BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 December, 2007, 12:47 GMT 17:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
حلف نہ لینے والے جج ریٹائر
 

 
 
ججوں کی برطرفی کے مخالفین
پاکستان میں وکلاء تنظیمیں اور سیاستدان برطرف کیے جانے والے ججوں کی بحالی کا مطالبہ کر چکے ہیں
وزارت قانون نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ہائی کورٹ کے چوبیس ججوں کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

نگران وزیر قانون سید افضل حیدر نے ہائی کورٹ کے ججوں کو ریٹائرڈ کرنے کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

جن جج صاحبان کو ریٹائر کیا گیا ہے ان میں لاہور ہائی کورٹ کے دس، سندھ ہائی کورٹ کے بارہ اور پشاور ہائی کورٹ کے دو جج شامل ہیں۔

کس نے کب ریٹائر ہونا تھا
جسٹس خواجہ محمد شریف: نو دسمبر سنہ دوہزار دس
جسٹس میاں ثاقب نثار: اٹھارہ جنوری سنہ دو ہزار سولہ
جسٹس آصف سعید کھوسہ: اکیس دسمبر سنہ دو ہزارسولہ
جسٹس سائر علی: گیارہ دسمبر سنہ دو ہزارآٹھ
جسٹس اعجاز احمد چودھری: چودہ دسمبر سنہ دو ہزار بارہ
جسٹس ایم اے شاہد صدیقی: تیرہ اکتوبر سنہ دو ہزارآٹھ
جسٹس محمد جہانگیر ارشد: سترہ دسمبر سنہ دو ہزار آٹھ
جسٹس شیخ عظمت سعید: ستائیس جنوری سنہ دو ہزار سولہ
جسٹس عمر عطاء بندیال: سولہ دسمبر سنہ دو ہزار بیس
جسٹس اقبال حمید الرحمن: چوبیس ستمبر سنہ دو ہزار اٹھارہ
وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کے مطابق پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والےلاہور ہائی کورٹ کے جن ججوں کو ریٹائر کیا گیا ہے ان میں جسٹس خواجہ محمد شریف، جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس سائر علی، جسٹس اعجاز احمد چودھری، جسٹس ایم اے شاہد صدیقی، جسٹس محمد جہانگیر ارشد، جسٹس شیخ عظمت سعید ،جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اقبال حمید الرحمن شامل ہیں۔

ہائی کورٹ کے قبل از وقت ریٹائر کیے جانے والے لاہور ہائی کورٹ کے ججوں میں
جسٹس خواجہ محمد شریف نے نو دسمبر سنہ دوہزار دس ، جسٹس میاں ثاقب نثار نے اٹھارہ جنوری سنہ دو ہزار سولہ، جسٹس آصف سعید کھوسہ اکیس دسمبر سنہ دو ہزارسولہ، جسٹس سائر علی گیارہ دسمبر سنہ دو ہزارآٹھ، جسٹس اعجاز احمد چودھری چودہ دسمبر سنہ دو ہزار بارہ، جسٹس ایم اے شاہد صدیقی تیرہ اکتوبر سنہ دو ہزارآٹھ، جسٹس محمد جہانگیر ارشد سترہ دسمبر سنہ دو ہزار آٹھ، جسٹس شیخ عظمت سعید ستائیس جنوری سنہ دو ہزار سولہ، جسٹس عمر عطاء بندیال سولہ دسمبر سنہ دو ہزار بیس اور جسٹس اقبال حمید الرحمن چوبیس ستمبر سنہ دو ہزار اٹھارہ کو باسٹھ برس کے ہونے پر ریٹائر ہونا تھا۔

تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور پی سی او کے اجرا سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں اکتیس جج کام کررہے تھے تاہم لاہور ہائی کورٹ کے اکیس ججوں نے مرحلہ وار پی سی او کے تحت حلف اٹھایا جس کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی تعداد دس رہ گئی ہے۔

نگران وزیر قانون نے کہا کہ ان ججوں نے اپنی مرضی سے نئے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا اس لیے اب وہ جج نہیں رہے اور ان کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں کے گھر سپریم کورٹ کے نئے ججوں کو الاٹ کردئیے ہیں۔

پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سردار رضا خان کا گھر سپریم کورٹ کے نئے جج موسی کے لغاری کو الاٹ کردیا گیا ہے جبکہ جسٹس میاں شاکراللہ جان کا گھر جسٹس اعجاز الحسن کو الاٹ کردیا گیا ہے۔

تین دن کی تنخواہ
 حکومت نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو صرف تین دن کی تنخواہ بھیجی ہے۔ تین نومبر کی رات کو صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یہ جج اپنے عہدوں پر فائز نہیں رہے۔
 
سپریم کورٹ کے سنئیر جج فقیر محمد کھوکھر جو کہ آٹھ نمبر گھر میں مقیم تھے اب پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے جج جسٹس جاوید اقبال کا گھر الاٹ کر دیا گیا ہے۔

پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ایک جج کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ججز کالونی میں پانچ گھر خالی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے جان بوجھ کر وہ گھر الاٹ کیے ہیں جن میں وہ جج صاحبان رہائش پذیر ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا۔

ذرائع نے بتایا کہ برطرف کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا گھر نئے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو الاٹ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس شاکراللہ جان اور جسٹس ناصرالملک کے پاس ان کے آبائی علاقوں میں بھی ان کے گھر نہیں ہیں۔

حکومت نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو صرف تین دن کی تنخواہ بھیجی ہے۔ تین نومبر کی رات کو صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یہ جج اپنے عہدوں پر فائز نہیں رہے۔

ان ججوں میں شامل ایک جج کے فیملی ذرائع نے بتایا کہ اے جی پی آر کی طرف سے انہیں اس تنخواہ کے بارے میں کوئی سلپ نہیں ملی اور نہ ہی حکومت نے کوئی پنشن کے کاغذات بھیجے ہیں جس کی وجہ سے ان ججوں کی فیملی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 
 
انکاری جججنہوں نے انکار کیا
پاکستان کی تاریخ میں ’نہ‘ کہنے والے جج
 
 
ججزججز کالونی
ججز کالونی کے’اسیر‘، آپس میں نہیں مل سکتے
 
 
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود جج کے ایام قید
وہ دس دن بہت تکلیف دہ تھے: جسٹس(ر) طارق
 
 
وکلاء کا احتجاجیہاں بھی ایمرجنسی
اسلام آباد ججز کالونی کے نہ گفتہ بہ حالات
 
 
جنرل بمقابلہ جج
’نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں‘
 
 
اسی بارے میں
انکاری ججوں کے شام و سحر
12 November, 2007 | پاکستان
’آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے‘
30 November, 2007 | پاکستان
عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک
29 November, 2007 | پاکستان
منیر اے ملک کو رہا کر دیا گیا
25 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد