BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 14 January, 2008, 11:19 GMT 16:19 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سندھ:رینجرز موجود مگر آٹا غائب
 

 
 
انڈس فلو ملز
سندھ میں ایک سو چالیس کے قریب فلور ملز ہیں
سندھ میں وفاقی فوڈ کمیٹی کے احکامات کے تحت تمام فلور ملز اور گندم کے گوداموں پر رینجرز تعینات کی گئی ہے مگر عام صارفین کا کہنا ہے کہ رینجرز کی تعنیاتی کے باوجود آٹے کا بحران برقرار ہے۔

سستے آٹے کی تلاش میں لوگوں کو مقامی ضلعی حکومتوں کے نمائندوں کے دفاتر اور یوٹیلٹی سٹورز کے باہر گھنٹوں لائنوں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔

ملک میں آٹے کا بحران شدید ہونے کے بعد صدر مشرف کی جانب سے بنائی گئی فیڈرل فوڈ کمیٹی کا پہلا اجلاس اتوار کو وزیراعظم سیکریٹریٹ میں جنرل (ر) فاروق احمد کی صدارت میں ہوا۔

اجلاس کے فیصلوں کے تحت سندھ کے دو سرحدی مقامات پر گندم کی سمگلنگ روکنے کےلیے دو رینجرز کی چوکیاں بنائی گئی ہیں۔ بلوچستان سے متصل علاقے حب اور پنجاب جانے والی سڑک پر کشمور کے قریب قائم کردہ رینجرز چوکیاں گندم کی مبینہ سمگلنگ پر نظر رکھیں گی۔

فلور ملز مالکان کی تنظیم پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر رینجرز کی تعنیاتی چھ ماہ قبل کی جاتی تو ملک اور خصوصاً سندھ میں آٹے کا بحران جنم ہی نہ لیتا۔پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق صدر ممتاز علی شیخ کا کہنا ہے کہ رینجرز کی تعنیاتی پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ مگر یہ حفاظتی تدابیر اگر چھ ماہ قبل کیے جاتے تو آٹے کا بحران سرے سے پیدا ہی نہ ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے کی گئی غیر قانونی صوبہ بندی کی وجہ سے سندھ میں آٹےکا بحران شدید ہوا۔ پنجاب حکومت اپنی گندم کی سندھ میں فروخت پر پابندی عائد کردیتی ہے اور انہیں بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں گندم خریدنا پڑجاتی ہے۔

ممتاز شیخ
رینجرز کی تعنیاتی چھ ماہ قبل ہوتی تو آٹے کا بحران جنم ہی نہ لیتا:ممتاز شیخ

محکمہ خوراک وزراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ سندھ میں گزشتہ سال گندم کی پیداوار کا تخمینہ سات لاکھ ٹن لگایا گیا تھا مگر گندم کی پیداورا چھ لاکھ ٹن ہوئی۔ حکام کے مطابق گندم کو دسمبر، جنوری، فروری کے مہینوں کے لیے پاسکو کے گوداموں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے تاکہ چاول کی فصل کے بعد مارکیٹ میں گندم کی قلت کو پورا کیا جا سکے۔ یہ تین مہینے فلور ملز اور محکمہ خوراک کے حکام کے لیے چاندی کے مہینے مانے جاتے ہیں جبکہ عام صارفین کے لیے یہ تین مہینے آٹے کے بحران کے دن ہوتے ہیں۔

فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کےصدر اقبال داؤد پاک والا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آٹے کے بحران کا سبب گزشتہ مئی مہینے کے اندر گندم کی ایکسپورٹ اور آٹھ لاکھ ٹن سمگلنگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باہر بھیجی گئی گندم میں ساٹھ فیصد گندم صوبہ سندھ کی تھی کیونکہ ایکسپورٹرز کو سندھ سے گندم کی ایک بوری کا کرایہ پچیس روپیہ اور پنجاب سے ساٹھ اور ستر روپے کے درمیان پڑ رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو دی گئی رپورٹ پر عمل ہوتا اور گندم سکینڈل میں ملوث افراد کی گرفتاریاں ہوتیں تو کئی اراکین اسمبلی اور سیاستدان جیل میں ہوتے۔

سندھ میں ایک سو چالیس کے قریب فلور ملز ہیں جن کی ضرورت عام حالات میں اڑتالیس لاکھ گندم کی بوریاں ماہانہ ہوتی ہیں مگر حکومت خوراک اور زراعت کی جانب سے فلور مل مالکان کےمطابق انہیں سولہ لاکھ گندم بوریاں فراہم کی جا رہی ہیں۔

 آٹے کے بحران کا سبب گزشتہ مئی مہینے کے اندر گندم کی ایکسپورٹ اور آٹھ لاکھ ٹن سمگلنگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باہر بھیجی گئی گندم میں ساٹھ فیصد گندم صوبہ سندھ کی تھی کیونکہ ایکسپورٹرز کو سندھ سے گندم کی ایک بوری کا کرایہ پچیس روپیہ اور پنجاب سے ساٹھ اور ستر روپے کے درمیان پڑ رہا تھا۔
 
اقبال داؤد پاک والا

محکمہ خوراک و زراعت سندھ کے نگراں صوبائی وزیر اعجاز شاہ شیرازی کا کہنا ہے کہ سندھ میں آٹے کا بحران عارضی ہے اور دو تین دنوں کے بعد حالات معمول پر آجائیں گے۔

اعجاز شاہ شیرازی نے ٹھٹھہ سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے فلور ملز مالکان سے ملاقات کی ہےاور آٹا سستے داموں فروخت کرنےکی ہدایات جاری کردی ہیں۔گندم کی درآمد کے بعد ان کےمطابق حالات معمول پر آرہے ہیں۔

سندھ میں آٹےکا بحران گزشتہ ہفتے اس قدر شدید ہوگیا تھا کہ خوراک و زراعت کےصوبائی وزیر اعجاز شاہ شیرازی کے آبائی ضلع ٹھٹہ کی پیپلز فلور ملز دھابیجی پر ڈی سی او نے ذخیرہ اندوزی کی شکایات پر چھاپہ مارا اور ملز مالک شعیب میمن کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ فلور ملز مالکان نے ڈی سی او ٹھٹھہ عثمان پنہور کے تبادلے کا مطالبہ کیا تھا مگر صوبائی وزیر کی مداخلت پر وہ اپنےمطالبے سےدستبرادار ہوگئے۔

محکمہ خوراک وزراعت کے ذارئع کا کہنا ہے کہ آٹے کی قلت کے تین مہینے فلور ملز مالکان اور محکمہ خوراک وزراعت کےحکام کی کمائی کے مہینے تصور کیےجاتے ہیں۔اور گندم امپورٹ ہونےکےبعد دونوں فریقین کو جھگڑے سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں تھا۔

ملز مالکان اور محکمہ زراعت و خوراک کے اس رشتے کو ایک وکیل سہیل میمن منافع خوروں کی ملی بھگت یا گٹھ جوڑ قرار دیتے ہیں۔ سہیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ میں صارفین کی کوئی مضبوط تنظیم نہ ہونے کی وجہ سے لوگ آٹے کےلیے در در بھٹک رہے ہیں۔انہوں نےکہا کہ سندھ میں گندم کی اضافی پیداورا ہر سال ہوتی ہے مگر حکمرانوں کی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے سندھ میں آٹے کا بحران شدید ہوتا ہے۔

سندہ میں کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ ستائیس دسمبر کے سانحے کےبعد آٹے کے بحران میں نمایاں اضافہ ہوا۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماء ممتاز شیخ کےمطابق محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد چار دنوں تک آٹےاور گندم کی ترسیل متاثر ہوئی۔ان کے مطابق مارکیٹ میں موجود آٹا لوگوں نے غیریقینی حالات کی وجہ سے اپنے کوٹے سے زیادہ خرید کر رکھا۔ ممتاز کےمطابق آٹے کے بحران کا ایک سبب ستائیس دسمبر کے بعد کے حالات بھی ہیں۔

دوسری جانب کاشتکاروں کی ایک تنظیم سندھ آباد کار بورڈ کے رہنمال اسحاق مغیری کا کہنا ہے کہ گندم کے آٹے کے بعد سندھ میں چاولوں کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ستائیس دسمبر کے بعد مارکیٹ میں ہر چیز مہنگے داموں فروخت ہورہی ہے مگر حکام نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں چاول کی فصل ابھی مارکیٹ میں پہنچی ہے اور ابھی سے اگر نرخوں میں اضافہ رہا تو آنے والےمہینوں میں چاول کا بحران گندم کے بحران سے کم نہیں ہوگا۔

ان کا کہناتھا کہ آٹے کے بحران کی طرح ہر طرح کے بحرانوں کا حل رینجرز کی تعیناتی نہیں ہوتی ۔ان کا کہنا تھا کہ رینجرز سے لوگوں کی توقعات اتنی نہ وابستہ کروائی جائیں کہ لوگ رینجرز کے بغیر عام زندگی جینےکا تصور ہی نہ کر سکیں۔

 
 
معیشت معیشت اور بحران
’پاکستانی معیشت پر چندگروہوں کا قبضہ‘
 
 
آٹے، بجلی کی قلت
’حکومت کا کام قیمتیں اوپر نیچے کرنا نہیں‘
 
 
پنڈی میں دھماکے کے بعد کا منظر اچھی خبرکاانتظار
خود کش حملے ہی یا کوئی اچھی خبر بھی؟
 
 
معیشت سٹیٹ بینک رپورٹ
پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات میں اضافہ
 
 
ہنگاموں کی ڈائری
’جب اپنے ہی شہر اجنبی بن گئے‘
 
 
بی بی ہنگامے: سندھ میں آگ عوامی غصہ
آتشزنی اور لوٹ مار ذہنی انتشار کا نتیجہ ہے
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد