BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 January, 2008, 05:48 GMT 10:48 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’طالبان اور فرقہ واریت کا گٹھ جوڑ‘
 

 
 
احتجاجی مظاہرہ
فرقہ وارانہ خود کش حملوں میں ایک سو ستر افراد ہلاک ہو چکے ہیں
پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران فرقہ ورانہ تشدد میں بظاہرایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نوے کے عشرے کو پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں سنی اور شیعہ مسالک کے ماننے والوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے لحاظ سے ایک خونریز دہائی سمجھاجاتا ہے، جس کے دوران ملک بھر بالخصوص صوبہ پنجاب اور سندھ میں دونوں طرف سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

ان فرقہ ورانہ فسادات میں، جن کا اکثر اوقات الزام شیعہ اور سنی کالعدم شدت پسند تنظیموں پر لگایا جاتا ہے، زیادہ تر روایتی ہتھیاروں سے کام لیا جاتا رہا۔ مگر گزشتہ پانچ سالوں سے فرقہ ورانہ فسادات میں ’خودکش حملوں‘ کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کے بعد’دہشت گردی‘ کیخلاف شروع ہونے والی جنگ کے دوران مبینہ اسلامی شدت پسند عراق، افغانستان اور پاکستان میں خودکش حملوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں، مگر پاکستان میں دو ہزار تین کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عاشور کے جلوس پر جو خودکش حملہ کیا گیا اس سے ملک میں پہلی مرتبہ ’فرقہ ورانہ خوکش حملوں‘ کے سلسلے کا آغاز ہوا جو تاہنوز جاری ہے۔

فرقہ واریت
 اگر فرقہ واریت طالبان کی بظاہر زور پکڑتی ہوئی قوت کا حصہ بن گئی تو پھر پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ پر ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں
 

دو ہزار تین کے بعد دوہزار پانچ کے سوا ہر سال یعنی دو ہزار چار، چھ، سات اور آٹھ کو محرم الحرام کے دوران امام بارگاہوں اور ماتمی جلوسوں کو چھ مرتبہ مبینہ خوکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں ایک اندازے کے مطابق ایک سو ستر افراد ہلاک جبکہ تین سو پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ تمام حملے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ اور صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان میں کیے گئے، حالانکہ ان دونوں صوبوں میں شیعہ مسلک کے ماننے والوں کی تعداد صوبہ پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں کافی کم ہے۔

بظاہر ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران صوبہ پنجاب اور سندھ فرقہ ورانہ فسادات کے مرکز رہے تھےجبکہ رواں عشرہ میں یہ جنگ باالعموم صوبہ بلوچستان اور باالخصوص صوبہ سرحد اور کرم ایجنسی میں لڑی جارہی ہے، جو اس لحاظ سے بھی تشویشناک ہے کہ یہ خطہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں دن بدن اہمیت اختیار کر رہا ہے۔

امریکی میڈیا میں ان علاقے پر پر براہ راست امریکی حملے کی خبریں بھی گرم ہیں۔ قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں بظاہر منظم اور تربیت یافتہ شدت پسند سکیورٹی فورسز کے ساتھ متصادم ہیں اور کچھ ایسے شواہد بھی سامنے آرہے ہیں کہ فرقہ ورانہ تشدد میں ملوث بعض کالعدم تنظیمیں طالبان کی صفوں میں داخل ہوچکی ہیں۔

کوئٹہ میں عاشور کے جلوس پر پہلا خودکش حملہ کیا گیا

یہ کالعدم تنظیمیں طالبان کی سٹریٹیجک لوکیشن، عددی قوت اور جنگجویانہ مذہبی جنون سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ طالبان کی کارروائیوں میں فوقتاً فوقتاًان تنظیموں کی جانب سے مبینہ طور پر دی گئی تربیت اور مہارتوں کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔

اگر فرقہ واریت طالبان کی بظاہر زور پکڑتی ہوئی قوت کا حصہ بن گئی تو پھر پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ پر ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔

 
 
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستانی فوج کو تشدد کے مختلف واقعات سے نمٹنا پڑا ہے تشدد کی فہرست
حالیہ برسوں میں پاکستان میں تشدد اور ہلاکتیں
 
 
زخمیوں کے بیانات
’کرم ایجنسی میں بڑے پیمانے پر لڑائی‘
 
 
ہنگو سے رپورٹ
جیسے یہاں گھمسان کی جنگ ہوئی ہو۔۔۔
 
 
ایف ایم باڑہ میں نیا فساد
ایف ایم ٹیکنالوجی کا فرقہ ورانہ استعمال
 
 
اسی بارے میں
محرم، پینتیس اضلاع حساس
11 January, 2008 | پاکستان
کرم ایجنسی:12 ہلاک37 زخمی
19 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد