http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 08 November, 2007, 14:34 GMT 19:34 PST

عباس نقوی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

تیرہ افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ

کراچی پولیس نے سٹی کورٹ کے آٹھ وکیلوں کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس مقدمے میں نامزد وکیلوں کو گرفتار کرنے کے لئے چھاپے مار رہی ہے۔

سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او کی جانب سے دائر کی گئی ایف آئی آر نمبر 114 پاکستان پینل کورٹ کی دفعہ 124 اے 34 کے تحت درج کی گئی جو بغاوت کے زمرے میں آتی ہے جو قانوں کے تحت ناقابلِ ضمانت جرم ہے۔

سٹی کورٹ پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد وکیلوں میں مقبول الرحمان ایڈوکیٹ، جاوید تنولی ایڈوکیٹ، صابر تنولی ایڈوکیٹ، محمد اسلم بھٹہ ایڈوکیٹ، مسعود الرحمان ایڈوکیٹ، عمران خان ایڈوکیٹ، خرم ایڈوکیٹ اور خاتون وکیل جمیلہ منظور شامل ہیں۔

مقدمے کے تفتیشی افسر انسپکٹر چوہدری نظیر کا کہنا ہے کہ نامزد وکلاء نے چھ نومبر کو اپنے رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد ایک میٹنگ منعقد کی تھی جس میں اُنہوں نے ایک پمفلیٹ بنا کر وکلاء میں تقسیم کیا تھا جس میں ملک میں لگنے والی ایمرجنسی اور موجودہ حکومت کے خلاف مواد تحریر کیا گیا تھا۔

پولیس افسر کے مطابق پمفلیٹ میں تحریر تھا کہ ایمرجنسی صرف عدلیہ کے خلاف لگائی گئی ہے جبکہ وزیرِ اعظم اور دیگر لوگ بدستور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق بغاوت کے مقدمے میں نامزد وکلاء نے ملک کے موجودہ حالات میں بیرونی قوتوں سے مداخلت کی بھی اپیل کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد تمام وکیل فرار ہوگئے ہیں جن کی گرفتاری کے لئے کراچی بار ایسوسی ایشن اور اُن کے نجی دفاتر پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایمرجنسی کے بعد یہ پہلی ایف آئی آر ہے جو پولیس نے وکلاء کے خلاف بغاوت کے الزامات کے تحت درج کی ہے۔

سوِل سوسائٹی کے رہنما گرفتار
کراچی پولیس نے آج سول سوسائٹی کے گرفتار کیے جانے والے پانچ رہنماؤں کو جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ ذیشان اختر کی عدالت میں پیش کیا جہاں سے ان رہنماؤں کو اُنیس نومبر تک جیل پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

سول سوسائٹی کے رہنماؤں میر حاصل بزنجو، لیاقت علی ساہی، یوسف مستی خان، غلام فرید اعوان اور ایوب قریشی کے خلاف پولیس نے ہنگامہ آرائی کے علاوہ بغاوت کی دفعہ 124 اے کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کی وکیل رعنا خان ایڈوکیٹ نے پاکستان پینل کی دفعہ کے بارے میں بتایا کہ دفعہ 124 اے ناقابلِ ضمانت ہے جس میں عمر قید تک سزا ہوسکتی ہے جبکہ خصوصی مواقع پر یہ سزا تین سال بھی ہوسکتی ہے۔

یہ دفعہ صوبائی یا وفاقی حکومت کے احکامات کے تحت لگائی جاتی ہے، تاہم اُن کے مطابق اعلی عدلیہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے کسی فیصلے کے خلاف کوئی فرد یا گروہ احتجاج کرے تو یہ عمل بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔

دوسری جانب سندھ کے مشیر برائے امور داخلہ وسیم اختر کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جن کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے وہ حکومت اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگا رہے تھے جو پی سی او کی خلاف ورزی ہے اور یہ مقدمات قانوں کے مطابق ہیں۔