BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 30 November, 2007, 15:49 GMT 20:49 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پاکستان پیپلز پارٹی کے چالیس برس
 

 
 
ذوالفقار علی بھٹو دو بار وزیراعظم بنے
پاکستان پیپلز پارٹی تیس نومبر کو چالیس برس کی ہوگئی ہے۔ ان چالیس برسوں میں پارٹی نے کئی نشیب و فراز دیکھے اور پارٹی کے کئی ممتاز رہنماؤں نے مشکل گھڑی میں پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی اور پارٹی کے نام کےساتھ لاحقہ لگا کر نئی جماعتیں تشکیل دیں تاہم وقت کے ساتھ افادیت ختم ہونے پر نومولود جماعتیں بھی ختم ہوگئیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی چالیس برس قبل تیس نومبر 1967 کو وجود میں آئی اور اس جماعت کے پہلے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ پیپلز پارٹی نے 1970 میں ہونے والے عام انتخابات میں مغربی پاکستان سے بھرپور انداز میں کامیابی حاصل کی۔

پیپلزپارٹی پر مشکل وقت کےدوران پارٹی کے ممتاز رہنماؤں نے اس سے علیحدگی اختیار کی تاہم اقتدار ملنے پر ان میں کئی رہنما پارٹی میں دوبارہ شامل ہوگئے۔ پیپلزپارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے کئی رہنماؤں نے اسی جماعت کے نام پر نئی جماعتیں قائم کیں اور پیپلز پارٹی کو اقتدار ملنے کے بعد اس میں دوبارہ شامل ہوگئے۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد پہلی حکومت
 پاکستان پیپلزپارٹی نے سقوط ڈھاکہ کے بعد ملک میں پہلی حکومت بنائی اور مارچ 1977 کے انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کی تاہم پانچ جولائی1977میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا کر پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کردی جس کے بعد پارٹی میں اکھاڑ بچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوا۔
 
پاکستان پیپلز پارٹی نے سقوط ڈھاکہ کے بعد ملک میں پہلی حکومت بنائی اور مارچ 1977 کے انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کی تاہم پانچ جولائی1977میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا کر پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کردی جس کے بعد پارٹی میں اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری کے بعد بھٹو کابینہ کے وزیر قانون ایس ایم مسعود نے ایک قرارداد کےذریعے سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پارٹی کا تاحیات صدر بنا دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کےقریبی ساتھی کوثر نیازی نے مشکل کی اس گھڑی میں علیحدگی اختیار کر لی اور پروگریسِو پیپلز پارٹی کے نام سے جماعت بنالی۔ نیازی کی پیپلز پارٹی میں بھٹو کا ساتھ چھوڑنے والے رہنما شامل ہوئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی کے بعد ان کی بیگم نصرت بھٹو کو پارٹی کی چیئرپرسن اور ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کو پارٹی کی شریک چیئرپرسن بنایا گیا۔

سن 1986 میں بھٹو کے ایک اور قریبی ساتھی غلام مصطفیٰ جتوئی اور بھٹو کے سیاسی شاگرد غلام مصطفیٰ کھر نے نیشنل پیپلز پارٹی قائم کی تاہم کچھ عرصہ کے نیشنل پیپلز پارٹی مزید دو، جتوئی اور کھر گروپوں میں تقسیم ہوگئی۔انیس سو اٹھاسی میں بینظیر بھٹو کے وزیراعظم بننے کے بعد غلام مصطفیٰ کھر نے اپنے گروپ کواصل پیپلز پارٹی میں ضم کر دیا۔

بینظیر بھٹو تیسری بار وزیراعظم بننے کی دعویدار ہیں
بینظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں پارٹی کی چیئرپرسن اور اپنی والدہ کو عہدے سے ہٹا دیا اور خود پارٹی کی چیئرپرسن بن گئیں۔ بیگم نصرت بھٹو کی تبدیلی کے بعد ان کے حامی رہنماؤں نے نصرت بھٹو کی سربراہی میں پارٹی کا شہید بھٹو گروپ بنا لیا اور نہ صرف بھٹو کو تاحیات چیئرپرسن قرار دیا گیا بلکہ بینظیر بھٹو کے بھائی مرتضیٰ بھٹو نے جلاوطنی کے بعد پاکستان واپسی پر شہید بھٹو گروپ کی قیادت سنبھال لی۔

مرتضیٰ بھٹو کےقتل کے بعد پارٹی کی قیادت مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو کے ہاتھ میں آگئی اور وہ تاحال شہید بھٹو گروپ کی سربراہ ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور صدر مملکت سردار فاروق احمد خان لغاری نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو 1996 میں تحلیل کر دیا اور بھٹو کےقربیی ساتھی ملک معراج خالد کو نگران وزیر اعظم نگران مقرر کر دیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما رانا شوکت محمود نے بھی 1996 میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمہ پر پیپلز پارٹی زید اے بھٹو کے نام پر جماعت بنائی تاہم اکتوبر دوہزار دو میں عام انتخابات سے قبل رانا شوکت محمود دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔

سردار فاروق لغاری نے صدر مملکت کے عہدے سے استعفیٰ دے کر ملت پارٹی بنائی اور اس جماعت میں پیپلزپارٹی کے ناراض رہنماؤں نے شمولیت کی۔ سابق وزیر داخلہ آفتاب شرپاؤ نے اختلافات کی بنیاد پر پیپلز پارٹی شرپاؤ گروپ کے نام جماعت بنائی۔

جتوئی اور کھر گروپ
 سن 1986 میں بھٹو کے ایک اور قریبی ساتھی غلام مصطفیٰ جتوئی اور بھٹو کے سیاسی شاگرد غلام مصطفیٰ کھر نے نیشنل پیپلز پارٹی قائم کی تاہم کچھ عرصہ کے نیشنل پیپلز پارٹی مزید دو، جتوئی اور کھر گروپوں میں تقسیم ہوگئی۔انیس سو اٹھاسی میں بینظیر بھٹو کے وزیراعظم بننے کے بعد غلام مصطفیٰ کھر نے اپنے گروپ کواصل پیپلز پارٹی میں ضم کر دیا۔
 
بینظیر بھٹو کو لاہور میں ایک اجلاس میں پارٹی کی تاحیات چیئرپرسن بنا دیا گیا۔

سنہ دوہزار دو کے انتخابات سے قبل بینظیر بھٹو نے خود پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے نام سے ایک جماعت بنائی جس کا سربراہ مخدوم امین فہیم کومقرر کیا گیا۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی وجہ سے پیپلزپارٹی نے سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تاہم یہ جماعت بینظیر بھٹو کی واپسی اور اسمبلیوں کی تحلیل کےساتھ ہی اب عملی طور پرختم ہوگئی ہے۔

سنہ دوہزار دو کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے منتخب ارکان اسمبلی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی پیڑیاٹ قائم کی اور مسلم لیگ قاف کو حکومت بنانے میں مکمل مدد اور تعاون فراہم کیا۔

پیپلز پارٹی پیڑیاٹ اور پیپلز پارٹی شرپاؤ کے انضمام کے بعد اس جماعت کو پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرایا گیا تھا تاہم آفتاب شرپاؤ کے سوا پیپلز پارٹی پیڑیاٹ مسلم لیگ قاف میں شامل ہوگئی۔

بینظیر بھٹو نے حال میں پیپلز پارٹی پیڑیاٹ اور پیپلز پارٹی شرپاؤ کے انضمام کے بعد اس جماعت کو پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی پیڑیاٹ اور شرپاؤ گروپوں کے انضمام کرکے انہیں پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیا اور پیپلز پارٹی کا نام بحال کر دیا۔

پیپلز پارٹی اپنے قیام سے اب تک چار مرتبہ اقتدار میں آئی اور دو مرتبہ پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بنے اور دو مرتبہ ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کو اقتدار میں رہنے کاموقع ملا۔

 
 
نیا کھیل شروع
کیا زرداری کی رہائی سے سیاسی نقشہ تبدیل ہوگا؟
 
 
بینظیر بھٹو  (فائل فوٹو)تاریخ سازگھڑی مگر
پاکستان کے تاریخ ساز لمحوں میں کیا کیا ہوا؟
 
 
بے نظیر’ملک کو حقیر کیا‘
بینظیر کے مطابق مشرف نےملک کو حقیر کیا ہے
 
 
 بنظیر بھٹومیثاق کا مستقبل
میثاق جمہوریت میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔
 
 
سر ورقایک سوانح عمری
’جمہوریت صبر طلب، فوج بے تاب‘
 
 
بھٹو کے مزار کا مجاوربھٹوسائیں کا مزار
’ضیا کی قبرپربھی کوئی منٹھار علی بیٹھا ہے کیا‘
 
 
ڈیل کی کڑوی گولی
پیپلز پارٹی کی یہ پہلی ڈیل نہیں ہو گی۔
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد