BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 November, 2007, 06:33 GMT 11:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
شریف خاندان مشرف کو کیا دے رہا ہے؟
 

 
 
مسلم لیگ کے حمایتی
اس دس سالہ معاہدے کا کیا ہوا جس پر دونوں فریق اس حد متفق ہیں کہ اس پر نواز شریف کے دستخط موجود ہیں؟

میاں نواز شریف کی واپسی اگر ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے تو پھر اس بار حکومت کارویہ اتنا مختلف کیوں ہے؟

آخر سعودی فرماں روا عبداللہ بن عبدالعزیز نے وہ کونسا احسان کیا جسے نواز شریف اور ان کے اہلخانہ ساری زندگی نہیں بھلاسکتے؟ اس احسان کا اعتراف میاں نواز شریف بار بار کر رہے ہیں حالانکہ جب اب سے صرف سوا دو مہینے پہلے جب اسلام آباد ائرپورٹ سے انہیں دوبارہ جلاوطن کیا گیا تھا تو مسلم لیگی رہنما سعودی عرب کے خلاف اس قدر برانگیختہ ہوئے تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب کے خلاف عوامی اجتماعات میں تقریریں ہوئی تھیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دوسری جلاوطنی میں سعودی حکومت مشرف کا ساتھ نہ دیتی تو نواز شریف کو کسی دوسرے ملک بھجوایا جانا صدر مشرف کے لیے بہت مشکل یا شاید ناممکن ہی ہوتا۔ یہ سوال یقیناً بہت سے پاکستانیوں کے ذہن میں کلبلا رہا ہوگا کہ اب اچانک سعودی بادشاہ نے کیا احسان کر دیا ہے؟

سوال حکومت پاکستان سے بھی ہے کہ وہ اچانک میاں نواز شریف پر اتنی مہربان کیوں ہوگئی ہےکہ نہ صرف انہیں آنے کی اجازت مل رہی ہے بلکہ اس سعودی شاہی طیارے کو لاہور کے ائرپورٹ پر خوشدلی سے اترنے دیا جا رہا ہے جو سعودی بادشاہ نے سابق پاکستانی وزیراعظم کو اس خصوصی سفر کے لیے دیا ہے۔

سعودی فرماں روا اور نواز شریف کی ملاقات

نواز شریف کی وطن واپسی کی صورت میں ان کے استقبال میں اس کی طرح کی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ پولیس کا رویہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اچانک نرم ہوگیا ہے۔ لاہور میں ساری رات اجتماعات ہوئے، پوسٹر،بینر لگے لیکن اکا دکا کے سوا کوئی گرفتاری ہوئی نہ آخری اطلاعات آنے تک نواز شریف کے خیر مقدمی پوسٹر یا بینراتارے گئے۔

مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کہتےہیں کہ نواز شریف اور ڈیل دو متضاد چیزیں ہیں، ایوان صدر سے ترجمان کہتےہیں کہ نواز شریف کی واپسی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہےتو پھر اس دس سالہ معاہدے کا کیا ہوا جس پر دونوں فریق اس حد متفق ہیں کہ اس پر نواز شریف کے دستخط موجود ہیں۔

یہ معاہدہ کب اور کیسے ختم ہوا اور اسے کس نے کالعدم قراردیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بے نظیر بھٹو نے تو پاکستان آنے سے پہلے برملا حکومت سے بات چیت کا اعتراف کیاتھا اسی بات چیت کی کوکھ سے ایک مفاہمتی آرڈیننس نے جنم لیا جو اچھا یا برا تھا لیکن ایک آئینی اقدام تھا اور عوام سے کوئی بات چھپائی نہیں گئی تھی۔

اب سیاسی مبصرین بجا طور پر یہ سوال اٹھا سکتےہیں کہ شہباز شریف کے خلاف لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قتل کے مقدمے میں گرفتاری کے ناقابل ضمانت دائمی وارنٹ جاری کر رکھے ہیں اس کا کیا بنے گا۔ کیا شہباز شریف کو ائرپورٹ پر ہتھکڑیاں لگ جائیں گی؟اگر نہیں تو کیا یہ پھر بھی ڈیل نہیں کہلائے گی۔

نواز شریف سمیت شریف خاندان کے مقدمات نیب میں زیر سماعت ہیں اور خود نواز شریف کو ایک ایسے معاہدے کےتحت جلاوطن کیا گیا جس میں انہوں نے جلاوطنی قبول کی اور بدلے میں میں ان کی سزا معاف کی گئی۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اگر نواز شریف وہ معاہدہ توڑ کر واپس آرہے ہیں تو کیا ان کی سزائیں بھی دوبارہ بحال کی جارہی ہیں؟ اگر نہیں تو کیا پھر بھی یہ ڈیل نہیں ہے؟

نواز شریف کے حوالے سے یہ بیان آیا تھا کہ’ وہ صدر مشرف سے نہیں ملنا نہیں چاہتے سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ خود ان سے بات کریں‘۔ کیا وہ انہیں یہ کہہ رہے تھے کہ وہ ان کی طرف سے صدر مشرف سے معاملات طے کریں اورکیا انہیں اپنی غیر اعلانیہ قید میں رکھنے والے سعودی حکام کا شریف خاندان پر یہی احسان ہے کہ انہوں نے جہاں ماضی میں انہیں جیل سے نکلوا کر اپنی سرزمین پر پناہ دی وہیں اب وہ انہیں دس کی بجائے سات برس میں وطن واپسی کی اجازت لے کر دے رہے ہیں۔

آخر کچھ تو ایسے معاملات ہوئے ہونگے جس نے سو دو مہینے کی قلیل مدت میں صدر مشرف کے رویے کو اس حد تک تبدیل کیا کہ وہ انہیں تیسری بار جلاوطن نہیں کر رہے۔

کیا پاکستان کا عام شہری نواز شریف اور صدر مشرف سے یہ پوچھنے میں حق بجانب نہیں کہ آٹھ برس پہلے جلاوطنی کا معاہدہ اور اب وطن واپسی کے اقدامات ڈیل، مفاہمت، مذاکرات، کچھ لو کچھ دو نہیں ہے تو پھر کیا ہیں؟

ہر ڈیل میں ادلے کا بدلہ ہوتاہے شریف خاندان کو تو اس مبینہ ڈیل کے نتیجےمیں وطن واپسی کی اجازت مل رہی ہے اور وہ بھی ایسی کہ ایک فوجی حکومت اور اس کے تمام آئینی اور ماورائے آئین اقدامات کے باوجود شریف خاندان کو عام انتخابات میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سیدھا موقع مل رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جواباً شریف خاندان صدر مشرف کو کیا دے رہا ہے؟

 
 
نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
 
 
کلثوم کا عزم
سیاست میں آنا خواہش نہیں مجبوری
 
 
نواز لیگ کا سیز فائر
سعودی عرب کا حمایتی دھڑا جنگ جیت گیا
 
 
نواز شریفآخر کیا ہوا؟
اے پی ڈی ایم کے کارکن کہاں رہ گئے تھے
 
 
نواز شریف’آئین سے متصادم‘
نواز شریف کی ملک بدری پر عالمی تشویش
 
 
نواز جلاوطنی پر احتجاجنواز ملک بدری
یوم سیاہ اور احتجاج کی تصویری جھلکیاں
 
 
’زیرو سم گیم‘
فوج سے شراکتِ اقتدار کی کڑوی گولی
 
 
اسی بارے میں
مشرف سعودی دورے سے واپس
21 November, 2007 | پاکستان
نواز شریف کی دوسری واپسی
09 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد