http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 08 November, 2007, 15:16 GMT 20:16 PST

’جیلوں میں وکلاء پر تشدد ہو رہا ہے‘

پاکستان بار کونسل اور ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے الزام لگایا ہے کہ وکلاء کے نمائندوں کو جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور نائب صدر طارق محمود کو اڈیالہ اور ساہیوال جیلوں میں قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک کو کراچی میں گرفتار کر کے اٹک قلعے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بار کونسل نے کہا کہ علی احمد کُرد کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں بند کیا گیا جہاں انہیں آئی ایس آئی کے اہلکار مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان بار کونسل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نائب صدر امداد علی اعوان کو ادویات مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔

تاہم ان الزامات کی تصدیق کے لیے سرکاری اہلکاروں سے رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

بار کے نائب چیرمین مرزا عزیز بیگ اور اراکین سید قلب حسن اور حامد خان کے دستخط سے جاری کیئے گئے بیان میں وکلاء اور ذرائع ابلاغ کے احتجاجی جذبے کی بھی تعریف کی گئی ہے۔

بار نے کل ایک بیان میں تمام ملک میں عدالتوں کا بائیکاٹ دس نومبر تک جاری رکھنے تاہم سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا بائیکاٹ غیرمعینہ طور پر جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

ہیومن رائٹس کمشن کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے اپنے بیان میں وکلاء پر مبینہ تشدد کی مذمت کی ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے، جن کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھر میں نظر بند کیا گیا ہے، ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے وکلاء سے بدلہ لینے کے لیے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگرد کھلے عام پھر رہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے سینئر ججوں کو سرکاری اہلکار حراست میں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمشن کی چیئر پرسن نے دنیا بھر کی وکلاء تنظمیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے عدلیہ اور وکلاء کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کریں۔

انہوں نے کہا ملک میں مارشلء کے نفاذ کے بعد ہزاروں وکلاء کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے وکلاء کی عالمی تنظیموں سے کہا کہ وہ اپنی حکومتوں سے رابطہ کر کے پاکستان کے فوجی حکمران جنرل مشرف پر دباؤ ڈالیں۔