BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 November, 2007, 07:22 GMT 12:22 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مشرف کے خلاف درخواستیں مسترد
 

 
 
سپریم کورٹ کے راستے بند
سپریم کورٹ جانے والے اکثر راستوں پولیس کی بھاری نفری موجود رہی

عدالت عظمیٰ کی فل کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر آخری پٹیشن کو خارج کر دیا ہے۔ دوسری طرف ایمرجنسی کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔


جمعرات کے روز عدالت نے جنرل مشرف کے خلاف آخری پیٹیشنر ظہور مہدی کی طرف سے دائر درخواست خارج کر دی۔چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی ہیں سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے کہا کہ صدر کی اہلیت کے بارے میں شارٹ آرڈر کل جاری کیا جائےگا۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے شارٹ آرڈر جاری کرنے کے بعد الیکشن کمیشن صدر جنرل پرویز مشرف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا جس کے بعد وفاقی حکومت پرویز مشرف کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی جس میں ان سے کہا جائے گا کہ وہ بطور صدر اپنے عہدے کا حلف لے سکتے ہیں۔

ان درخواستوں کی سماعت کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف حلف لینے سے پہلے وردی اُتار دیں گے اور وہ آئین کے مطابق حلف لیں گے۔

صدر مشرف
امید ہے کہ الیکشن کمشن کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد صدر سویلین صدر کی حیثیت کے حلف اٹھائیں گے
اس سے پہلے پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کی فُل کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین، پمز ہسپتال کے ڈاکٹر انوارالحق اور جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کی درخواستوں کو خارج کردیا تھا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے مخدوم امین نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔

جمعرات کے روز جب سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے صدر کی اہلیت کے خلاف لاہور سے تعلق رکھنے والے ہومیو پیتھک ڈاکٹر ظہور مہدی کی درخواست کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار نے عدالت سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ فل کورٹ نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں دلائل دینے کو کہا۔

سب سے پہلے بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے رحواست گزار سے استفسار کیا کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے سے ان کے کونسے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔

بینچ میں شامل ایک اور جج جسٹس فقیر محمد کھوکھر کہا کہ ان کے کاغذاتِ نامزدگی اس لیے مسترد ہوئے کیونکہ ان کا کوئی تجویز کنندہ یا تائید کنندہ نہیں تھا۔

اس پر درخواست گزارظہور مہدی نے کہا کہ انہوں نے اپنی درخواست اسلامی اصولوں کے مطابق دی تھی۔

جواب میں جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ خلفائے راشدین نے بھی خود کو کبھی بغیر تائید کنندہ یا تجویز کنندہ کے کسی عہدے کے لیے پیش نہیں کیا۔
اس طرح مختصر سماعت کے بعد ظہور مہدی کی درخواست خارج کر دی گئی۔

جان نیگروپونٹے
صدر مشرف نے عالمی برادری سے اپنا فوجی عہدہ جلد چھوڑنے کا وعدہ کر رکھا ہے
واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے ان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم کی طرف سے درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھیں اور اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک نو رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

اُس وقت اس بینچ میں شامل جسٹس سردار رضا محمد خان نے بینچ میں بیٹھنے سے معذوری ظاہر کردی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ چونکہ وہ صدر کے دو عہدے رکھنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر ہونے والے فیصلے میں اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں اس لیے وہ اس بینچ میں نہیں بیٹھیں گے۔

اس کے بعد اس بینچ نے پانچ اکتوبر کو ان درخواستوں کی سماعت پر یہ حکم جاری کیا تھا کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے عمل کو جاری رکھا جائے تاہم عدالت نےچیف الیکشن کمشنر کو حکم دیا کہ وہ ان درخواستوں کے فیصلے تک کامیاب ہونے والے امیداوار کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔

دوسری طرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر کی سربراہی میں سات رکنی بنچ ملک میں ایمرجنسی کے خلاف رٹ کی سماعت جمعرات کے روز بھی جاری رہی۔

اٹارنی جنرل جسٹس ریٹائرڈ ملک محمد قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی مختصر مدت کے لیے ہے اور انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ہو گی اور صدر جنرل پرویز مشرف اپنی دوسری صدارتی مدت کا حلف اٹھانے سے پہلے وردی اتار دیں گے۔
ملک قیوم نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے کہا کہ اگر آئین میں کسی مسئلے کا حل موجود نہ ہو تو پھر ملک کی سالمیت کے لیے فوج کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے کچھ حصوں اور سوات میں غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے۔

اس پر بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ تین نومبر کے بعد ملک میں نہ تو کوئی خودکش حملہ ہوا ہے اور نہ ہی بم دھماکہ۔


انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس امر کا جوڈیشل نوٹس لینا چاہیے۔ ملک قیوم نے مزید کہا کہ ایمرجنسی فخر کرنے کی بات نہیں ہے۔ لیکن ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہت خراب تھی اور ملک میں اقتصادی سرگرمیاں بھی تنازل کی طرف جا رہی تھیں۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ اقتصادی سرگرمیوں کی کمی کا ذکر سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے اس خط میں بھی کیا تھا جو انہوں نے تین نومبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کو لکھا تھا۔

اس پر جسٹس ضیاء پرویز نے استفسار کیا کہ اگر وزیر اعظم ملک نہیں چلا سکتے تھے تو استعفٰے دے دیتے۔

بینچ کے سربراہ چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اقتصادی سرگرمیاں میں بہتری آئی ہے۔ اس پر صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں پانچ ارب ڈالر کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدلیہ ایگزیکٹو کے کاموں میں مداخلت کررہی تھی۔ انہوں نے انتیس ستمبر کا ذکر کیا جب وکلاء اور پولیس کے درمیان الیکشن کمیشن کے سامنے جھڑپیں ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کے روز ان جھڑپوں کا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے چھٹی والے دن یعنی اتوار کو از خود نوٹس لیا اور سیکریٹری وزارت داخلہ کو طلب کیا۔
ملک قیوم نے کہا کہ عبوری آئین کے تحت جج صاحبان نے حلف اٹھایا تھا جن میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک بیس جج صاحبان نے عبوری آئین کے تحت حلو اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے سے جج صاحبان کو انصاف کرنے سے کوئی نہیں روکتا۔

ان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار ٹکا اقبال محمد خان کے وکیل عرفان قادر نے جواب الجواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کے وکیل اور اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں یہ تسلیم کیا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی ماورائے آئین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری آئین میں عدلیہ کے اختیارات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا حل آئین میں موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین کی دفعہ دو سو پنتالیس کے تحت فوج کو ان علاقوں میں طلب کرسکتا ہے جن علاقوں میں امن و امان کی صوت حال خراب ہورہی ہو اور ایسے علاقوں میں محدود ماشل لاء لگایا جا سکتا ہے۔

عرفان قادر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ان درحواستوں کی سماعت جمعہ کے روز تک ملتوی کردی۔ وطن پارٹی کے بیرسٹر ظفر اللہ خان کل اپنے دلائل دیں گے اور انہوں نے عدالت کو بتایا ہے کہ وہ پانچ منٹ میں اپنے دلائل مکمل کرلیں گے جس کے بعد اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ ان درخواستوں پر فیصلہ اُسی روز متوقع ہے۔

 
 
پشاور ہائی کورٹ کے ’چیف جسٹس‘ طارق پرویز’حلف لینا غیر آئینی‘
سرحد کے برطرف شدہ چیف جسٹس کا موقف
 
 
ججوں کے سحر و شام
لوگ انکاری ججوں کے لیے پھول لاتے ہیں
 
 
عاصمہ جہانگیر’دہشتگردی کا ڈرامہ‘
مشرف دھوکا دے رہے ہیں: عاصمہ جہانگیر
 
 
لاٹھی چارج،گرفتاریاں
ملک بھر میں صحافیوں کے احتجاجی مظاہرے
 
 
وجیہہ الدین’3 نومبرکاشبِ خون‘
جج،جنرل آئین سے بغاوت کے مرتکب: وجیہہ الدین
 
 
بکھرتے ہوئے ادارے
پاکستان کے ریاستی ادارے بکھر رہے ہیں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد