BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 25 February, 2008, 10:42 GMT 15:42 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
خود کش حملہ: سرجن جنرل ہلاک
 

 
 
سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق احمد بیگ
سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق احمد بیگ۔
پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیر کی سہہ پہر ایک خودکش حملے میں فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق احمد بیگ کی گاڑی پر مبینہ خودکش حملے میں سرجن جنرل سمیت آٹھ افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوگئے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

عسکری اعتبار سے راولپنڈی پاکستان کا انتہائی اہمیت کا حامل شہر ہےہاور گزشتہ چند ماہ کے دوران اس شہر میں فوجی اہلکاروں پر چھ خودکش حملے ہوچکے ہیں جن میں ستر سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو پچاس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

لفٹیننٹ جنرل مشتاق احمد بیگ کا تعلق صوبہ پنجاب میں ضلع چکوال کے گاؤں لہڑ سلطان پور سے تھا۔ لاہور میں کِنگ ایڈورڈز میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے جنوری انیس سو چھہتر میں فوج کے شعبۂ طب میں کمیشن حاصل کیا۔ انہیں آٹھ فروری دو ہزار سات کو لفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاک فوج کے شعبۂ طب کا سربراہ بنا دیا گیا۔

لفٹیننٹ جنرل مشتاق احمد بیگ پاک فوج کے ان اعلیٰ افسران میں سے تھے جو انتہائی متوسط گھرانے سے ہونے کے باوجود فوج کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچے۔ فوج میں خدمات کے پیشِ نظر انہیں فوجی اعزاز ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے اپنے سوگواران میں اپنی اہلیہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو چھوڑا ہے۔

نادرا کے دفتر کے قریب ہونے والے اس حملے میں 20 افراد زخمی ہوئے جن میں سے چار کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ اس حملے میں سرجن جنرل کے ڈرائیور اور گارڈ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ خودکش حملہ آور نادرا کے دفتر کے باہر بیٹھا ہوا تھا۔ جس وقت سرجن جنرل کی گاڑی ٹریفک سگنل کے قریب آ کر رکی تو اس نے قریب جا کر خود کو اڑا دیا۔

حملے کے فورا بعد پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر وہاں سے شواہد اکھٹے کرنے کے بعد تحقیقات شروع کر دیں۔ اس حملے میں نو گاڑیاں شدید متاثر ہوئیں جبکہ کئی کے شیشے ٹوٹ گئے۔

پولیس کے مطابق اس حملے میں اسی قسم کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے جو کہ راولپنڈی میں ہونے والے گزشتہ حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو جائے حادثہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر بھی ملا ہے اور پولیس کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور کی عمر بیس سے پچیس سال کے درمیان ہے۔ اس خودکش حملے میں استعمال ہونے والے بارود کے نمونے قبضے میں لیکر لیبارٹری میں بھجوا دیئے گئے ہیں۔

فوجی اہلکاروں نے مبینہ خودکش حملہ آور کے سر کو قبضے میں لیکر اسے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں بحھجوا دیا ہے جبکہ اس خودکش حملے میں زخمی ہونے والوں کو ملٹری ہسپتال اور سی ایم ایچ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس نے نادرہ سوووفٹ سینٹر کے باہر لگے ہوئے کلوز سرکٹ کیمرے کا ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا ہے اور اس ریکارڈ کی چھان بین بھی کی جا رہی ہے۔ پولیس اہلکار جائے حادثہ پر موجود افراد اور دکانداروں کے بیانات بھی قلمبند کر رہے ہیں۔

ایک عینی شاہد حسین رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کی آواز سن کر وہ مال روڈ پر واقع اپنے دفتر سے دھماکے کی جگہ پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو ایک سیاہ رنگ کی گاڑی اور مسافر بردار سوزوکی بری طرح تباہ تھیں۔ ’ان گاڑیوں کی حالت دیکھ کر اور اس سڑک پر رش کا اندازہ لگا کر ہلاکتیں بہت بڑھ سکتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہاں پر کھڑے لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک شخص جلدی سے سڑک پار کرنے کے لیے آگے بڑھا اور اپنے آپ کو اڑا دیا۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ وہ نادرہ سینٹر کی طرف جا رہا تھا کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں ایک گاڑی ہوا میں بلند ہوئی اس کے بعد انسانی اعضاء دور دور تک بکھرتے ہوئے دکھائی دئیے۔

واضح رہے کہ یہ حالیہ انتخابات کے بعد ملک میں ہونے والا پہلا خودکش حملہ ہے۔ راولپنڈی میں گزستہ ستمبر سے سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف پانچ بڑے جان لیوا حملے ہوچکے ہیں۔

اس سے قبل فوج کی میڈیکل کور کی بس پر جنوری میں حملہ ہوا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
نوشہرہ: خودکش حملہ، چھ ہلاک
15 December, 2007 | پاکستان
دو خود کش حملے، تیس ہلاک
24 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد