BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 February, 2008, 15:16 GMT 20:16 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’آئینی طور پر میں ابھی بھی جسٹس ہوں‘
 

 
 
خلیل رمدے
’سوال اداروں کا ہے، لوگوں کے حقوق کا ہےآ آپ آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت نہیں لا سکتے‘
جسٹس خلیل الرحمان رمدے کے لیے کوٹ، نیلے رنگ کی قمیض اور گہرے رنگ کی پتلون میں ملبوس ہونا ایک خوشی کی بات ہے۔

جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا ’تین ماہ سے میں نے پتلون اور کوٹ نہیں پہنا۔ چونکہ مجھے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی اس لیے میں گھر میں شلوار اور قمیض پہن کر پھرتا تھا۔ اس لیے میں مشکور ہوں آپ کا کہ آپ میرے گھر آئے اور مجھے پتلون اور کوٹ پہننے کا موقع ملا۔ میں بڑا اچھا محسوس کر رہا ہوں۔‘

اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نظر بندی کس قدر انسان کا حوصلہ پست کر دیتی ہے۔ اور جسٹس رمدے ان حالات میں تین نومبر دو ہزار سات سے رہ رہے ہیں۔

جسٹس رمدے نے اپنی یاد داشت کے ورق پلٹتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کھانے پر گئے اور واپسی تقریباً گیارہ بجے رات کو ہوئی۔

’تقریباً رات بارہ بجے ایک یونیفارم میں میجر میرے گھر آیا اور اور میرا پوچھا۔ میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو وہ ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا اور اس نے مجھے بتایا کہ میری رہائش گاہ سکیورٹی اہلکاروں کےگھیرے میں ہے اور میرے اور میرے خاندان کے افراد میں سے کوئی باہر نہیں جا سکتا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ پابندی ان کے تین سالہ پوتے پر بھی ہے جو دو ہفتے تک سکول نہ جا سکا۔

نیت صاف تھی
 ہمارا یہ خیال تھا کہ نو مارچ کو اٹھایا ہوا قدم نیک نیتی پر نہیں تھا
 
خلیل رمدے

جسٹس رمدے تین نومبر تک سپریم کورٹ کے جسٹس تھے۔ بلکہ وہ ابھی بھی اصرار کرتے ہیں کہ وہ جسٹس ہیں کیونکہ ان کو اور ان کے بارہ جسٹس صاحبان کو ہٹانا ایک غیر آئینی قدم تھا۔

’آئینی طور پر میں ابھی بھی جسٹس ہوں۔‘

رامدے نے صدر مشرف اور عدلیہ کے مابین جھگڑے میں اہم کردار ادا کیا جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو صدر نے معزول کر دیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور جولائی میں تیرہ رکنی بنچ نے ان کو بحال کر دیا۔ اس بنچ کی سربراہی جسٹس رمدے نے کی تھی۔

’ہمارا یہ خیال تھا کہ نو مارچ کو اٹھایا ہوا قدم نیک نیتی پر نہیں تھا۔‘

رمدے نے پچھلے تین ماہ اپنی لاہور کی رہائش گاہ پر پڑھنے اور لکھنے میں گزارے ہیں۔ اور ان کے کمرے میں ورزش کی مشین بھی ہے جو کہ انہوں نے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے رشتہ دار سے لی تھی۔

’میں باغ میں گھوم گھوم کر اتنا بور ہو گیا تھا اور مجھے ذیابیطس بھی ہے اس لیے ورزش بہت ضروری ہے۔‘

ایک دیوار پر خاندان کی تصاویر تھیں۔ ’یہ میرے سسر ہیں اور ان کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ انیس سو ستتر میں جنرل ضیاء الحق نے ان کو بھی معزول کیا تھا۔ میرے خیال میں جرنیلوں کے ہاتھوں معزول ہونا خاندانی روایت ہے۔‘

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
جسٹس خلیل رمدے نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کیا تھا

اگرچہ نیم فوجی دستے گھر کے باہر موجود نہیں لیکن ابھی بھی چار پولیس اہلکار موجود ہیں۔ رمدے کے باہر نکلنے پر وہ ہوشیار ہو گئے لیکن رمدے نے احتیاط کی کہ وہ سڑک پر قدم نہ رکھیں۔

ان کو صرف جمعہ کی نماز مقامی مسجد میں پڑھنے کی اجازت ہے اور ان کو دسمبر میں حج کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی۔

’مجھے ہوائی اڈے تک اور واپسی پر ہوائی اڈے سے گھر تک میں حفاظتی حصار میں رکھا گیا۔‘

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی صحافی کو ان سے ملنے کی اجازت دی گئی ہو۔

مستقبل کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کو اندازہ ہو گیا ہے کہ انیس سال پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں کام کر کے اب وہ کام پر نہیں جائیں گے۔

’جہاں تک میری نوکری کا سوال ہے مجھے کوئی خواہش نہیں ہے کہ میں نوکری پر واپس جاؤں۔ لیکن سوال اداروں کا ہے، لوگوں کے حقوق کا ہے اور آپ آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت نہیں لا سکتے۔‘

یہ جنگ اب عدلیہ اور وکلاء اکٹھے لڑ رہے ہیں۔

بار ایسوسی ایشنز پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

رمدے کی رہائش گاہ پر کئی گاڑیاں کھڑی ہیں جن میں ایک پرانی مرسڈیز بھی شامل ہے جو کہ بغیر ٹائروں کے اینٹوں پر کھڑی ہے۔

رمدے نے مسکراتے ہوئے کہا ’میں اس گاڑی کو دیکھتا ہوں اور اس کی میرے کیریئر سے بڑی مشابہت ہے۔‘

 
 
وکلاء کی ہڑتال
’اقتصادی مشکلات کے باوجود تحریک جاری‘
 
 
جسٹس افتخار ’عدلیہ کی بحالی‘
امریکہ سے ہیومن رائٹس واچ کا مطالبہ
 
 
حنا جیلانی ’دھاندلی ہو چکی ہے‘
حنا جیلانی کا امریکی کانگریس کو انتباہ
 
 
وکلاء کا احتجاج ’لچک نہ دکھائیں‘
آزاد عدلیہ کے بغیر منصفانہ انتخابات ناممکن
 
 
’انکل شکریہ۔۔۔‘ ’انکل شکریہ۔۔۔‘
افتخار چوہدری کی بیٹی کا ججوں کو خط
 
 
ججوں کی ملاقات
جسٹس رمدے کو حلف دلوانے کی کوشش؟
 
 
اسی بارے میں
سندھ: پی سی او کے تحت بارہ ججز
04 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد