائر ہونا ہے اور اس وقت تک وہ جج رہیں گے۔

وکلاء کی گرفتاریاں
پولیس نے ملک بھر میں وکلاء کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے

جب ان سے کہا گیا کہ خود ان کی نقل و حرکت پر پابندی ہے اگر یہ قانون کے خلاف ہے تو کیا وہ انصاف کے لیے کسی سے اپیل کریں گے تو جواب میں جسٹس رمدے نے ذرا سا ہنس کر کہا کہ ’یہ تو سپرم کورٹ کے جج کو ہی انصاف کی ضرورت پڑ گئی ہے میں کس کے پاس جاؤں ؟ انہوں نے کہا کہ ’میں تو بس بیٹھ کر دعا کرسکتا ہوں کہ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ یہ ملک سب کے لیے ہے ہماری نسلوں نے یہیں رہنا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت الزمات کو بے معنی قرار دیا اور کہا کہ ’اگر عدالت کے فیصلوں پر اعتراض ہے تو پھر اب تو ساری سپریم کورٹ ان کے قبضےمیں ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ریکارڈ میں فیصلے نکال کر میڈیا میں لائیں اور اخبارات، ٹی وی کو بتائیں کہ فلاں جج نے فلاں فضول اور غلط فیصلہ کیا۔‘

ایجنسوں کی طرف سے دہشت گرد قرار دیئے جانے والوں کی سپریم کورٹ سے رہائی کے بارے میں رمدے نے کہا کہ وہ خود توایسے کسی بنچ میں شامل نہیں تھے لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر کے کسی ملک کا قانون اور آئین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی ایجنسی یا ادارہ کسی فرد کو دہشت گرد قرار دیکر گولی مار دے یا قید کر دے۔انہوں نے کہا کہ یہ عدالت کا کام ہوتا ہے اور ایجنسی یا ادارے کو چاہیے کہ وہ عدالت میں اس کے خلاف مواد پیش کرے اورعدالت اسے آزادی کےحق دینے یا محروم کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

بس ملک کا بھلا چاہیئے
 کل کوئی مجھے یہ آفر کرے کہ ججی سے نکل جاؤ سب ٹھیک ہوجائے گا تو میں کہوں گا کہ مجھے دس بار نکال دو اگر اس سے ملک کا کوئی بھلا ہوجائے تو اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں چاہیے
 
جسٹس رمدے

انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ حکومت کو دراصل لال مسجد سے رہا ہونے والے اکسٹھ افراد پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا ’یہ تو وقت ثابت کرے گا کہ ان کی رہائی درست اقدام تھا یا نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس دورکنی بنچ کے جن ججوں نے رہائی کا فیصلہ دیا تھا انہیں پی سی او کے تحت سب سے پہلے حلف اٹھوایا گیا ہے۔ اگر حکومت کے نزدیک وہ فیصلہ غلط تھا تو پھر ان دونوں ججوں کو تو بالکل حلف نہیں اٹھانے دینا چاہیے تھا۔‘

جسٹس رمدے نے کہا کہ ’ہم نے عدلیہ کو ایک فضول عضو سمجھ کر رکھا ہے لیکن یہ ایک غلط سوچ ہے۔ عدالتیں ڈاکٹر کی مانند ہیں اور اگر کسی مرض کا ڈاکٹر کو علاج نہ کرنے دیا جائے تو مریض کا کیا حال ہوگا اسے آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔‘

خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ وہ گھر میں بند ہیں لیکن اللہ سے دعا ضرور کرسکتےہیں کہ وہ ملک میں بہتری کا راستہ نکالے۔انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی فکرنہیں ہے کہ وہ جج رہیں گے یا نہیں، ان کے نزدیک اصل بات ملک کی سالمیت ہے۔

خلیل الرحمان نے کہا ’کل کوئی مجھے یہ آفر کرے کہ ججی سے نکل جاؤ سب ٹھیک ہوجائے گا تو میں کہوں گا کہ مجھے دس بار نکال دو اگر اس سے ملک کا کوئی بھلا ہوجائے تو اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچیں اور ملک کو بحران سے نکالیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ کوئی نہ کوئی بہتری کی صورتحال نکل ہی آئے گی۔

 
 
 رانا بھگوان داس’آج بھی جج ہوں‘
’پیر کوعدالت جاؤں گا، پی سی آو غیر آئینی ہے‘
 
 
’جدوجہد کرتے رہیں‘
جسٹس چودھری کے بقول ایمرجنسی غیر آئینی
 
 
رپورٹروں سےاپنے رپورٹروں سے
ایمرجنسی کا دوسرا دن، لمحہ بہ لمحہ صورتحال
 
 
کراچی میں گرفتار ہونے والے وکیلوکلاء کا احتجاج
ملک بھر سے احتجاج اور ہڑتال کی جھلکیاں
 
 
ڈوگرحلف کا نمبر گیم
انتالیس ججوں نے حلف نہیں لیا 48 نے لے لیا
 
 
اخباراخبار کیا کہتے ہیں؟
ڈھکے چھپے الفاظ میں ایمرجنسی پر تنقید
 
 
اسی بارے میں
نظر بندی کی افواہوں کی تردید
05 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد