BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 November, 2007, 00:38 GMT 05:38 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مشرف کسی صورت قبول نہیں: بینظیر
 

 
 
بینظیر بھٹو
صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہیں
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف دونوں عہدے چھوڑ دیں کیونکہ ان کی موجودگی میں ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہیں۔

بینظیر بھٹو نے یہ بات سینچر کو لاہور سے کراچی روانگی سے قبل ہوائی اڈے پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

دریں اثنا متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے اور ملک کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

بینظیر بھٹو سات برس کے جلاوطنی کے بعد گیارہ نومبر کو لاہور پہچنی تھیں جہاں سے انہوں نے حکومت کے خلاف تیرہ نومبر سے لانگ مارچ شروچ کرنا تھا تاہم بارہ نومبر کی رات کو ان کی نظربندی کے احکامات جاری کردیئے گئے تھے اور تین زور کے بعد ان کی نظربندی ختم کی گئی تھی۔

جب بینظیر بھٹو سے پوچھا گیا کہ اگر امریکہ یہ کہے کہ صدر مشرف وردی اتار کر سویلین صدر بن جائیں تو کیا آپ صدر مشرف کو قبول کریں گی تو ان کہنا تھا کہ امریکہ کی اپنی سیاست ہے اور پاکستان کی اپنی۔ ہمارے اپنے مسائل ہیں۔ ان کے بقول صدر مشرف وردی یا بغیر وردی کسی صورت قبول نہیں ہیں۔

امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات انتی اہم بات نہیں ہے۔ ان کے بقول اہم بات ملک میں جمہوریت کی بحالی ہے۔ ویسے بھی نیگر وپونٹے اسلام آباد آئے ہیں اور وہ لاہور میں تھیں اور کراچی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی دنیا ایک شخص کے بجائے پاکستان کے عوام کا ساتھ دیں۔

کسی ایک کے بس میں نہیں
 قاضی حسین اور نواز شریف نے موجودہ صورت حال کو تشویشناک قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کی بحالی اب کسی ایک فرد اور جماعت کے بس میں نہیں رہی
 

ان کا کہنا ہے کہ مشکوک انتخابی قوانین اور ناظمیں کی موجودگی میں جمہوریت کیسے بحال ہوسکتی ہے۔ بینظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ وہ حزب مخالف کی تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کررہی ہیں تاکہ آمریت کے خاتمہ اور شفاف انتخاب کا انعقاد ممکن ہوسکے۔

اس دوران جماعت اسلامی شعبہ نشرواشاعت کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق قاضی حسین اور نواز شریف نے موجودہ صورت حال کو تشویشناک قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کی بحالی اب کسی ایک فرد اور جماعت کے بس میں نہیں رہی۔

ان رہنماؤں کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ سب جماعتیں مل کر فیصلہ کریں۔

پریس ریلیز کے مطابق قاضی حسین احمد اور نواز شریف نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے بات کر کے کل جماعتی کانفرنس کی میزبانی کے لیے کسی جماعت کے بجائے غیر جانبدار شخصیت پر اتفاق پیدا کیا جائے تاکہ تمام جماعت اس میں شرکت کرسکیں۔

ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قاضی حسین احمد کو منصورہ میں نظربند کردیا گیا تھا تاہم جمعہ کی رات قاضی حسین احمد سمیت جماعت اسلامی کے دیگر رہمناؤں کی نظربندی کے احکامات واپس لے لیے گئے تھے۔

 
 
اسی بارے میں
صدر مشرف تصادم کے راستے پر
17 November, 2007 | پاکستان
مشرف کو اب جانا ہوگا
17 November, 2007 | پاکستان
مشرف، بینظیر: راستے جدا جدا؟
14 November, 2007 | پاکستان
صدر مشرف پر دباؤ بڑھ رہا ہے
13 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد