http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 23 November, 2007, 07:41 GMT 12:41 PST

وجاہت مسعود
لاہور

اغوا کنندہ کا اعلان

مضافاتی قصبے کے ایک بلندو بالا مکان کے باہر مشتعل ہجوم نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔ چہرے غصے سے تمتما رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں لاٹھی تھی تو کسی نے اینٹ اٹھا رکھی تھی۔ غصے بھری آوازوں کا شور لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا تھا۔ قصہ یہ تھا کہ قصبے کا ایک غنڈہ صفت شخص دن دیہاڑے ایک ہاتھ میں بندوق لیے، دوسرے ہاتھ سے ایک نوجوان خاتون کا بازو پکڑ کر گلیوں بازاروں میں کھینچتا ہوا اپنے گھر لے آیا تھا۔ قصبے کے لوگ مغویہ کی بازیابی کے لیے یہاں پہنچے تھے۔ بار بار مجرم سے باہر آنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ دھمکیاں دی جا رہی تھیں مگر حویلی کا فولادی دروازہ اندر سے بند تھا۔اوپر نیچے کی سب منزلوں پر کھڑکیاں بھی بند تھیں۔

نئی عدلیہ نے مشرف کی اہلیت کے خلاف پرانی درخواستیں مسترد کر دیں

اچانک دروازہ کھلا۔ اغوا کنندہ مغویہ کو لیے دروازے پر نمودار ہوا۔ مجمع پر خاموشی چھا گئی۔ چند لمحے بعد شہر کا قاضی بھی نظریں جھکائے باہر نکل آیا۔ قاضی کا ٹوٹا ہوا بازو گلے میں پڑی میلی کچیلی پٹی سے جھول رہا تھا۔ گھٹنے پر بندھی پٹی سے معلوم ہوتا تھا کہ ٹانگ بھی سلامت نہیں ہے۔ چہرے پر خراشیں تھیں۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ خون آلود قمیض کا گریبان نوچ کھسوٹ کا پتہ دے رہا تھا۔ قاضی اغوا کنندہ سے دو قدم پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اغوا کنندہ تحکم بھرے لہجے میں ہجوم سے مخاطب ہوا ’ایک شریف آدمی کے دروازے پر کیا لینے آئے ہو؟ میں ایک قانون پسند انسان ہوں، میرا ماضی میرے اعلٰی اخلاق کا گواہ ہے اور یہ خاتون میری زوجہ ہے۔ ہم نے کچھ دیر پہلے ایجاب و قبول کی رسم ادا کی ہے۔‘ یہ کہتے ہوئے اس نے مغویہ کی طرف دیکھا، جس کے منہ پر پٹی بندھی تھی۔ نوجوان نے قاضی کی طرف اشارہ کیا۔ قاضی نے اثبات میں گردن ہلا دی۔ مجمع ششدر رہ گیا۔

3نومبر کو پاکستان میں ہنگامی حالت اور عبوری آئینی حکم نافذ ہونے کے بعد عدلیہ کو ازسرِنو حلف اٹھانا تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں عبوری آئین کا مرحلہ ایک سے زیادہ دفعہ درپیش ہوا ہے۔ ایسے ہر موقع پر عدلیہ کے کچھ معزز ارکان نے حلف اٹھانے سے انکار کیا اور کچھ کو سرے سے حلف برداری کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔ تاہم اس مرتبہ اعلٰی عدالتوں کے 60 کے قریب جج صاحبان نے حلف اٹھانے سے انکار کر کے عبوری آئینی بندوبست کی اصل حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایمرجنسی کے فرمان میں مذہبی دہشت گردی کا ذکر تو ردیف قافیے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس اقدام کا حقیقی مقصد عدلیہ کو صدر کی اہلیت کے بارے میں ناموافق فیصلہ دینے سے زبردستی روکنا تھا۔

تین نومبر کے بعد تشکیل پانے والی عدلیہ کی ہیئت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ موجودہ عدالت ملک کے آئینی اور سیاسی بحران میں صدر کے مؤقف سے اتفاق رکھتی ہے، چنانچہ یہ توقع ہی عبث تھی کہ عدالتِ عظمٰی صدر کے مفاد اور خواہش کے منافی کوئی فیصلہ دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد درخواست دہندگان نے نوتشکیل شدہ عدلیہ کے سامنے اپنی آئینی درخواستوں کی پیروی سے انکار کر دیا، تاہم آئینی ماہرین کے مطابق صدر مشرف کی اہلیت کے خلاف رٹ درخواستوں کا فیصلہ کرتے ہوئے جو قانونی راستہ اختیار کیا گیا ہے، وہ سیاسی اور آئینی مضمرات سے خالی نہیں۔ یہ تمام درخواستیں تکنیکی وجوہ کی بنا پر مسترد کی گئی ہیں۔

قانونی روایت میں تکنیکی بنیاد پر فیصلہ دینے کا انداز عام طور پر تب اختیار کیا جاتا ہے جب عدالت اپنے فیصلے کا ٹھوس قانونی جواز فراہم کرنے سے قاصر ہو۔ پاکستانی تاریخ میں عدلیہ کا کردار سب سے پہلے ایک تکنیکی فیصلے کے سبب ہی شکوک و شبہات کی زد میں آیا تھا۔ مئی 1954 میں گورنر جنرل غلام محمد نے قانون سازوں کی طرف سے گورنر جنرل کے اختیارات کم کرنے کی جسارت کی پاداش میں دستور ساز اسمبلی توڑ دی تھی۔

وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ )تب فیڈرل کورٹ( میں اپیل دائر کی۔ چیف جسٹس محمد منیر نے تکنیکی بنیاد پر فیصلہ دیا کہ سندھ ہائی کورٹ کو اس آئینی درخواست کی سماعت کا اختیار ہی نہیں تھا۔ ’مولوی تمیز الدین بنام وفاق پاکستان‘ کے عنوان سے موسوم یہ تکنیکی فیصلہ تین برس بعد ڈوسو کیس میں نظریۂ ضرورت کی ولادت کا پیش خیمہ ثابت ہوا جو نصف صدی بعد بھی قوم کی گردن میں طوق کی طرح آویزاں ہے۔

سالِ رواں ستمبر کے مہینے میں نصف درجن آئینی درخواستوں کے ذریعے عدالت عظمٰی سے تین سوال کیے گئے تھے۔ آئینِ پاکستان کے مطابق کسی سرکاری ملازم کو سیاست میں حصہ لینے کا حق نہیں ہے۔ کیا جنرل مشرف سرکاری ملازم ہوتے ہوئے صدر کا انتخاب لڑ سکتے ہیں؟ آئینِ پاکستان کی شق 43 کے مطابق صدرِ پاکستان حکومتِ پاکستان کی تنخواہ دار ملازمت نہیں کر سکتے۔ کیا جنرل مشرف صدر ِ پاکستان ہوتے ہوئے افواجِ پاکستان کے سربراہ رہ سکتے ہیں؟ آئین کے مطابق کوئی شخص حکومت پاکستان کی ملازمت چھوڑنے کے بعد دو سال کا عرصہ پورا ہونے سے پہلے کسی انتخابی عہدے کا امیدوار بھی نہیں ہو سکتا۔ کیا صدر مشرف وردی اتارنے کے فوری بعد صدرِ پاکستان کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں؟

عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تکنیکی طور پر برحق ہے اور ہر شہری پر عدالتی فیصلے کا احترام لازم ہے۔ تاہم یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں تینوں سوالوں کا جواب تشنہ چھوڑ دیا ہے۔ ان تینوں سوالوں پر آئین کا منشا واضح نہیں ہو سکا اور نہ ہی آئندہ برسوں میں ممکنہ طور پر ایسی ہی پُرافتاد صورت حال کے لیے قانونی نظیر قائم ہو سکی ہے۔ صدر مشرف کی پسندیدہ اصطلاح میں آئینی رکاوٹ پر پل تو باندھ دیا گیا ہے لیکن اس پل کے تختے شکستہ ہیں اور اس کا ڈھانچہ لرزاں ہے۔ قوموں کے ہموار سفر کی روایت مستحکم بنیادوں پر استوار، پختہ پلوں پر سفر سے ترتیب پاتی ہے۔