BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 14 December, 2007, 18:15 GMT 23:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
مسلم لیگ منشور: ججز کی بحالی
 

 
 
نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے تھے
پاکستان مسلم لیگ نون کےسربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے الیکشن دوہزار آٹھ کے لیے اپنی پارٹی کے منشور کا اعلان کیا ہے جس کا پہلا اور بنیادی نکتہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھا نے والے تمام ججوں کی بحالی ہے۔

نواز شریف نے جمعہ کے روز ماڈل ٹاؤن میں اپنی پرانی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار میں آکر سب سے پہلے عدلیہ کو بحال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پوری انتخابی مہم ججوں کی بحالی کے لیے وقف ہے، ان کی فتح، منتخب ہونے والے ہر کارکن اور ہر منتخب رکن قومی و صوبائی اسمبلی کی کامیابیاں ججوں اور وکلاء کی امانت ہوں گیں۔

انہوں نے کہاکہ ’وہ آج بھی ان کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں اور اسے ہی اٹھاکر چلتے چلے جائیں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک عدل کے ایوانوں پر عدل کا پرچم لہرایا نہیں جاتا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ پرچم انہوں نے نہیں بلکہ چیف جسٹس افتخار چودھری، بیرسٹر اعتزاز احسن، منیر اے ملک، علی احمد کرد اور ریٹائرڈ جسٹس طارق محمود کو خود لہرانا ہے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں کوئی جج سیاست نہیں کر رہا اور ان کی متحرمہ بے نظیر بھٹو سے درخواست ہے کہ وہ بھی عدلیہ کے بارے میں ایسا ویسا لب ولہجہ اختیار نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ غیر آئینی حلف سے دستبردار ہوکر ایک آمر کی شخصی وفادری کا دم بھرنے سے انکار کرنے والے جج صاحبان نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے عدلیہ کی بحالی کی خاطر ساڑھے تین گھنٹے تک بے نظیر بھٹو کو اسلام آباد میں الیکشن کے بائیکاٹ پر رضامند کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔

کمیشن قائم کیا جائے گا
 منشور میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کےدوران ہونے والی فوجی بغاوتوں کی وجوہات جاننے اور دیگر غیرآئینی اور غیرقانونی اقدامات کی تحقیقات کے لیے بھی ایک کمیشن قائم کیا جائے گا۔ فوج کو احستاب کے دائرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کو ختم کر کے اس کی جگہ کابنیہ کی ڈیفنس کمیٹی کو دوبارہ بحال کیا جائے گا جس کی صدارت وزیر اعظم کیا کرے گا۔
 
نواز شریف نے اپوزیشن کی دوسری دو بڑی جماعتوں کے سربراہوں یعنی بے نظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کو ایک معاہدے کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ ایک عہد نامہ پر ان کے ساتھ دستخط کریں کہ پرویز مشرف کے کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کی جائے گی اور تین نومبر کے مارشل لاء اور اس کے تحت اٹھائے جانے والے کسی اقدام کی توثیق نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے فیلصہ کیا ہے کہ یہ حلف اس کے تمام امیدواروں سے بھی لیاجائے گا۔ نواز شریف نے کہا کہ جلد ان کے امیدوار فائنل ہونے والے ہیں اور وہ ان سے اجتماعی طور پر یہ حلف لیں گے۔

مسلم لیگ نون نے اپنے منشور میں فوج کی سیاسی مداخلت کے خاتمے پر خاص زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد سنہ انیس سو ننانوے کے کارگل بحران کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے کمیشن قائم کیا جائے گا۔

منشور میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کےدوران ہونے والی فوجی بغاوتوں کی وجوہات جاننے اور دیگر غیرآئینی اور غیرقانونی اقدامات کی تحقیقات کے لیے بھی ایک کمیشن قائم کیا جائے گا۔ فوج کو احستاب کے دائرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کو ختم کر کے اس کی جگہ کابنیہ کی ڈیفنس کمیٹی کو دوبارہ بحال کیا جائے گا جس کی صدارت وزیر اعظم کیا کرے گا۔

پریس کانفرنس میں میاں نواز شریف کے ہمراہ ان کے بھائی سابق وزیر اعلی شہباز شریف اور ان کے دور کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز اور اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔

میاں نواز شریف نے آٹے کی قیمت میں اضافے اور مہنگائی پر مشرف حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ ان کے دور میں پنجاب میں آٹا چھ روپے کلو اور روٹی صرف آٹھ آنے کی تھی لیکن اب مہنگائی کی انتہا کر دی گئی ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا کہ مسلم لیگ نون اقتدار میں آکر کم از کم اجرت چھ ہزار روپے مقرر کرے گی اور جون سنہ دوہزار آٹھ میں ایک لاکھ نئی ملازمتیں دی جائیں گی۔

میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کے منشور کے لیے انگریزی کے لفظ ری سٹور کا نعرہ دیا ہے جس کا مطلب بحالی ہے: آر سے ریسٹوریشن یعنی عدلیہ اور آئین کی بحالی، ای سے ایلیمینشن یعنی سیاست سے فوج کے کردار کا خاتمہ، ایس سے سیکیورٹی یعنی عوام کی جان ومال کا تحفظ، ٹی سے ٹالرنس یعنی رواداری پر مبنی معاشرے کا قیام اور او سے اور آل یعنی ایک وسیع قومی مفاہمت، آر سے ریلیف یعنی غربت کا خاتمہ کرکے غریبوں کے لیے ریلیف، اور ای سے ایمپلائمنٹ یعنی روزگار، تعلیم اور صحت کی فراہمی ہے۔

انہوں نے کہا انٹر تک تعلیم مفت کی جائے گی اور سنہ دو ہزار پندرہ تک سو فی صد طلبہ کا میٹر تک داخلہ یقینی بنایا جائے گا۔ شہری علاقوں میں کم قیمت مکان بنانے کی سیکیمیں متعارف کروائی جائیں گی۔ منشور میں کہا گیا ہے کہ کم ازکم تیس لاکھ افراد کو روزگار مہیا کیا جائےگا اور چھوٹے اور درمیانے درجے کی روز گار کی سکیمیں لائی جائیں گی۔

صنعتی ترقی کے لیے نئی قائم ہونے والی صنعتوں کو تین سال کی مکمل ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔ مسئلہ کشمیر کےحل کی کوشش کی جائے گی اور بھارت کے ساتھ دیگر مسائل حل کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔

مسلم لیگ نون کے منشور میں کہاگیا ہے کہ انسداد دہشت گر دی کی عدالتیں اور احتساب کی عام عدالتیں ختم کر کے مقدمات عام عدالتوں میں لائے جائیں گے۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ کا سائز چھوٹا کیا جائےگا۔

 
 
جسٹس خواجہ شریف ’باغی‘ جج نظربند
ججوں کے گھر کے باہر پولیس تعینات کردی گئی
 
 
پھیکی انتخابی مہم
عام انتخابات سر پر لیکن انتخابی مہم میں زور نہیں
 
 
مسلم لیگ نون لیگ کی کشش
گجرات کے چودھریوں کے خواب چکنا چور؟
 
 
قرآن پر قسم
پی پی پی اپنے امیدواروں سے حلف نامے لے رہی ہے
 
 
اختیارات سب کیلیے
ایم کیو ایم کا سترہ نکاتی انتخابی منشور
 
 
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
 
 
مسلم لیگ انتخابی میدان سے
قومی انتخابات کے ’بلدیاتی‘ امیدوار
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد