BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 November, 2007, 16:41 GMT 21:41 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
قومی اسمبلی تحلیل، محمد میاں سومرو نگراں وزیر اعظم
 

 
 
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس کے ہزاروں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو کو ملک کے نگراں وزیراعظم کے لیے نامزد کیا ہے۔ وہ جنوری کے عام انتخابات تک اس عہدے پر قائم رہیں گے۔

اس سے قبل آج آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے عبوری آئینی حکم میں ترمیم کا فرمان جاری کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی کسی بھی وقت ختم کرنے کا اختیار صدر کو سونپ دیا ہے۔

جنرل مشرف نے تین نومبر کو بطور آرمی چیف آئین معطل کرتے ہوئے عبوری آئینی حکم اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے دو فرمان جاری کیے تھے۔


اس وقت صدر اور آرمی چیف کے دونوں عہدے جنرل مشرف کے پاس ہیں اور ان کی جانب سے نیا فرمان واضح اشارہ دے رہا ہے کہ وہ آرمی چیف کا عہدہ بہت جلد چھوڑنے والے ہیں، اس لیے وہ اہم اختیارات صدر کو سونپ رہے ہیں۔

جمعرات کو جنرل پرویز مشرف نے جو فرمان جاری کیا ہے وہ نافذ العمل تو فوری طور پر ہوگا لیکن اس کا اطلاق تین نومبر سے ہی تصور ہوگا۔ چند روز قبل جنرل پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ نومبر کے آخر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

جمعرات کو پنجاب یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج
ادھر اٹارنی جنرل ملک قیوم نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ جنرل پرویز مشرف رواں ماہ کے آخر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ ان کے بقول اس وقت سپریم کورٹ ان کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ دے دی گی اور وہ صدر کے طور پر حلف اٹھالیں گے۔

تین نومبر کو جب جنرل پرویز مشرف نے دوسری بار آئین معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کی تھی تو ایسا لگ رہا تھا کہ انہوں نے صدر اور آرمی چیف کے عہدوں کو طول دیا ہے۔

لیکن بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب ایسے میں امریکہ، برطانیہ اور دیگر عالمی و ملکی سیاسی رہنماؤں نے ان پر فوجی عہدہ جلد چھوڑنے کا دباؤ بڑھایا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات اس دباؤ کو کم کرنے کے سلسلے میں کر رہے ہوں۔

ادھر لاہور میں ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق امریکہ کے قونصل جنرل برائن ڈی ہنٹ نے پیپلزپارٹی کی نظربند سربراہ بینظیر بھٹو سے ملاقات کی ہے اور کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ صدر مشرف آرمی کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں اور ملک سے ایمرجنسی ختم کر دی جائے جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں پولیس نے ایمرجنسی کے خلاف جلوس نکالنے کی کوشش کرنے والے سیاسی کارکنوں کو لاٹھی چارج کے بعدگرفتار کیا ہے۔

برائن ڈی ہنٹ نے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن سرگرمیوں میں شرکت کی آزادی ہونی چاہیے، میڈیا پر پابندیاں نہیں ہونی چاہیے اور انسانی حقوق بحال ہونےچاہیئیں۔

احتجاجی مظاہرے،گرفتاریاں
ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایمرجنسی کے نفاذ اور بینظیر بھٹو کی نظربندی کے خلاف جمعرات کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے احتجاجی مظاہرے منعقد کیے ہیں جن میں صوبائی رہنماؤں سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سو سے زائد کارکنوں نے جمعرات کو جی ٹی روڈ پر صوبائی جنرل سیکرٹری نجم الدین خان کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور انہوں نے حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔

آئین کا قاتل: مظاہرین
اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شدید لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کا استعمال بھی کیا۔پولیس نے پیپلز پارٹی صوبائی جنرل سیکریٹری نجم الدین خان اور صوبائی رہنما ظاہر شاہ سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

جمعرات کو پشاور میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ایمرجنسی کے خلاف جی ٹی روڈ پر مظاہرہ کیا جس کی قیادت سرحد میں مسلم لیگ کے رہنما انور کمال مروت کر رہے تھے۔ مظاہرے کے دوران پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور تین افراد کو گرفتار کر لیا۔

فیصل آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما رانا آفتاب احمد کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لانگ مارچ کےنام پر جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے چھاپہ مار کر رانا آفتاب سمیت پیپلز پارٹی کے پندرہ رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ لاہور کے نواحی علاقے شاہدرہ سے پیپلز پارٹی لاہور کے جنرل سیکرٹری سمیع اللہ خان کی قیادت میں لانگ مارچ کے نام سے ایک دوسراجلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے جی ٹی روڈ پر آٹھ دس گاڑیوں کے اس قافلے کو روک لیا اور سمیع اللہ خان سمیت پیپلزپارٹی کے بیس کے قریب رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

عمران خان جیل میں

پولیس نے بدھ کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو لاہور سےگرفتار کیا تھا
ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے پاکستان تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ تحریکِ انصاف کے رہنما عمر چیمہ نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق کو بتایا ہے کہ عمران خان کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے اور انہیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

تحریکِ انصاف نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف جمعہ کو ملک گیر یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ پولیس نے بدھ کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو لاہور سےگرفتار کیا تھا۔عمران خان ایمرجنسی لگنے کے روز سے روپوش تھے اور پولیس و خفیہ ایجنسیاں ان کی تلاش میں تھیں۔

وکلاء کا بائیکاٹ جاری
پشاور سمیت صوبہ سرحد کے زیادہ تر اضلاع میں جمعرات کو وکلاء نے ایک روز کے وقفے کے بعد ماتحت عدالتوں سے دوبارہ بائیکاٹ شروع کردیا جبکہ اعلٰی عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے لیے کوئی بھی وکیل حاضر نہیں ہوا۔

احتجاجی صحافیوں نے منہ پر کالی پٹیاں باندھی ہوئی تھیں

وکلاء کی رہنماء مسرت ہلالی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بار کونسل کے فیصلے کے مطابق بدھ کو وکلاء نے ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ اس لیےختم کردیا تھا تاکہ جیلوں میں موجود وکلاء اگر چاہیں تو رہائی کے لیے ضمانت کی درخواست جمع کرا سکیں تاہم ان کے بقول کسی بھی وکیل نے ضمانت کے لیے درخواست نہیں دی۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ ایمرجسنی کے نفاذ کے بعد ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کا جو سلسلہ شروع کیا گیاتھا وہ گزشتہ کئی دنوں سے بظاہر رک گیا ہے تاہم اب بھی ان کے دو سو سے زائد ساتھی صوبہ سرحد کے مختلف جیلوں میں بند ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایک ستائیس کے قریب وکلاء اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سےایک سو نو ہری پور، دس ڈیرہ اسماعیل خان اور آٹھ کو پشاور جیل میں رکھا گیا ہے۔

صوبہ سرحد کے صحافیوں نے جمعرات کو دوسرے روز بھی نجی ٹیلی ویژن چینلز کی بندش کیخلاف پریس کلبوں کے باہر احتججی کیمپ لگائے اور اس موقع پر انہوں نے بازؤوں اور منہ پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔ادھر جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی نے بھی جمعرات کو احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے۔

 
 
مشرفجنرل مشرف نے کہا
جانا ضروری لگا تو چلا جاؤں گا
 
 
صدر مشرفاگلے اڑتالیس گھنٹے
نگران حکومت، اسمبلیوں کی تحلیل متوقع
 
 
مختلف اور متنازعہ
71 کے بعد پہلی اسمبلی جو مدت پوری کر گئی
 
 
بھٹو، مشرفمفاہمت کو خطرہ
بینظیر اور جنرل مشرف میں بڑھتی مخاصمت
 
 
پاکستانایمرجنسی بارہواں دن
عوام با مقابل انتظامیہ کا بارہواں دن
 
 
بےنظیر ابھی نظر بند ہیںبےنظیر کے مضامین
بیرون ملک قارئین کے لیے مہم
 
 
نجی چینلدو کو اجازت
دو مقامی نجی چیلنز ’آج‘ اور ’ڈان نیوز‘ کو اجازت
 
 
اسی بارے میں
اسمبلی جو مدت پوری کر گئی
14 November, 2007 | پاکستان
مشرف، بینظیر: راستے جدا جدا؟
14 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد