BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 November, 2007, 10:02 GMT 15:02 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
وکلاءاحتجاج جاری، مزیدگرفتاریاں
 

 
 
وکلاء کا احتجاج
ملتان میں مزید آٹھ وکلاء کو گرفتار کیا گیا ہے
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف وکلاء کا احتجاج جاری ہے جبکہ اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک کے متعدد شہروں سے مزید وکلاء کوگرفتار کیا گیا ہے۔

اسلام آباد
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق راولپنڈی میں آج مزید پچیس وکلاء کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے اردگرد منگل کو بھی سکیورٹی کے سخت اقدامات ہیں اور کرفیو کا سا سماں برقرار ہے۔ مقدمات کی سماعت سے متعلق افراد کو ہی اندر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ شاہراہ دستور پر بھی متعلقہ دفاتر کے افراد کو پاسز دکھانے پر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

لاہور
بی بی سی کے نمائندے عبادالحق کے مطابق منگل کو بھی لاہور ہائی کورٹ سے پولیس نے درجن بھر وکلاء کوگرفتار کیا ہے۔ ان افراد کی گرفتاری ہائیکورٹ کے بار روم سے اس وقت عمل میں آئی جب وکلاء نے حکومت اور مشرف مخالف نعرے بازی شروع کی۔ہائیکورٹ کے داخلی و خارجی راستوں پر آج بھی پولیس کا سخت پہرہ ہے اور پولیس ہائیکورٹ کی عمارت کے برآمدوں میں موجود ہے۔ پولیس نے کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو عدالت کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی ہے جبکہ صحافیوں کو بھی ریکارڈنگ کا سامان عدالتی احاطے میں لے جانے نہیں دیا گیا ہے۔

کراچی

کراچی میں وکلاء پر پولیس کا تشدد
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وکلاء نے کراچی کی عدالتوں کا منگل کو بھی بائیکاٹ کیا ہے تاہم پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج صاحبان آج اپنے چیمبروں میں بیٹھے اور مختلف درخواستیں نمٹائیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے داخلی دروازے پر رینجرز اور پولیس اہلکار منگل کو دوسرے روز بھی تعینات رہے۔ سول کپڑوں میں اہلکار صرف ان لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے جن کے مقدمات زیر سماعت تھے ۔ منگل کی صبح ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی داخلی دروازہ پر موجود رہے اور وکلاء کو شناخت کرنے کے بعد اندر جانے دے رہے تھے، انہوں نے صحافیوں کو مخاطب ہوکر کہا کہ انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

کوئٹہ
نامہ نگار عزیز اللہ خان نے خبر دی ہے کہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ اور سینیٹر کامران مرتضٰی سمیت تیئس وکلاء کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ضلع کچہری اور پریس کلب کا گھیراؤ جاری ہے۔صوبے میں منگل کو بھی وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے ہیں۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کی گرفتاری کے بعد وکلاء ضلع کچہری میں اکھٹے ہو گئے جہاں انہوں نے احتجاج کیا۔ باز محمد کاکڑ نے گرفتاری سے پہلے اخباری کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان سے اب تک ستّر وکلاء کوگرفتار کیا گیا ہے۔

پشاور میں بھی وکلاء نے اپنے سو سے زائد ساتھیوں کی گرفتاری کا دعوٰی کیاہے

ضلع کچہری کے احاطے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے صحافیوں،فوٹوگرافرز اور کیمرہ مین کو کوریج سے روکے رکھا۔ منگل کو کوئٹہ پریس کلب اور ضلع کچہری کے سامنے بھی پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور شہر میں فرنٹیئر کور اور پولیس کا گشت جاری ہے۔

پشاور
بی بی سی کے نمائندے عبدالحئی کاکڑ کے مطابق صوبہ سرحد کے دارالحکومت سمیت دیگر علاقوں میں وکلاء نے منگل کو بھی عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا ہے اور انہوں نے اپنے سو سے زائد ساتھیوں کی گرفتاری کا دعوٰی کیا ہے۔

منگل کو بھی پشاور ہائیکورٹ کی عمارت کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی تاہم وکلاء کے بائیکاٹ کی وجہ سے عدالتوں میں کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔ اس موقع پر دو سو سے زائد وکلاء کا ایک احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا جس سے وکلاء کے نمائندوں نے تقاریر کیں۔

وکلاء نے منگل کو دوبارہ ایمرجنسی کے خلاف اورگرفتار شدہ ساتھیوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا

وکلاء کے علاوہ عوامی نشینل پارٹی کے درجنوں کارکنوں نے بھی ایمرجنسی کے خلاف جلوس نکالااور اس موقع پر کارکنوں کی پولیس ہاتھا پائی بھی ہوئی اور پولیس نے پارٹی قائدین افراسیاب خٹک، بشیر بلور اور غلام احمد بلور کو گرفتار کر لیا۔

ہزارہ
بی بی سی اردو کے علی احمد خان کے مطابق صوبہ سرحد کے ہزارہ ڈویژن میں منگل کو بھی وکلاء کی مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کسی مقدمے کی سماعت نہیں ہو سکی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ہزارہ ڈویژن میں وکلاء کے احتجاجی مظاہروں کے بعدگزشتہ 48 گھنٹوں میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد ساٹھ سے زیادہ ہوگئی ہے، جن میں سے بیشتر وکیل ہیں۔

ہری پور میں وکلاء نے منگل کو دوبارہ ایمرجنسی کے خلاف اورگرفتار شدہ ساتھیوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کی اور مزید سات وکلاء کوگرفتار کر لیا۔ تاہم پولیس نے ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ادھرایبٹ آباد میں گرفتار شدہ وکلاء کو بھی ہری پور جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

ملتان
مقامی صحافی جمشید بلوچ کے مطابق پولیس اور وکلاء کے درمیان جھڑپوں کے بعد مزید آٹھ وکلاء کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب پولیس اہلکاروں نے ڈسٹرکٹ بار کی عمارت میں جاری وکلاء کی جنرل باڈی اجلاس کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں پولیس اور وکلاء کی جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں اور ڈسٹرکٹ بار کے قریب واقع سٹی ڈسٹرکٹ ناظم کا دفتر’میدانِ جنگ‘ بن گیا۔ پولیس نے وکلاء پر لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں متعددگاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

اندرونِ سندھ
بی بی سی اردو کے نثار کھوکر کے مطابق ملک میں ایمرجنسی کے نفاد کے بعد سندھ ہائیکورٹ کے سکھر اور لاڑکانہ بینچوں سمیت اندرون سندھ کی تمام ضلعی عدالتوں میں منگل کو وکلاء کا بائیکاٹ جاری رہا۔ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سکھر کے جنرل سیکرٹری شبیر شر کے مطابق دوسرے روز بھی کوئی ایک وکیل کسی ہائی کورٹ یا ذیلی کورٹ کے سامنے مقدمات کے سلسلے میں پیش نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار کے فیصلے کے تحت کوئی بھی وکیل پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کے سامنے پیش نہیں ہوگا۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاڑکانہ کے صدر محمد ایاز سومرو سمیت پندرہ کے قریب وکلاء کی گرفتاری کے خلاف منگل کو لاڑکانہ شہر میں پیپلز پارٹی کی طرف سے شٹر بند ہڑتال کی گئی۔

 
 
’جدوجہد کرتے رہیں‘
جسٹس چودھری کے بقول ایمرجنسی غیر آئینی
 
 
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
 
 
چیف جسٹس صبیح الدین احمدعہدے پر برقرار ہوں
برطرفی کی اطلاع نہیں ملی: جسٹس صبیح الدین
 
 
سندھ ہائی کورٹسندھ ہائی کورٹ میں
عبوری آئینی حکم کو چیلنج کر دیا گیا ہے
 
 
اسی بارے میں
ایمرجنسی پر ڈھکی چھپی تنقید
04 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد