http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 27 December, 2007, 16:53 GMT 21:53 PST

بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بینظیر بھٹو قاتلانہ حملے میں ہلاک

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ جمعرات کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان کے انتخابی جلسے پر حملہ کیا گیا۔ راولپنڈی کے جنرل ہسپتال کے باہر پی پی پی کے رہنما بابر اعوان نے بتایا کہ حملے میں بینظیر بھٹو انتقال کرگئی ہیں۔ حملے کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں جنرل ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن انہیں نہیں بچایا جاسکا۔

بےنظیر کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج
دھماکے کے فوراً بعد کے مناظر
آپ کی رائے: بینظیر پر قاتلانہ حملہ
حملے سے پہلے، حملے سے بعد
بینظیر بھٹو– اہم سیاسی واقعات
اہم شخصیات پر حملوں کی تاریخ

وزارت داخلہ نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ خودکش حملے میں زخمی ہوئیں یا انہیں گولی مارکر ہلاک کیا گیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت پانچ گولیاں بھی چلی تھیں جن میں سے ایک ان کی گردن میں لگی تھی۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بینظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے، اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔

کئی ہلاکتیں
 اس حملے میں پی پی پی کی رہنماء شیری رحمان اور ناہید خان بھی شدید طور پر زخمی ہوئی ہیں۔ ہسپتال کے باہر بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کارکن جمع ہیں اور غم و غصے کا ماحول ہے۔ اس حملے میں کم سے کم اکیس ہلاک اور پچاس سے زائد ہوئے ہیں
 

اس کے بعد بینظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا تاہم گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔

ہسپتال اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بینظیر بھٹو کی موت ان کے سر پر گولی لگنے سے ہوئی ہے جبکہ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان کی ہلاکت خودکش حملے میں ہوئی ہے۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت تین سو سے زائد افراد بے نظیر کی گاڑی کے پاس موجود تھے جبکہ ان کی حفاظت پر مامور پولیس وین ان سے کچھ فاصلے پر تھی۔

پولیس کو مبینہ خودکش حملہ آور کا سر بھی ملا ہے جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر سی ایم ایچ ہسپتال بھیج دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن پر گولیاں کسی بھی قریبی عمارت سے چلائی گئی ہیں۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے جلسے سے پہلے پولیس نے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے تھے اور لیاقت باغ کی قریبی عمارتوں جن میں ہوٹل بھی شامل ہیں، پر پولیس فورس تعینات تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت جائے واقعہ پر پولیس اہلکاروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔

اس حملے میں پی پی پی کی رہنما شیری رحمان اور ناہید خان بھی شدید طور پر زخمی ہوئی ہیں۔ ہسپتال کے باہر بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کارکن جمع ہیں اور غم و غصے کا ماحول ہے۔ اس حملے میں کم سے کم اکیس ہلاک اور پچاس سے زائد ہوئے ہیں۔

بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری نے کہا ہے کہ وہ دبئ سے پاکستان پہنچ رہے ہیں اور بینظیر کی ہلاکت کی خبر پر اس وقت تک یقین نہیں کرسکتے جب تک وہ خود نہ دیکھ لیں۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق بینظیر بھٹو کے سینے اورگلے میں گولیاں لگیں تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان پر فائرنگ کی گئی اور ریلی میں دھماکہ بھی کیا گیا۔ لیکن حالات واضح نہیں ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو صرف زخمی ہیں۔

جمعرات کی شب نگران وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کی میت جمعرات کی شب ہی لاڑکانہ بھجوائی جارہی ہے۔ اور اس ضمن میں بینظیر بھٹو کی میت کو چکلالہ ایئربیس پر پہنچا دیا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کی موت ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نتیجہ ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو اپنی سکیورٹی کے بارے میں بہت فکرمند تھیں اورجلسے کے دوران بھی انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ بابر اعوان نے کہا کہ وہ صبح بینظیر بھٹو کے ساتھ ہی جلسے میں گئے تھے۔

’جلسہ گاہ میں ہم اکھٹے بیٹھے رہے۔ ہم ساتھ ہی ان کے گھر سے آئے تھے۔ وہ بتاتی رہیں کہ انہیں کیا خطرات در پیش ہیں۔ انہوں نے کچھ تفصیلات بھی مجھے دیں جو میں ابھی نہیں بتا سکتا۔ جب ہم جلسے میں بیٹھے ہوئے تھے تب بھی محترمہ نے مجھے کچھ چیزیں لکھ کر دیں۔ وہ اس بارے میں بہت فکرمند تھیں۔ ‘

کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے انتخابی سرگرمیاں معطل کردی ہیں اور سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ الطاف حسین نے واقعہ کو سانحہ قرار دیتے ہوئے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

الطاف حسین کا کہنا ہے سندھ کے تیسرے وزیراعظم کو راولپنڈی میں اس طرح سے قتل کیا گیا ہے، اس سے قبل لیاقت علی خان اور ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کیا گیا اور اب سندھ کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا۔

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے بھی واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے بعد یہ بھٹو خاندان کے ایک بڑا سانحہ ہے۔

قاضی حسین احمد نے مطالبہ کیا کہ پرویز مشرف فوری طور مستعفی ہوجائیں کیونکہ وہ اس کے ذمے دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر سویلین حکومت قائم کی جائے جو عدلیہ اور آئین کو بحال کرے اور انتخابات کے لیے مناسب فضا تیار ہو۔

سندھ: غم و غصہ، توڑ پھوڑ
کراچی میں ہمارے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کی اطلاع پہنچتے ہی کراچی میں تمام بازار اور دکانیں بند ہوگئیں اور رات دیر تک کھلے رہنے والے بازاروں میں اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ پورے شہر میں خوف و دہشت کی فضا ہے۔ سڑکوں پر بھگدڑ کی سی فضا ہے اور ٹریفک بھی بے ہنگم ہوگیا ہے۔

ایسا لگ رہا ہے جیسے لوگ حواس باختہ ہوگئے ہیں۔ وہ سڑکیں جو یکطرفہ ٹریفک کے لئے ہیں وہاں دونوں اطراف سے گاڑیاں آجانے سے صدر سمیت کئی علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہے جبکہ ٹرانسپورٹ گاڑیاں بھی غائب ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگ کئی علاقوں میں پھنس گئے ہیں۔

مشتعل لوگوں کے ہجوم سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں جو دیوانہ وار نعرے لگارہے ہیں۔ پتھراؤ کر رہے ہیں اور ٹائروں کو آگ لگا رہے ہیں۔ سب سے جذباتی منظر لیاری میں ہے جو جہاں خواتین بھی سڑکوں پر نکل کر سینہ کوبی اور بین کررہی ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر میں جابجا ایسی افراتفری ہے جیسے عام طور پر زلزلے یا کسی دوسری قدرتی آف کے بعد نظر آتی ہے۔ شہر کے تشدد زدہ علاقوں سے یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ مشتعل لوگ سرکاری املاک اور گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے ہیں اور انہوں نے بعض گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں ہنگامہ آرائی کے دوران پندرہ سے زائد گاڑیوں کو نظر آتش کیا گیا ہے۔ یہ گاڑیاں ناظم آباد، لیاقت آباد، کیماڑی، اسٹیل ٹاؤن، راشد منہاس روڈ سہراب گوٹھ پل پر جلائی گئی ہیں۔ گلستان جوہر تھانے پر فائرنگ اور بغدادی تھانے پر کریکر سے حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔

بینظیر بھٹو کے گھر بلاول ہاؤس پر سوگ کی فضا ہے۔ شہر بھر سے آنے والے کارکن دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔ بلاول ہاؤس کے جانب سے بتایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری بچوں سمیت رات کے کسی وقت راولپنڈی پہنچ رہے ہیں۔

بلاول ہاؤس کے قریب واقع بلاول چورنگی پر مشتعل افراد نے دو بینکوں کو نذر آتش کیا ہے۔ جبکہ ایک سرکاری گاڑی میں سوار کچھ افراد کو تشدد کے نشانہ بنانے کے بعد گاڑی کو آگ لگادی گئی، گیس سلینڈر پھٹنے سے ایک بڑا دھماکہ ہوا۔

دوسری جانب سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے صوبے میں تین روز سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی میں شدید ردعمل
اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکن اپنے جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور دہاڑیں مار مار کر رونے لگے۔

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے جو مری روڈ پر موجود تھی، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور سڑکیں بلاک کر دیں۔ شہر کی پولیس مظاہرین کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی۔

بینظیر بھٹو نے گیارہ سال کے بعد راولپنڈی میں عوامی جلسے سے خطاب کیا تھا اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد بینظیر کا خطاب سننے کے لیے لیاقت باغ پہنچی تھی۔

اس واقعہ کے بعد لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا گیا اور لوگوں نے خود کو اپنے گھروں تک محدود کر دیا۔ اس سانحہ کے بعد فیض آباد راولپنڈی میں واقع بسوں کے اڈے بند کر دیے گئے جبکہ ہوٹل مالکان نے اپنے ہوٹل بھی بند کر دیے۔

پنجاب میں آتشزدگی کے واقعات
لاہور میں ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں مسلم لیگ قاف کے اس پنڈال میں آگ لگا دی گئی جہاں جمعرات کو مسلم لیگ قاف کا جلسہ عام ہونا تھا۔ سینکڑوں مشتعل افراد نے سٹیج، کرسیوں بینر اور پوسٹروں کو آگ لگا دی گئی اس کے علاوہ مسلم لیگ قاف کے تین انتخابی دفاتر کو بھی آگ لگائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی احتجاج اور ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔ پنجاب کے تقریبا تمام بڑے شہروں میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی اطلاع ملتے ہی کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند کر دی گئی ہیں۔
بیشتر شہروں میں پٹرول پمپ سینما گھر تھیٹر بند کردیے گئے ہیں۔ لاہور میں پولیس کی دوگاڑیوں کو جلا دیا گیا تیسری کو پولیس اہلکاروں سمیت اغوا کیا گیا بعد میں پولیس اہلکاروں کو تشدد کے بعد رہا کر دیا گیا۔

شہر کے ایک علاقے میں موبائل فون کے دفتر، ایک پٹرول پمپ اور دوسرے میں ایک ویگن کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ایک گھر کو بھی آگ لگائے جانے کی اطلاع پولیس کو ملی ہے۔ لاہور میں مختلف مقامات پر ٹائر جلاکر آگ لگائی گئی اور شاد باغ اور شملہ پہاڑی کے نزدیک زبردست ہوائی فائرنگ کی گئی ہے۔ مال روڈ شام ہوتے ہی سنسان ہوگئی ہے اور اندھیرے میں ڈوبی ہے۔

گوجرانوالہ میں دکانیں بند کرنے میں تاخیر کرنے والوں کی دکانوں میں توڑپھوڑ کی گئی ہے۔ ملتان میں چوک رشید آباد سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا توڑ پھوڑ کی اور ٹائر جلاکر آگ لگائی گئی۔ ملتان کے ڈیرہ دارچوک اور کنٹونمنٹ کے علاقے میں ہوائی فائرنگ کی اطلاع ملی ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے آنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے پیپلز پارٹی کے کارکن مشتعل ہیں اور متعددنے انتقام کی بات کی ہے۔

صوبہ سرحد میں توڑ پھوڑ
پشاور میں ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ملک کے دیگر حصوں کی طرح پشاور میں بھی بینظیر کی ہلاکت کی خبر پہنچتے ہی مختلف علاقوں میں پیپلز پارٹی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور توڑ پھوڑ کی۔

پشاور میں جی ٹی روڈ اور یونیورسٹی روڈ پر پی پی پی کے سینکڑوں کارکن جمع ہیں اور سڑک بند کر کے وہاں احتجاج کر رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق جی ٹی روڈ پر بعض مشتعل افراد نے ایک گاڑی کو آگ لگائی اور سڑک پر نصب درجنوں سائن بورڈ اور گاڑیوں کے شیشے توڑے۔ پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کےلئے لاٹھی چارج اور انسو گیس کے گولے فائر کیے۔

ادھر اس واقعہ کے بعد شہر کے زیادہ تر تجارتی مراکز بند ہوگئے ہیں اور لوگ گھروں کی طرف بھاگنے لگے۔ شہر کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی ترسیل معطل ہے۔

بلوچستان میں کشیدگی، توڑ پھوڑ
کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں سے کشیدگی کی اطلاعات ہیں جبکہ لورالائی اور تربت میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جوں جوں اطلاعات پہنچ رہی ہیں ان علاقوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ لورالائی شہر میں سب سے پہلے توڑ پھوڑ شروع کی گئی جہاں گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے ہیں اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

اس کے علاوہ مکران ڈویژن کے شہر تربت سے مشتعل افراد نے ہوائی فائرنگ کی ہے اور ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ جعفر آباد اور نصیر آباد کے علاقوں میں مشتعل افراد نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک اور دکانیں بند کر دای گئی ہیں۔

اس کے علاوہ کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں خوف کی غم و غصہ کی فضا پائی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر لشکری رئیسانی کی رہائش گاہ پر بڑی تعداد میں کارکن جمع ہو گئے ہیں لیکن اب تک کسی تشدد کے واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔

کوئٹہ میں آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کا اجلاس ہوا ہے جس میں اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اے پی ڈی ایم کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ یہ فوجی حکمرانوں کا کیا دھرا ہے جو سیاست اور سیاسی جماعتوں کو برداشت نہیں کر رہے۔

کوئٹہ میں پولیس حکام کے مطابق تمام اہم مقامات پر پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ لسبیلہ سے پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے مطابق بیلہ میں دکانیں اور بازار بند کر دیے گئے ہیں اور تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

غیرملکی حکومتوں کا ردعمل
امریکی حکومت نے بینظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس حملے سے پاکستان میں مفاہمتی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔ روس کی حکومت نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس حملے سے دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

افغانستان کی حکومت نے بینظیر پر قاتلانے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بربریت‘ قرار دیا۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ بینظیر کے قاتل پاکستان اور امن کے دشمن ہیں۔ بینظیر بھٹو اور حامد کرزئی نے آج ہی اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔

ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نےمحترمہ بھٹو کی موت پرگہرے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان کی موت سے برصغیر ایک بہترین رہنما سے محروم ہوگیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ محترمہ بھٹو کی موت سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے اور وہ اس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کے غم میں شریک ہیں۔

بینظیر بھٹو پر کراچی میں اٹھارہ اکتوبر پاکستان واپسی پر ایک استقبالیہ ریلی میں خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان واپسی کے بعد سے ان کی سکیورٹی پر مسلسل تشویش پائی جارہی تھی۔