BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 16 November, 2007, 18:15 GMT 23:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بینظیر، نیگروپونٹے کی بات چیت
 

 
 
 بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو نے لاہور سے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن انہیں وہاں نظر بند کر دیا گیا تھا
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو سے فون پر بات چیت کی ہے اور ’اعتدال پسند قوتوں‘ کے ایک ساتھ ملکر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جموہریت کی واپسی کے لیے اعتدال پسند طاقتوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔

اس سے قبل آج بینظیر بھٹو نے نگران حکومت کو مسترد کرتے ہوئے اسے حکمران مسلم لیگ کی توسیع قرار دیا ہے اور کہاہے کہ موجودہ سیٹ اپ کے تحت ہونے والے انتخابات کے بائیکاٹ کے بارے میں پیپلز پارٹی سمیت دیگراپوزیشن کی سیاسی جماعتیں بائیکاٹ کے آپشن پر غور کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر قوم سے غداری کی ہے۔

بینظیر بھٹو نے تین روز کی نظر بندی کے خاتمہ کے بعد اپنی قیام گاہ کے سامنے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی صرف شفاف اور منصفانہ انتخابات میں حصہ لیناچاہتی ہے لیکن موجود حالات میں ان کے بقول انہیں آزادانہ انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے۔

مشرف کو سمجھائیں
 نیگرو پونٹے اب صدر مشرف کو یہ سمجھائیں کہ وہ ایک منصفانہ الیکشن ہونے دیں تاکہ پاکستان کے عوام اپنی مرضی کا فیصلہ کرسکیں۔ پہلے خیبر سے پاکستان کا پرچم اتارا گیا پھر باجوڑ، وزیرستان اب سوات میں یہ ہورہا ہے۔پاکستانی فوجیوں کو بکریوں کی طرح ذبح کیا جارہا ہے۔کوئی باغیرت پاکستانی یہ برداشت نہیں کرسکتا
 
بینظیر
انہوں نے بلدیاتی عہدیداروں کے بارے میں کہا کہ ان پاس قوم کےوسائل اور پولیس کی شکل میں اسلحہ موجود ہے انہیں معطل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک آزاد الیکشن کمشن ہونا چاہیے اور ایک ایسی قومی مفاہمت پر مبنی عبوری حکومت قائم کی جائے جس میں سب کی نمائندگی ہوسکے۔

انتخابات کے بائیکاٹ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وہ حراست میں رہی ہیں اور اپنے رفقاءسے مشورہ نہیں کرسکیں انہوں نے کہا کہ وہ بائیکاٹ کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے رفقاء سے مشورہ کریں گے۔

بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ان کی اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی بات ہوئی ہے اور وہ بھی الیکشن کے بائیکاٹ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔بینظیر بھٹو نے مطالبہ کیا کہ صدر مشرف اقتدارقومی مفاہمت کی ایک متفقہ عبوری حکومت کے حوالے کر کے چلے جائیں۔

انہوں نےکہا کہ اس عبوری حکومت کے قیام کے لیے ان کے نواز شریف سمیت اپوزیشن کی مختلف سیاسی جماعتوں سے مذاکرات چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کل رات ہی ان کی نواز شریف سے کوئی دوگھنٹے تک ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے جس میں انہوں نے نواز شریف سے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ وہ عبوری سیٹ اپ کے قیام میں ان کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا انہوں نے نواز شریف کو کہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب وہ بھی وطن لوٹ سکیں گے۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ دوران نظر بندی ان کے قاضی، نواز، اسفندیارولی، عطاءاللہ مینگل، حاصل بزنجوسمیت اپوزیشن کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بات ہوئی ہے اور وہ سب کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے اسے ایک مشکل اور محنت طلب کام قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یہ ضرور کریں گی۔

بینظیر بھٹو نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ امریکی نائب وزیر خارجہ نیگرو پونٹے نے صدرمشرف سے صلح کے لیے انہیں کوئی پیغام بھجوایا ہے اور کہا کہ صدر مشرف نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اب دوبارہ ان سے مذاکرات کے عمل سے گزرنا بہت مشکل ہوگا۔

’اب مشکل ہے‘
 بینظیر بھٹو نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ امریکی نائب وزیر خارجہ نیگرو پونٹے نے صدرمشرف سے صلح کے لیے انہیں کوئی پیغام بھجوایا ہے اور کہا کہ صدر مشرف نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اب دوبارہ ان سے مذاکرات کے عمل سے گزرنا بہت مشکل ہوگا
 

بینظیر بھٹو نے کہا کہ نیگرو پونٹے ایک اہم امریکی عہدیدار ہیں لیکن ان کے لیے پاکستان کا ایجنڈا زیادہ اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ نیگرو پونٹے اب صدر مشرف کو یہ سمجھائیں کہ وہ ایک منصفانہ الیکشن ہونے دیں تاکہ پاکستان کے عوام اپنی مرضی کا فیصلہ کرسکیں۔ بینظیر نے کہا پہلے خیبر سے پاکستان کا پرچم اتارا گیا پھر باجوڑ، وزیرستان اب سوات میں یہ ہورہا ہے۔پاکستانی فوجیوں کو بکریوں کی طرح ذبح کیا جارہا ہے۔کوئی باغیرت پاکستانی یہ برداشت نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ وہ فیصلہ کرچکی ہیں کہ موت کے ڈر سے خاموش نہیں رہیں گی بلکہ ملک و قوم کے لیے باہر نکل کر جدوجہدکریں گی۔

انہوں نے اپنی نظر بندی کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں یہ کہہ کر نظر بند کردیا گیا کہ انتہاپسند ان پر قاتلانہ حملہ کرنا چاہتا ہے۔انہوں نےکہا کہ اس طرز عمل سے انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتہا پسند جسے مارنا چاہتے ہیں اسے بند کرنے کی بجائے انتہا پسندوں کو بند کرنا چاہیے۔

بینظیر بھٹو کو حکومت پنجاب نے لانگ مارچ کی قیادت کرنے سےروک دیا تھا اور انہیں سات روز کے لے نظر بند کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ دوبارہ کرنے کے بارے میں وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کریں گی۔

حکومت پنجاب نے ان کے علاوہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد،سیکرٹری جنرل منورحسن اور جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں کی نظر بندی بھی ختم کردی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
بینظیر بھٹو کی نظر بندی ختم
15 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد