BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 November, 2007, 08:18 GMT 13:18 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کراچی میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری
 

 
 
سندھ ہائی کورٹ کے باہر
پولیس اہلکار شناخت کے بعد لوگوں کو عدالت میں جانے دیتے رہے
ملک میں ایمرجنسی کے نفاد کے بعد وکلاء نے کراچی کی عدالتوں کا دوسرے روز بھی بائیکاٹ کیا ہے جبکہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج صاحبان منگل کو اپنے چیمبروں میں بیٹھے اور مختلف درخواستیں نمٹائیں۔

ہائی کورٹ میں عدالتی کارروائی تو مجموعی طور پر معطل ہے تاہم انتظامی کام معمول کے مطابق شروع ہوگیا ہے جبکہ رینجرز اور پولیس اہلکار منگل کو دوسرے روز بھی ہائی کورٹ کے داخلی دروازے پر تعینات رہے۔

منگل کو سول کپڑوں میں اہلکار صرف ان لوگوں کو عدالت کے اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے جن کے مقدمات زیر سماعت تھے۔ منگل کی صبح ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی سندھ ہائی کورٹ کے داخلی دروازہ پر موجود رہے اور وکلاء کو شناخت کرنے کے بعد اندر جانے کی اجازت دیتے رہے، انہوں نے صحافیوں کو مخاطب ہوکر کہا کہ انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

وکلاء نے بائیکاٹ کے بعد جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا اور اعلان کیا کہ گرفتار وکلاء کی ضمانتوں کے لیے وہ ججوں کے پاس نہیں جائیں گے۔ ہائیکورٹ بار کے سابق صدر اختر حسین کا کہنا تھا کہ پورے ملک سے دو ہزار سے زائد وکلاء گرفتار کیے گئے ہیں، جنہیں ایم پی او یعنی مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت جیل بھیجا گیا ہے، جس میں ضمانت نہیں ہوتی مگر ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء تنظیموں نے یہ فیصلہ کیا ہے ان گرفتاریوں کے خلاف کوئی پٹیشن دائر نہیں کی جائےگی کیونکہ وہ موجودہ لوگوں کو ہائیکورٹ کا جج تسلیم نہیں کرتے۔

تاہم آج جسٹس یاسیمن عباسی اور جسٹس خواجہ نوید احمد عدالت میں بیٹھے اور وکلاء ان کے سامنے پیش ہوئے۔ اس حوالے سے وکلاء کے رہنما اختر حسین کا کہنا تھا کہ’اکا دکا وکیل گئے ہیں جن کی تحقیقات کی جا رہی ہے مگر مجموعی طور پر بائیکاٹ رہا ہے‘۔

میڈیا کو ہائیکورٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی

ادھر ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے حکم کے باوجود پولیس نے پیر کو گرفتار کیے جانے والے وکلاء کو رہا نہیں کیا اور انہیں ایم پی او کے تحت جیل بھیج دیا تاہم ان میں سے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین احمد کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد صلاح الدین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھ پچاس وکلاء گرفتار ہوئے تھے اورگزشتہ شب انہیں گاڑیوں میں ڈال کر سینٹرل جیل بھیج دیا گیا جہاں انہیں بتایا گیا کہ ان کا نام تو فہرست میں موجود نہیں ہے اس لیے انہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور رات کو بارہ بجے کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی۔

صلاح الدین احمد نے بتایا کہ ان کے والد صبیح الدین احمد کو زبانی طور پر کہا گیا ہے کہ وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اور پورے گلی میں پولیس اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں ملنے والوں کو بھی نہیں آنے دیا جا رہا۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس فضل محمد سومرو نے نئے بینچ تشکیل دے دیے ہیں، جس کے تحت جسٹس مسز قیصر اقبال حیدرآباد، جسٹس عزیز اللہ میمن سکھر اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو لاڑکانہ بینچ میں ہوں گے۔

چیف جسٹس فضل محمود اور جسٹس محمود عالم پر مشتمل ڈویژن بینچ قائم کیا گیا ہے جبکہ جسٹس عبدالرحمان، جسٹس یاسمین عباسی، جسٹس خواجہ نوید احمد اور جسٹس منیب احمد سنگل بینچ میں بیٹھیں گے۔

 
 
چیف جسٹس صبیح الدین احمدعہدے پر برقرار ہوں
برطرفی کی اطلاع نہیں ملی: جسٹس صبیح الدین
 
 
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
 
 
کراچی میں گرفتار ہونے والے وکیلوکلاء کا احتجاج
ملک بھر سے احتجاج اور ہڑتال کی جھلکیاں
 
 
جسٹس خلیل رمدےاپنے کیے پر فخر ہے
فکر ججی کی نہیں ملک کی ہے: جسٹس رمدے
 
 
رپورٹروں سےاپنے رپورٹروں سے
ایمرجنسی کا دوسرا دن، لمحہ بہ لمحہ صورتحال
 
 
اسی بارے میں
پی سی او ہائی کورٹ میں چیلنج
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد