BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 November, 2007, 00:29 GMT 05:29 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر
 

 
 
گورنمنٹ پرائمری سکول کبل
کالج تو کُھلا ہے لیکن لڑکے نہیں آتے۔ پینتالیس میں سے صرف پانچ سے سات طلباء آتے ہیں۔ ایک طالب علم
سوات میں تقریباً چار ہفتے سے جاری شورش کی وجہ سے بارہ سو سے زائد سرکاری سکول مکمل طور پر بند پڑے ہیں اور لگ بھگ دو لاکھ طلبا ء و طالبات تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔

متاثر ہونے والے غیر سرکاری سکول اور اُن میں پڑھنے والے طلباء اس کے علاوہ ہیں جن کے حوالے سے کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا ہے کہ کب سکول کھل سکیں گے اور کب تعلیم کا سلسلہ بحال ہوپائے گا۔

ویسے تو خرابیِ امن و عامہ کی وجہ سے روز مرہ زندگی کا ہر شعبہ بُری طرح متاثر ہوا ہے لیکن تعلیم کے مقابلے میں شاید ہی کوئی دوسرا ایسا شعبہ ہوگا جس کا نظام مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے۔

لڑکیوں کے سکول جیل
 ضلع سوات کی تحصیل مٹہ، تحصیل کبل، تحصیل خوازہ خیلہ اور تحصیل مدین بشمول بحرین میں لڑکوں کے آٹھ سو دو سکولوں میں تعلیم کا عمل مکمل طور پر رُکا ہوا ہے۔ جبکہ ان علاقوں میں، جو کہ حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے کنٹرول میں ہیں، لڑکیوں کے سکولوں کی تعداد چار سو تینتیس ہے، جن میں سے کچھ کو مولانا فضل اللہ کے مسلح حامی عقوبت خانوں / جیلوں لے طور پر استعمال کر رہے ہیں
 
ضلعی حکومت کے محکمۂ تعلیم سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ضلع سوات کی تحصیل مٹہ، تحصیل کبل، تحصیل خوازہ خیلہ اور تحصیل مدین بشمول بحرین میں لڑکوں کے آٹھ سو دو سکولوں میں تعلیم کا عمل مکمل طور پر رُکا ہوا ہے۔ جبکہ ان علاقوں میں، جو کہ حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے کنٹرول میں ہیں، لڑکیوں کے سکولوں کی تعداد چار سو تینتیس ہے، جن میں سے کچھ کو مولانا فضل اللہ کے مسلح حامی عقوبت خانوں / جیلوں لے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

شورش برپا ہونے سے پہلے ان بارہ سوسکولوں میں (جو کہ اب تقریباً سارے کے سارے بند پڑے ہیں ) درج شدہ طلباء کی تعداد ایک لاکھ اکتیس ہزار جبکہ لڑکیوں کے سکولوں میں درج شدہ طالبات کی تعداد باسٹھ ہزار سے زیادہ بنتی ہے۔ اس طرح متاثرہ طلبا ء و طالبات کی تعداد کل درج شدہ طلبا ء و طالبات میں سے پچھتر فیصد بنتی ہے۔

مولانا فضل اللہ کے حامیوں کے زیرِ کنٹرول ان علاقوں میں حکومت کی عملداری نہیں پائی جاتی اور یہاں تک کہ حکومت حالیہ دنوں میں کرفیو کا اطلاق بھی ان علاقوں میں نہیں کراسکی۔

تحصیل کبل کے کئی ایسے دیہات میں جہاں حکومت کی عملداری نہیں گزشتہ چند روز میں بی بی سی کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ تقریباً تمام سرکاری سکول بند پڑے ہیں اور اُن کے صدر دروازوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔

حکومتی پالیسی
 حکومت نے تمام سکول کھول رکھے ہوئے ہیں لیکن امن و عامہ کی خراب صورتِحال کی وجہ سے بعض علاقوں میں اساتذہ سکول نہیں جا رہے۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً لگنے والے کرفیو سے بھی سکولوں میں اساتذہ کی حاضری پر اثر پڑا ہے۔ لیکن ہماری پالیسی ہے کہ سکول کُھلے رہیں گے۔
 
ڈی سی او ارشد مجید
ضلع سوات کے وہ علاقے بشمول مینگورہ، کانجو، سیدو شریف اور تحصیل کبل کے چند حصے جہاں حکومت کا اختیار بحال ہے وہاں بھی سرکاری سکولوں میں درس و تدریس کا نظام بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان علاقوں میں اگر کرفیو نہ ہونے کی صورت میں سکول کُھل بھی جائیں تو پھر بھی والدین کو اپنے بچوں، بچیوں کو سکول بھجوانے کا حوصلہ نہیں ہوتا کیونکہ امن و امان کی حالت اس قدر غیر یقینی ہے کہ ایک ان دیکھے خوف نے ہر خاص و عام کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے ۔

حِراء کالج، کانجو میں سائنس کے بارہویں جماعت کہ طالبعلم احسان کالج یونیفارم پہنے دن تقریباً ایک بجے ڈھیری کے علاقے میں مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کی سڑک پر بنائی گئی چیک پوسٹ اور اس کے پاس ہی بنائے گئے مورچے کے قریب کھڑے تھے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اُن کا کالج دو دن پہلے ہی اس سارے جھگڑے میں پہلی بار کُھلا ہے۔

اُن کے بقول’ کالج تو کُھلا ہے لیکن لڑکے نہیں آتے‘۔ اُنھوں نے کہا کہ پینتالیس طلباء پر مشتمل جماعت میں آج کل صرف پانچ سے سات طلباء حاضر ہوتے ہیں۔

سکولوں میں تعلیمی سلسلے پر منفی اثرات پڑنے کے حوالے سے جب مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین سے پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے خود بھی کوشش کی ہے کہ لڑکوں کی درس گاہیں کھل جائیں ، ’تاکہ بچوں کی تعلیم کا حرج نہ ہو‘۔

انہوں نے بتایا کہ اُنھوں نے ضلعی حکومت کے محکمہ تعلیم کے افسران سے رابطہ کر کے اُن سے کہا تھا کہ اگر سرکار لڑکوں کے سکول کھولے تو ان درس گاہوں کی حفاظت کے لیے ’ہمارے طالبان‘ خود ہر سکول کے باہر پہرہ دیں گے۔’تاحال ہماری بات کا مثبت جواب نہیں دیاگیا‘۔

’لڑکیوں کو اجازت نہیں‘
 ہم نے ضلعی حکومت کے محکمہ تعلیم کے افسران سے رابطہ کر کے اُن سے کہا تھا کہ اگر سرکار لڑکوں کے سکول کھولے تو ان درس گاہوں کی حفاظت کے لیے ’ہمارے طالبان‘ خود ہر سکول کے باہر پہرہ دیں گے۔تاحال ہماری بات کا مثبت جواب نہیں ملا۔ لڑکیوں کے سکولوں کے بارے میں پالیسی جُدا ہے اور فی الحال اُن کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی
 
ترجمان مولانا فضال اللہ
لڑکیوں کے سکولوں کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ ’اُن کے بارے میں پالیسی جُدا ہے اور فی الحال اُن کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ سراج الدین کی سکولوں کو کھولنے کے حوالے سے تجویز ہی کی وجہ تھی کہ ضلعی حکومت نے شورش زدہ علاقوں میں سرکاری سکولوں کو بند کرنے کے حوالے سے نومبر کے شروع میں جاری کیے گئے ایک اعلامیے کو منسوخ کیا اور تمام ضلع میں سرکاری سکول کھلے رکھنے کی حکمتِ عملی اپنائی۔

سوات کے ضلعی رابطہ افسر (ڈی ۔ سی ۔ او ۔) ارشد مجید نے بی بی سی کے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے تمام سکول کھول رکھے ہوئے ہیں لیکن امن و عامہ کی خراب صورتِحال کی وجہ سے بعض علاقوں میں اساتذہ سکول نہیں جا رہے‘۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے کہا کہ وقتاً فوقتاً لگنے والے کرفیو سے بھی سکولوں میں اساتذہ کی حاضری پر اثر پڑا ہے۔ ’لیکن ہماری پالیسی ہے کہ سکول کُھلے رہیں گے‘۔

جب مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی جانب سے سرکاری سکولوں کو کُھلا رکھنے کے حوالے سے کیے گئے رابطے کے بارے میں پوچھا تو ضلعی رابطہ افسر نے کہا
’اُنھوں نے بھی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ حکومت کی پالیسی بھی بڑی واضح ہے کہ سکول بند نہیں کیے جائیں گے‘۔

مینگورہ کے قریب چارباغ کے علاقے میں لڑکیوں کے ایک سکول کی عمارت کو مولانا فضل اللہ کے حامیوں کا بطورِ جیل استعمال کرنے کے بارے میں سوات میڈیا انفارمیشن سینٹر کے انچارج امجد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ اس عمارت کو بیس نومبر کو اس اطلاع پر آرٹلری فائر کا نشانہ بنایا گیا کہ اس میں کافی تعداد میں ’عسکریت پسند‘ موجود ہیں۔ ’کاروائی میں دس عکسریت پسند ہلاک اور چالیس کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے‘۔

اسی اطلاع کی تصدیق کے لیے جب بی بی سی نے مولانا فضل اللہ سے رابطہ کیا تو اُنھوں نے سرکاری ترجمان کے ہلاکتوں کے کے حوالے سے کیے گئے دعوے کی تو تردید کی لیکن لڑکیوں کے سکول پر قبضے کے حوالے سے کچھ یوں کہا ’لڑکیوں کا سکول شاید پکڑا ہو‘۔

ضلعی حکومت کے محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے کئی علاقوں میں سرکاری انسپیکشن ٹیمیں بھی دورہ کرنے نہیں جا سکیں جس سے یہ غیر حاضر اساتذہ کےحوالے سے کچھ کیا جاسکتا ۔

ٹیموں کے ان علاقوں میں نہ جانے کی وجہ پوچھی ڈسٹرکٹ افسر سکولز اینڈ لٹریسی شیرزادہ خان کے دفترمیں موجود ایک اہلکار نے کہا کہ ’اُن علاقوں میں کیسے جائیں، وہ یا تو ہمارے لوگوں کویرغمال بنا لیں گے یا ہماری گاڑی چھین لیں گے‘۔

 
 
تحصیل بریکوٹ میں قائم ریلیف کیمپسوات ریلیف کیمپ
’بریکوٹ کا ریلیف کیمپ مکینوں کے بغیر‘
 
 
سواتی بچےلوگوں کی پریشانی
سوات: ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور
 
 
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
 
 
بالاکوٹ میں زلزلے کے متاثرینشانگلہ: خیمے نہیں
متاثرین آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں: عینی شاہد
 
 
اسی بارے میں
سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک
14 November, 2007 | پاکستان
سوات اور شانگلہ میں جھڑپیں
18 November, 2007 | پاکستان
سوات میں دوبارہ رات کا کرفیو
23 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد