BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 November, 2007, 05:07 GMT 10:07 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بینظیر کیطرف سے مقدمہ دائر کریں‘
 

 
 
 چئر پرسن بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو نے پاکستان آنے سے پہلے صدر مشرف کو ایک خط لکھا تھا
کراچی کی ایک عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر کے واقعہ کا مقدمہ بینظیر بھٹو کی مدعیت میں دائر کیا جائے۔

اٹھارہ اکتوبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم سے کم ایک سو چالیس افراد ہلاک اور پانچ سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینطیر بھٹو نے واقعہ کی ایف آئی آر کے لیے بہادر آباد تھانے پر درخواست دی تھی مگر ریاست کی جانب سے مقدمہ دائر ہونے کی وجہ سے پولیس نے دوسرا مقدمہ دائر کرنے سے انکار کیا تھا جس کے خلاف پیپلز لائیرز فورم کی شہادت اعوان ایڈووکیٹ نے سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ واقعے کے بعد وہ زخمیوں کو ہپستال لانے اور ہلاک ہونے والوں کی میتیں پہنچانے میں مصروف تھے کہ حکومت کی جانب سے مقدمہ دائر کر دیا گیا جبکہ ایف آئی آر دائر کرانے کا حق متاثر فریق کو حاصل ہے۔

سیشن کورٹ نے پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے بہادر آباد پولیس کو مقدمہ دائر کرنے کا حکم جاری کیا۔

بینظیر بھٹو نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ’اٹھارہ اکتوبر کو ان کی وطن واپسی پر حکومت کی جانب سے ان کو بتایا گیا تھا کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کو سولہ اکتوبر کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے ان افراد کی نشاندہی بھی کی تھی جن پر انہوں نے اپنے شک کا اظہار کیا تھا۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ ’یہ دھماکے ان کو اور ان کی پارٹی کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ انہوں نے درخواست میں کہا کہ اس واقعہ کا انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور ایکسپلوسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے‘۔

سندھ حکومت کی جانب سے اٹھارہ اکتوبر کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک ٹربیونل بھی تشکیل دیا گیا ہے، جو ابھی تک اپنی تحقیقات کا آغاز نہیں کرسکا ہے۔

پی سی او کے تحت برطرف کیے گئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیا تھا اور پولیس سے تفیصلات طلب کی تھیں۔

 
 
مرتے دم تک ساتھ
’کچھ بھی ہو بینظیر کا ساتھ نہ چھوڑیں گے‘
 
 
کراچی بم دھماکے
دھماکوں کی جگہ یادگار کا درجہ اختیار کر گئی
 
 
بینظیرلاڑکانہ کا دورہ
گھر واپسی یا پھر انتخابی مہم کا آغاز
 
 
کارساز تحقیقات
حکومت اور پی پی پی کے درمیان ڈیڈلاک
 
 
اسی بارے میں
بینظیر بھٹو واپس دبئی روانہ
01 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد