BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 April, 2008, 11:54 GMT 16:54 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
اسلام آباد کے کرکٹر’طالب‘
 

 
 
مدارس کرکٹ
ٹورنامنٹ میں روایتی انداز میں میچ کمنٹری کی بجائے صرف سکور کا اندراج کیا جاتا ہے
پاکستان میں پہلی مرتبہ سکولوں، کالجز اور کلبوں کی ٹیموں کی بجائے مختلف دینی مدارس کی ٹیمیں کرکٹ گراؤنڈ میں ایک دوسرے کے مدِمقابل اتری ہیں۔

یہ منفرد کرکٹ ٹورنامنٹ اسلام آباد کے ایمبیسی روڈ کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے جس میں اسلام آباد میں قائم دینی مدارس میں سے چوبیس مدارس کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

آٹھ روزہ ڈے اینڈ نائٹ سافٹ بال بین المدارس کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد اسلام آباد میں ایک کاروباری ادارے نے کیا ہے جو کہ چار اپریل سے گیارہ اپریل تک جاری رہے گا۔

اس ٹورنامنٹ میں ہر روز آٹھ آٹھ اوورز کے چار میچ کھیلے جاتے ہیں اور جو ٹیم میچ ہارتی ہے وہ ناک آؤٹ سسٹم کے تحت ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں روایتی انداز میں میچ کمنٹری کی بجائے صرف سکور کا اندراج کیا جاتا ہے۔

کاروباری ادارے کی نمائندگی کرنے والے طاہر عنایت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے پہلے کھیلوں سے متعلق مختلف پروگرام منعقد کروا چکے ہیں لیکن دینی مدارس کی پوری کلاس نظر انداز ہو رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دینی مدارس کو کھیلوں میں موقع دیا جائے تو یہ بہتر انداز میں اپنے مدارس کی نمائندگی کر سکتے ہیں اور ان کو عام زندگی کے مرکزی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی۔

طاہر عنایت نے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد کے تمام رجسڑڈ مدارس سے رجوع کیا اور ان کو کافی مثبت جواب ملا اور تقریباً تمام مدارس کھیلنے کے لیے تیار تھے تاہم ’انتظامیہ کی طرف سے صرف آٹھ دن کے لیے گراونڈ ملا ہے اس لیے جن چوبیس مدارس نے پہلے فارم پر کر کے بھیجے ان کو ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا گیا‘۔

طاہر عنایت نے بتایا کہ جیتنے والی ٹیم کو ایک لاکھ روپے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کو پچاس ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ان کو اس ٹورنامنٹ کے حوالے سے مثبت جواب ملے وہاں کچھ مخالفت بھی ہوئی۔ اس ٹورنامنٹ کے خلاف وفاق المدارس عریبہ نے ایک پریس کانفرس بھی کی تھی اور اسے غیر اسلامی فعل قرار دیا تھا اور اس کے نتیجے میں ٹورنامنٹ میں کھیلنے سے چار ٹیمیوں نے معذرت کر لی۔

طاہر عنایت نے کہا کہ اس طرز کا پروگرام دینی مدارس کے لڑکوں کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ خواتین کے مدارس کے مابین بیڈمنٹن اور ٹیبل ٹینس کے میچ بھی کھیلے جا رہے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں دس مدارس کی ٹیمیں شامل ہیں۔

مدارس کرکٹ
اس ٹورنامنٹ کو دیکھنے کے لیے عام تماشائی نہ ہونے کے برابر تھے جس سے ان مدارس کا عام زندگی کے دھارے میں نمائندگی برائے نام ہونے کا اندازہ ہوتا ہے

تاہم انہوں نے ان مدارس کے نام اور ٹورنامنٹ کی جگہ کا نام بتانے سے انکار کیا اور کہا کہ لڑکیوں کے مدارس نے اس ٹورنامنٹ میں حصہ ہی اس شرط پر لیا ہے کہ ان مدارس کے نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

رنگ برنگی وردی پہنے جامعہ سلفیہ کی ٹیم کے کپتان امجد علی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے انہوں نے کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں کھیلا ہے اور یہ ان کے لیے ایک اچھا تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی ایسے ٹورنامنٹ کا انعقاد کروانا چاہیے۔

گراؤنڈ میں موجود جامعہ نعمیہ رضویہ کی ٹیم انتظامیہ سے خاصی ناراض نظر آ رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کو دو روز سے میچ کھیلنے کے لیے بلایا جا رہا ہے لیکن وہ ایک بھی میچ نہیں کھیلے ہیں۔ جامعہ نعمیہ رضویہ ٹیم کے کپتان محمد سعید نے بتایا کہ ’ کل سارا دن ہم میچ کھیلنے کے انتظار میں بیٹھے رہے لیکن ہمیں کوئی میچ کھیلنے کو نہیں دیاگیا اور آج بھی ہمیں ٹرخایا جا رہا ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ انتظامیہ ان کے ساتھ ایسا کیوں کر رہی ہے‘۔ ٹیم کے ایک اور کھلاڑی نے بتایا کے انتظامیہ نے ان کی ٹیم کو وردی بھی کسی اور ٹیم کی دی ہے۔

طاہر عنایت کا کہنا تھا کہ بہت سارے مدارس یہ ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے رابطہ کر رہے ہیں لیکن سب کا کھیلنا ممکن نہیں۔ جب ان سے پو چھا گیا کہ ان کو پھر کھیلنے کے لیے بلوایا کیوں گیا ہے تو انہوں نے گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ’ کھیلنے کا تو ہر ایک کا دل کرتا ہے‘۔

گراؤنڈ میں مختلف مدارس سے تعلق رکھنے والے بہت کم تعداد میں تماشائی بھی موجود تھے جو اپنی اپنی ٹیموں کو داد دے رہے تھے۔ تاہم اس ٹورنامنٹ کو دیکھنے کے لیے عام تماشائی نہ ہونے کے برابر تھے جس سے ان مدارس کی عام زندگی کے دھارے میں نمائندگی برائے نام ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
’مقصد اچھا ہے، طریقہ غلط‘
30 April, 2007 | پاکستان
جہاد پر اکسانے کا الزام
26 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد