http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 04 April, 2008, 12:27 GMT 17:27 PST

نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاڑکانہ

بھٹو کی برسی اور بدلتے سیاسی رنگ

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی باقاعدہ تقریبات شروع ہونےمیں کوئی دوگھنٹے باقی تھے، ہزاروں کارکن بھٹو کے آبائی قبرستان گڑھی خدابخش میں جمع ہو چکے تھے اور پارٹی کی مرکزی قیادت نوڈیرو ہاؤس میں اجلاس کے بعد ڈنر کر رہی تھی کہ گرج چمک کے ساتھ بارش شروع ہوگئی۔

لاڑکانہ اور بالائی سندھ میں عام طور پر اپریل میں بارشیں کم ہوتی ہیں مگر تین اور چار اپریل کی درمیانی شب اتنی تیز بارش ہوئی کہ باقاعدہ اعلان کیے بغیر ہی تقریبات ملتوی ہوگئیں۔

پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے آبائی گھر نوڈیرو ہاؤس میں برسی کے موقع پر اقتدار جیسی رونق تھی۔ بڑی اور مہنگی گاڑیوں کی ایک قطار نوڈیرو ہاؤس کے مرکزی دروازے کے باہر لگی ہوئی تھی ۔ان میں سے پیپلزپارٹی کے نئے وزراء اور مشیران کی آمد ہو رہی تھی ۔انتظامات تمام حکومتی پروٹوکول کے ساتھ اتنے سخت کردیئے گئے تھے کہ نوڈیرو جیسا چھوٹا سا شہر عملا پولیس کنٹرول میں تھا۔

برسی کی تقریبات کےانتظامات کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ سال گڑھی خدابخش میں کیا ہوا اپنا وعدہ نبھایا ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر بینظیر بھٹو کی غیر موجودگی میں یوسف رضا گیلانی نے اجتماع کی صدارت کی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ذوالفقار بھٹو کی انتیسویں برسی حکومتی سطح پر منائی جائےگی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی تقریبات اپنی جگہ مگر پیپلزپارٹی کی قیادت کو نوڈیرو میں متحدہ قومی موومنٹ سے کی گئی مفاہمت پر اٹھنے والے اعتراضات کا سامنا رہا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نےمیڈیا سے بات چیت کرنے سے گریز کیا جبکہ انہیں بارشوں کی وجہ سے عوامی اجتماع سے خطاب کرنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔

میڈیا کی تمام نظریں نوڈیرو ہاؤس میں جاری پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور وفاقی کونسل کےمشترکہ اجلاس پر جمی تھیں جس کی بریفنگ پارٹی کے جنرل سیکریٹری جہانگیر بدر نے دی۔اطلاعات کی وفاقی وزیر شیری رحمان اور نجکاری کے وفاقی وزیر نوید قمر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

جہانگیر بدر سمیت پی پی رہنماؤں کا لب و لہجہ ظاہر ہے بدلہ بدلہ سا تھا۔انہوں نے بریفنگ کےدوران جاری بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا تذکرہ تک نہ کیا اور مہنگائی پر بات کرنے سے گریز کیا۔

میڈیا بریفنگ میں جہانگیر بدر سے زیادہ تر سوالات متحدہ پی پی مفاہمت کے متعلق پوچھے گئے۔ جہانگیر بدر نے بتایا کہ پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ میں ایک ایجنڈے یعنی ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے پر بحث ہوئی مگر انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کی تسلی کےلیے بتانا چاہتا ہوں کہ متحدہ سے مفاہمت پر پارٹی میں کسی نے تحفظات کا اظہار نہیں کیا اور تمام اراکین نے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
سینکڑوں کارکنان گاڑیاں اور جائے پناہ نہ ملنے کی وجہ سے حفاظتی حصار توڑ کر بھٹو کے مزار کے اندر داخل ہوگئے
جہانگیر بدر نے سیاسیات کی سائنس سمجھاتے ہوئے کہا کہ سیاست ممکنات کا فن ہے، چند منٹ پہلے بارش نہیں ہورہی تھی اب بارش ہورہی ہے تو سیاست بھی اسی طرح ہے ہم نئے ابھرنے والےحالات پر بات کریں گے۔

جہانگیر بدر کو شاید علم تھا کہ ان کی جماعت کے سندھ سے وابستہ عام کارکنان میں متحدہ سے کی گئی مفاہمت پر تحفظات اور اعتراضات ہو سکتےہیں۔ انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ متحدہ سے مفاہمت کے بعد ان کے لیے ملک میں کون سی مخالف جماعت باقی رہ گئی ہے۔

نوڈیرو ہاؤس سے بارش میں بھیگتے ہوئے ہم گڑھی خدا بخش کے لیے روانہ ہوئے، راستے میں گاڑیوں کا ایک ہجوم تھا جو گڑھی سے واپس آ رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کے چھوٹے بڑے رہنماؤں نے بارش کے بعد اپنی نئی پرانی گاڑیوں میں پناہ لے لی مگر پیپلزپارٹی کے سینکڑوں عام کارکنان بارش میں بھیگتے ہوئے پیدل جائے پناہ تلاش کر رہے تھے۔

بارشوں کی وجہ سے برسی کےلیے تیار کیےگیے خصوصی سٹیج اور شامیانے گرگئے جبکہ مشاعرے میں شرکت کے لیے آئے ہوئے احمد فراز سمیت تمام شعراء واپس اپنے اپنے ہوٹلوں کی طرف روانہ ہوئے۔

سینکڑوں کارکنان گاڑیاں اور جائے پناہ نہ ملنے کی وجہ سے حفاظتی حصار توڑ کر بھٹو کے مزار کے اندر داخل ہوگئے اور انہوں نے رات بھر وہاں قیام کیا۔ صبح وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی آمد سے قبل مزار کی صفائی کےبعد پولیس نے حفاظتی حصار دوبارہ بنالیا ۔

پھانسی کی سزا پانے والے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی انتیسیویں برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش بھٹو میں چند چیزیں پہلی مرتبہ ہوئی ہیں۔ انیس سو اناسی میں جنرل ضیاء کے مارشل لاء کےدوران پھانسی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی برسی ہے جب ان کی جماعت کے ایک غیر بھٹو رہنما آصف زرداری اور غیر بھٹو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تمام معاملات کی باگ ڈور سنبھالی۔

پہلی مرتبہ گڑھی خدابخش میں اتنے سخت حفاظتی انتظامات کیےگئے تھے کہ پولیس کےہیلی کاپٹرز فضائی جائزہ لے رہےتھے۔اور پہلی مرتبہ پی پی کارکنان کو حفاظتی دروازوں یعنی واک تھرو گیٹ سے گزر کر پنڈال میں داخل ہونا پڑا۔

گڑھی خدابخش میں پہلی مرتبہ کسی فوجی آمر کے خلاف نعرے نہیں لگے اور کسی آمر سے حساب لینے کی بات نہیں ہوئی۔ جبکہ گڑھی خدابخش میں یہ نظارہ بھی پہلی مرتبہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کا وفد بھٹو کی مزار پر حاضری دینے پہنچا ہے۔

جہانگیر بدر شاید درست کہہ رہے تھے کہ سیاست موسموں کی طرح ہے، دونوں بدلنےمیں دیر نہیں کرتیں۔

چار اپریل کی صبح روایتی طور پر بینظیر بھٹو کے ناراض بھائی مرتضٰی بھٹو کی جماعت پیپلز پارٹی شہید بھٹو کا جلسہ گڑھی خدابخش میں ہوا۔ مرتضی کی بیوہ غنویٰ بھٹو نے آصف زرداری کو شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہوئے کہا کہ کون سا بش یا کونڈولیزا رائس گڑھی پہنچ رہے تھے کہ مزار کےدروازے اور رستے بند کیے گئے ہیں۔