http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 08 November, 2007, 11:51 GMT 16:51 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

گرفتار وکلاء سے ملاقات کی اجازت

کراچی سے گرفتار وکلا سے ان کے رشتےداروں کو ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے کچھ بزرگ وکلا کے بیمار ہونے کی بھی اطلاعات ہیں مگر جیل حکام اس کی تردید کی ہے۔

کراچی سے گرفتار ہونے والے وکلا کی گرفتاری کے تیسرے روز رشتےداروں کو ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔

گرفتار وکلا میں جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی، ابرار حسن، مصطفیٰ لاکھانی، امین لاکھانی عارضہ قلب اور ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔ ساتھی وکلا کا کہنا ہے کہ انہیں مطلوبہ دوائیں فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔

پولیس ان الزامات کی تردید کرتی ہے، آئی جی جیل خانہ جات محمد یامین کا کہنا ہے کہ کسی وکیل کی صحت خراب نہیں ہے سب صحت مند اور خیریت سے ہے۔

ان کے مطابق وکلا کو جیل میں بی کلاس بھی فراہم کی جارہی ہیں اور ڈاکٹر بھی ان کا معائنہ کرتے ہیں۔

جسٹس رشید رضوی کے اہل خانہ ان سے ملاقات کرکے آئے ہیں۔ ان کے بیٹے عماد رضوی کا کہنا تھا کہ انہیں محکمہ داخلہ نے صرف بیٹے بیٹیوں سے ملاقات کی اجازت دی، وہ ذیبیطس کے بھی مریض ہیں جن کو دوائیں اور کچھ کتاب بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ان کے بیٹے عماد رضوی کا کہنا ہے کہ ان کے والد، جنرل ضیاالحق کی مارشل لا دور میں بھی وکلا کے جلوس میں گرفتار کے گئے تھے اور کچھ ماہ تک اندر رہے ہے۔

بزرگ وکیل امین لاکھانی کی بیگم حاجرہ شوہر سے ملاقات کرکے آئی ہیں، وہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر کی طبیعت ٹھیک ہے وہ اس سے قبل کبھی جیل نہیں گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کو اخبارات وغیرہ فراہم کیے جارہے ہیں انہیں اچھی طرح سے رکھا ہوا ہے انہوں نے کوئی شکایت نہیں کی مگر بیٹھے بیٹھے بور ہو رہے ہیں۔

گرفتار خواتین وکلا کو ان کے گھروں پر نظر بند کیا گیا ہے، جن میں نور ناز آغا بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دو پولیس اہلکار گھر کے باہر موجود ہیں اور ایک لیڈی پولیس اہلکار گھر میں سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، پولیس قریبی رشتے داروں کے نام لے گئی ہے جن کے سوا کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

وکلا کی گرفتاریوں کے باعث ان کے موکلوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے اور کئی مقدمات التویٰ کا شکار ہوگئے ہیں۔